Home / Socio-political / یہ کس کا لہو پھر کون مرا ،بدنام حکومت بول ذرا

یہ کس کا لہو پھر کون مرا ،بدنام حکومت بول ذرا

یہ کس کا لہو پھر کون مرا ،بدنام حکومت بول ذرا
اطہر مسعود وانی جی ایچ کیو میں جمعرات کو منعقدہ کور کمانڈرز کانفرنس میں ملک کے اندر اور سرحدوں پر سلامتی کی صورتحال کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ شرکاء  اجلاس کو سلامتی اور امن و امان کے بارے میں بریفنگ بھی دی گئی۔آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ایک روز پہلے دورہ کراچی اور وہاں دی جانے والی بریفنگ کے بارے میں اپنے عسکری رفقاء کو آگاہ کیا۔میڈیا میں شائع خبروں کے مطابق بعض گروپوں کی طرف سے کراچی اور کوئٹہ میں فوج متعین کرنے کے مطالبات اور دستوری تقاضوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ آئندہ عام انتخابات کے دوران حساس علاقوں میں فوج متعین کرنے کے بارے میں الیکشن کمشن کی ضروریات بھی زیر غور آئیں۔کانفرنس کوبتایا گیا کہ وزارت دفاع اور جی ایچ کیو اس ضمن میں الیکشن کمشن کے ساتھ رابطہ میں ہیں۔ افغان سرحد کی صورتحال، شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں، فاٹا میں ترقیاتی کاموں اور کنٹرول لائن کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔ ترجمان آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس میں پیشہ وارانہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔کور کمانڈرز کانفرنس میں افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونیوالی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔
پاکستان میں جاری واقعات کے حوالے سے یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ملک میں عوام کا قتل عام جاری ہے۔دہشت گردی ہو،بغاوت ،بدامنی،بیروانی سازش ہو یا کچھ اور لیکن نشانہ عوام بن رہے ہیں ۔سیکورٹی فورسز کے جاں بحق ہونے والوں کا نقصان بھی عوامی نقصان ہی ہے کہ یہ عوام کا ہی حصہ ہیں۔براہ راست بھی اور باالواسطہ بھی۔ قبائلی علاقوں، خیبرپختونخواہ،بلوچستان،کراچی ہر جگہ عوام کی لاشوں کے جنازے اٹھ رہے ہیں۔اب تو ایسے کسی ایک واقعہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد درجنوں سے بڑھ کر سینکڑوں تک پہنچ رہی ہے۔وہ معصوم بے گناہ مارے جا رہے ہیں جنہیں یہ معلوم بھی نہیں کیا خطے میں کیا سازشیں چل رہی ہیں اور کون کونسی تباہیاں اور بربادیاں ان کے مقدر میں لکھی جا رہی ہیں۔ انہی دنوںبلوچستان میں ہزارہ قبیلے کے افراد پر یکے بعد دیگے دو تین بڑے حملوں میں سینکڑوں بے گناہوں کو جنونی انداز میں نہایت بیدردی سے ہلاک کیا گیا۔چند ہی دن پہلے کراچی میں اہل تشیع کی آبادی عباس ٹائون میں دو ہولناک دھماکوں میں پچاس معصوم شہری ہلاک اور بڑی تعدا د میں زخمی ہوئے۔ایک تصویر میں اسی دھماکے میں ہلاک ہونے والے چند ماہ کے ایک بچے کی تصویر دیکھی جو کفن میں لپٹا صوفے پر تھا۔اس معصوم بچے کا چہرہ دیکھ کر سخت سے سخت طبعیت کے انسان کا د دل بھی دہل جاتا ہے۔معمول کی دہشت گردی کے بعد اب اس انداز میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے کہ پاکستان میں اہل تشیع کو خاص طور پر دہشت گرد کاروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ملک میں قتل و غارت گری کی لہر جو جاری ہے اسے کسی کی دین کہنا کیا مناسب ہو گا کہ یہ ہماری ہی وہ پالیسیاں ہیں جو اپنے بھیانک نتائج ہمیں دکھا رہی ہیں۔
ملک میں جاری ہلاکت خیزی معمول بنتی جا رہی ہے۔حکومت سمیت ملک کے تمام ادارے اس صورتحال میں نمایاں طور پر ناکام نظر آ رہے ہیں۔عوام کو یہ تو پتہ ہے کہ طالبان ،غیر ملکی ایجنٹس،فرقہ وارانہ گروپس ان دہشت گرد کاروائیوں میں ملوث ہیں لیکن اب تک یہ بات عوام کو بتانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ آخر طالبان کو کون چلا رہا ہے؟ فرقہ وارانہ گروپس کس کی مدد وحمایت سے خفیہ ایجنسیوں،سیکورٹی فورسز ،حکومت کے لئے قابو سے باہر ہیں؟
حکومت نہ صرف یہ کہ عوامی توقعات سے کوسوں دور ہیں بلکہ حکومتی پالیسیوں میں عوامی/شہری مفاد کی ترجیح بعد از قیاس ہو چکی ہے۔ملک میں عام انتخابات کا وقت قریب ہے ۔ہماری خرابیاں ،آئین و قانون کی شخصیات و اداروں کے سامنے بے بسی کی صورتحال کے نظارے بدستور موجود ہیں۔الیکشن سے پہلے عبوری حکومت کے قیام میں اس طرح کی رکاوٹیں بھی نمایاں ہیں کہ یہی عبوری حکومت ملکی حالات کی خرابی اور ’’اصلاح‘‘ کے نام پر اپنی معیاد سے زیادہ دیر رہتے ہوئے جمہوری حکومت کے تسلسل میں رکاوٹ ڈال سکے۔موجودہ حکومت کے پانچ سالہ بدترین انتظام کے باوجود جمہوری حکومت کے تسلسل کا جاری رہنا ہی اس ملک کی بقاء اور کسی قدر اصلاح کی واحد امید ہے۔
یہ کیسے دیکھا جائے کہ حکومت عوامی مفاد میں کام کر رہء ہے یا نہیں؟اس وقت تک کی صورتحال کی مطابق ملک کی ابتر معاشی صورتحال کا تمام بوجھ عوام پر ڈالنے کی پالیسی حاوی ہے۔ 4مارچ کو یہ خبر شائع ہوئی کہ وفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے جبکہ عوام کے لئے بھوک ،ننگ،ظلم ،زیادتی  لازمی قرار دی دی گئی ہے ۔ملک کو بربادیوں کی اس راہ پہ ڈالنے والے کسی امیر ملک کی طرح کی تنخواہیں ،مراعات پا رہے ہیں جس میں اضافہ اسی تیزی سے ہو تا جاتا ہے جتنی ان کی تمنائیں بڑہتی جاتی ہیں۔ عوام کو ذلت و تکلیف کی پاتال میں اتارا جا رہا ہے۔عوام کی ان تکالیف اورمصائب کا احساس کرنے والا نظر نہیں آتا۔سرکاری حکومتی عہدیدارا،افسران کی تنخواہوں،مراعات میں ’دن دوگنی رات چوگنی ‘ رفتار سے اضافہ ہوتا جاتا ہے۔کئی ادارے ملکی بدتر معیشت سے قطع نظر شاہانہ انداز سے مستفید ہو رہے ہیں۔عوام میں یہ عمومی تاثر ہے کہ واپڈا،سوئی گیس،پیٹرولیم،فون کمپنیاں،بنک اور اس طرح کے عوامی خدمات و سہولیات کے ادارے حکومتی آشیر باد سے عوام کو بری طرح اپنی لوٹ کھسوٹ کانشانہ بنا  رہے ہیں۔ جب عوام دو وقت کی روٹی کے لئے ترسنے لگیںاور دوسری طرف ملک کو چلانے والوں کے معیار زندگی پرکشش ہوں تو اس ملک میں نہ تو عوامی مفاد کو مقدم رکھا جا سکتا ہے اور نہ ہی قومی مفادات کا تعین ممکن رہتا ہے۔
گزشتہ دنوں چند صحافیوں کو فوج کی طرف سے بریفنگ کا اہتما م کیا گیا۔اس بریفنگ کے بعد چند کالم نگاروں نے ایسا انداز اپنایا کہ مارشل لاء دور کی تابعدار ،خوشامدانہ صحافت کی یاد تازہ ہو گئی۔ ارباب اختیار ہوش کے ناخن لیں،عوام کو تباہی و بربادی نہیں ،امن دیں، خوشحالی دیں،لیکن افسوس ان کابڑا مقام ان کو گراوٹ کی راہ پہ پابند رکھے ہوئے ہے۔انسان کوذبح کیا جا رہا ہے،گولیوں کانشانہ،دھماکوں میں اڑایا جا رہا ہے،حکومت بھی تو ایسے ظالموں سے کم نہیں جو خود سرکاری خرچے پہ شاہانہ زندگی گزارتے ہیں اور عوام کو معاشی بدحالی اور ذلت کا شکار کر رکھا ہے۔ملک و عوام کے ’’سیاہ و سفید‘‘ کے مالک آخر کوئی اشارہ تو دیں کہ ملک اور عوام کو کس مقام بدتر کی پاتال میں اتارنا منزل قرار پائی ہے؟

About admin

Check Also

یہ دن دورنہیں

امریکہ نے پاکستان کی سرزمین پر پہلاڈرون حملہ ۱۸جون ۲۰۰۴ء کوکیا۔ یہ حملے قصر سفیدکے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *