Home / Socio-political / ”۶۴ سا ل بعد“کیا ہم آزاد ہیں

”۶۴ سا ل بعد“کیا ہم آزاد ہیں

۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو جب پا کستان دنیا کی سب سے زیا دہ مسلم آبادی والی ریاست کی حیثیت سے نقشے پر ابھرا تھاتو با با ئے قوم نے لا رڈ موٴنٹ بیٹن کو پہلا گورنر جنرل بنا نے سے اس لئے ا نکار نہیں کیا تھا کہ وہ خود اس عہدے کے خوا ہاں تھے ‘بلکہ اس لئے کہ ا پنی قوم اور اقوام عالم کو یہ با ور کروایا جا ئے کہ اب بر طا نوی راج ختم ہو گیا اور سلطانی جمہور کا زما نہ آ گیا ہے اور ملک کے فیصلے ملک کے اندر ہوں گے۔یہ سیا سی آزادی کی علا مت تھی ۔اس کے ایک سال بعد جب یہ مسئلہ در پیش ہوا کہ آیا پا کستان کے طے شدہ تما م اثا ثے پہلے کی طرح Reserve Bank of Indiaمیں جمع رہیں یا اس کا اپنا بینک ہو ‘قائد اعظم نے فیصلہ کیا کہ آزاد ملک پا کستان کا اپنا آزاد بینک ہو نا چا ہئے‘اس طرح انہوں نے اقتصادی آزادی کا اعلان کر تے ہوئے اسٹیٹ بینک آف پا کستان کے قیام کا اعلان کیااور کر اچی میں بو لٹن ما رکیٹ میں واقع تا ریخی عمارت میں پا کستان کے پہلے اسٹیٹ بینک کا افتتاح کر تے ہوئے فرما یاکہ میں ایسا معاشی نظام نہیں چا ہتا جس میں امیر‘امیر تراور غریب‘غریب تر ہو جائے۔انہوں نے سودی نظام کو استحصا لی نظام قرار دیتے ہوئے ما ہرین اقتصادیات اور علما ئے دین کو تلقین کی کہ وہ اسلام کے اصولوں پر مبنی بینکا ری کے قیام کیلئے تحقیق اور غورو خوض کریں۔اسی طرح انہوں نے سا بقہ مشرقی پا کستان کی بندرگاہ چٹا گانگ میں استحصال کے خاتمے اور فلا حی مملکت کے قیام پر زور دیا۔

ا نہوں نے پا کستان کی خارجہ پا لیسی کے با رے میں رہنما اصول متعین کیا اور کہا کہ پا کستان دنیا کے ہر ملک سے برابری کی بنیاد پر دوستا نہ تعلقات کاخواہاں ہے لیکن ساتھ ہی مظلوم قوموں کی حمائت بھی جا ری رکھے گا۔یہ صرف سیا سی بیان نہیں تھا جیسا کہ سیا ست میں کسی نو وارد طالع آزما نے عدلیہ کی بحالی پر کئے گئے وعدے سے مکرتے ہوئے دیا تھا ‘بلکہ قائد اعظم نے فلسطین‘جنوبی افریقہ اور انڈونیشیا کے عوام کی جدوجہد آزادی کی کھل کر برملا حمائت کی ‘نسلی امتیازاور نو آبادیات کے خاتمے کیلئے قرار واقعی اقدامات بھی کئے۔اگر یہ کہا جائے کہ وہ صرف مسلم ممالک کی آزادی کے حامی تھے تو جنوبی افریقہ کی اکثریت تو غیر مسلم تھی تو پھر انہوں نے اس کی حمائت کیوں کی؟قائد اعظم نے پا کستان کے قبائلی علاقوں میں سلطنت بر طا نیہ کے زما نے سے تعینات فوج کو ان کی چوکیوں سے واپس بلا لیااور کہا کہ اب ہمارے قبا ئلی بھا ئی ہماری شمال مغربی سرحد کی حفا ظت کریں گے۔

لیکن ا نہیں کیا معلوم تھا کہ کوئی خود سا ختہ محا فظ پا کستان ا مریکی قصر سفید میں بیٹھے فرعون کے حکم پر ان ویران چوکیوں پر جو اب کھنڈر بن گئیں تھیں ‘پھر فوج تعینا ت کر دے گا جیسے بر صغیر کے بر طا نوی آقاوٴں نے حریت پسندوں کی بستیوں پر سا مراج کی گرفت مضبوط کر نے کیلئے کر رکھا تھاجہاں سیا سی ایجنٹ چیدہ چیدہ قبا ئلی سرداروں کو رشوت دیکر ان کی وفا دا ریاں خرید لیتے تھے۔یہ کا روبار اس وقت اپنے عروج پر پہنچ گیاجب ایک فاسق کمانڈو نے اپنے غاصبانہ اقتدار کو طول دینے کیلئے چند ڈالروں کے عوض قبائلی عوام کو کچلنے کیلئے ا مریکی سی آئی اے کو وہاں اڈے بنا نے کی اجا زت دے دی جس کی توثیق ہماری جمہوری حکومت نے بھی کررکھی ہے۔اس سے قبل خود سا ختہ یا مغرب سا ختہ دختر مشرق (مغرب) نے ا مریکی خفیہ پو لیس ایف بی آئی کو پا کستان کی سر زمین پر تھا نے قائم کر نے کی اجازت د ے دی تھی۔

کیا یہ ستم ظریفی نہیں ہے کہ بانی پاکستان قا ئد اعظم تو انگریز گورنر جنرل گوارہ کر نے کو تیار نہیں تھے اور ایک ایک کرکے نو آبا دیات کی با قیات کو مٹاتے جا رہے تھے‘جبکہ ان کی وفات کے تقریباً نصف صدی کے بعدآنے وا لے حکمران استعمارکے غیر ملکی گماشتوں اور جا سوسوں کی میز با نی کر رہے تھے۔ اب نو بت بہ ایں جا رسیدکہ کٹھ پتلی حکمران اپنے عوام سے خاص کر غیور قبائلیوں سے اس قدر خا ئف ہیں کہ اپنے غاصبانہ قبضے کو بچا نے کی خا طر غیر ملکیوں اور صہیونی و صلیبی عناصر کو بلا رہے ہیں ۔کیا کوئی تصور کر سکتا ہے کہ کسی حکومت کو خود اپنے ہی عوم سے ‘اپنے دین سے‘ اپنے اعتقادات سے‘اپنے نظریات سے خطرہ محسوس ہو رہا ہوجس سے خود کو محفوظ ر کھنے کیلئے ا نہیں غیر ملکی ایجنٹ اور غیر ا سلا می نظریات در آمد کرنا پڑیں ؟

قا ئد اعظم کی ۱۱/ اگست کی تقریر کا بعض لوگ اس طرح حوالہ دیتے ہیں کہ جیسے انہوں نے زندگی میں پہلی با ریہ تقریر کی ہے اور ان کی با قی تقا ریر منسوخ ہو گئیں ۔یہ لوگ قا ئد اعظم کے متعدد بیا نات کو نظر اندز کر دیتے ہیں جن میں ا نہوں نے واضح طور پر تواتر اور تکرار کے ساتھ یہ واضح کر دیا تھا کہ پا کستان ایک اسلا می فلا حی ریاست ہوگی‘ساتھ ہی قوم کو یہ بھی بتا دیا تھا کہ اسلام میں پا پا ئیت یا برہمنیت جیسا کو ئی طبقہ نہیں ہے جسے ریاست کی اجارہ داری کا کوئی پیدائشی حق حاصل ہو۔جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ قا ئد اعظم ایک سیکولر ریاست چا ہتے تھے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ا نہوں نے پا کستان کا مطالبہ محض اس لئے کیا تھا کہ بر صغیر میں دو سیکولر ریا ستیں ہوں ‘ایک پاکستان اور دوسری اس کے پڑوس میں ہندوستان؟پھر دو ریاستوں کی ضرورت ہی کیا تھی؟

اگر پا کستان حق خود ارادیت کے نتیجے میں وجود میں آیا تو اس میں اور بھارت میں اسلام کا عنصر ا نہیں ایک دوسرے سے ممّیز کرتا ہے۔کون اس تاریخی حقیقت سے انکار کر سکتا ہے کہ برصغیر کے مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلما نوں نے جذبہ یگانگت کے تحت مطا لبہ پاکستان کی حمائت کی تھی لہندا یہ کہنا کہ مطا لبہ پا کستان کی عوامی حمائت کے محرکات معاشی تھے ‘قطعاً غلط ہے۔کیونکہ مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلما نوں کو قیام پا کستان سے کون سے معاشی فوائد کی توقع تھی ؟وہ تو بیچارے ہندو اکثریت کے یرغمال بن گئے ‘البتہ میں ان جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کی نیتوں کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا جنہوں نے راتوں رات یونینسٹ پا رٹی چھوڑ کر حکمران مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی تا کہ ان کی مر اعات با قی رہیں۔

میں بھا رت سے نقل مکا نی کر نے والے ان مفاد پرستوں کے بارے میں کچھ نہیں کہوں گا جوحصول جائیداد ‘ما ل و دولت اور جاہ وحشم کے لا لچ میں پا کستان آئے بلکہ پاکستان کی ایک لسا نی جماعت کے ا کژر ہنما ایسے بھی ہیں جو قیام پاکستان کے موقع پر ہندوستان میں ہی مقیم رہے ،اس بات کا جائزہ لیتے رہے کہ پاکستان کے معاشی اور سیاسی حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں ۔اپنے کاروبار اور دوسری تمام املاک کو اچھے داموں فروخت کر کے پاکستان میں مہا جرکا لیبل لگا کر پاکستانی مایہ میں خوب ہاتھ رنگے۔پاکستان کی بیورو کریسی کے توسط سے پا کستان کی نوکر شاہی اور دوسرے ملکی اہم اداروں میں کا لے انگریزوں کی طرح بطور حکمران قابض ہو گئے اور آج کھلے عام ملک کی لوٹ کھسوٹ کے علاوہ پا کستان کیلئے اپنے بزرگوں کی قربانی کا ذکر بھی بڑی بے شرمی کے ساتھ کر تے ہیں ۔

ان مذکورہ طبقا ت کے محرکات یقینامعاشی تھے لیکن خود پا کستان میں بسنے والے کروڑہا عوام نے اسلا می جذبے سے سرشار ہو کر جد وجہد پا کستان میں اپنا کردار ادا کیا تھا ۔ان میں کتنے کٹ مرے‘کتنی عصمتیں لٹ گئیں ‘لیکن ان کے پائے استقلال میں ذرہ بھر بھی لغزش نہ آئی۔ذرا پیچھے مڑ کر مشرقی پنجاب ہی کو دیکھ لیں جہاں سوا لاکھ سے زائد مسلمان بچیاں ہندوٴوں اور سکھوں نے اغوٴا کر لیں اور آج بھی یقینا آسمان کی طرف منہ اٹھا کر نجانے کس حال میں پا کستان کی سلا متی کیلئے دعا گو ہونگی۔یہ جذبہ ایما نی نہیں تھا تو اور کیا تھا ؟اس کی پشت پر کربلا کی روایت تھی‘اس کی آکسیجن تحریک خلا فت کا نظریہ تھا۔کیا مسلم عوام نے جس وطن کیلئے اتنی قر با نیا ں دیں‘وہ اس لئے کہ ان کے ملک پر امریکہ کا تسلط قا ئم ہو جا ئے ‘ان کو امریکی انتظامیہ کا ایک ادنیٰ سا اہلکار یہ بتائے کہ فلاں کو وزیر اعظم بناوٴ‘فلاں کو مشیر وزارت داخلہ ‘فلاں کو ملکی سلا متی کا مشیراورفلاں کو ہما رے ہاں سفیر مقرر کرو ؟

کیا قا ئد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کے اثا ثےReserves Bank of India سے نکال کر اس لئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں رکھے تھے کہ سٹی بینک کا ایک Country Managar درآمد کر کے اس کو ملک کا وزیر اعظم بنا دیا جائے جو پا کستان کے قومی اثاثوں کو اونے پونے داموں میں فروخت کر کے اپنا کمیشن کھرا کر کے رات کے اندھیرے میں گم ہو جائے؟

کیا قائد اعظم نے کشمیر میں استصواب رائے عا مہ کی حمایت اس لئے کی تھی کہ کوئی طالع آزما آ کر یہ کہے کہ اب رائے شما ری سے متعلق سلا متی کو نسل کی تما م قراردادیں غیر ضروری ہو گئی ہیں !قا ئد اعظم نے قبائلی بستیوں سے فوج ہٹا ئی لیکن کما نڈو مشرف نے قصر سفید کے فرعون کے حکم پرصرف فوج کشی کر دی اور ایک لا کھ دس ہزار فوج پاک بھارت سر حد سے ہٹا کر قبائلی علا قوں اور افغان سرحد پر لگا دی اورموجودہ حکومت بھی انہی پالیسیوں پرعمل پیراہے!پا کستان کو بیرونی حملے سے بچا نے کیلئے نہیں بلکہ مقبوضہ افغانستان میں امریکی پٹھو حکومت کو افغان عوام پر مسلط کر نے کیلئے‘تا کہ افغانستان پر امریکہ کا قبضہ بر قرار رہے۔اب اگر بھارت جوکبھی کبھار کنٹرول لا ئن کی خلاف ورزی کر تاہے ‘پا کستان پر حملہ کر دے تو کیا ہو گا؟ہما ری دفاعی لائن جو ڈیونڈر لا ئن تک پھیل جا ئے گی تو مشرقی محاذ پر کون لڑے گا ؟امریکہ․․․․․․․؟کیا جب نپو لین ‘ہٹلر‘برژنیف دو محاذوں پر نہیں لڑ سکے تو پا کستان کے جنرل پاک افغان اور پاک بھارت سرحد وں کی حفاظت کر سکیں گے؟

کیا بھا رت سے تمام متنازعہ امور پر کو ئی خفیہ مفا ہمت ہو چکی ہے جو حکومت نے ایک لاکھ دس ہزار فوج پاک بھا رت سرحد سے ہٹا کر پاک افغان سر حد پر لگا دی ہے؟قا ئد اعظم کی وفات کے چھ سال بعدہی نو کر شاہی نے اپنی سر زمین پر امریکہ کو فوجی اڈے دے دئیے جہاں سے سو ویت یونین کے خلاف جا سوسی پر وازیں جا ری رہیں جس کے با عث روس پاکستان کو اپناد شمن سمجھنے لگا اور کشمیر میں رائے شماری کی قرار داد کے خلاف حق تنسیخ استعمال کر کے اسے کالعدم بنا دیا۔اسی طرح مشرقی پا کستان سے فوجوں کی واپسی کی قرارداد کو بھی منسوخ کر کے بھارتی فوج کو مشر قی پا کستان پر قبضہ کر نے کا بھر پور موقع فرا ہم کر دیا۔اپنی ناکامی چھپانے کیلئے استعمار کے گما شتے اس کے ٹوٹنے کا ذکر کر نے لگے ہیں اور اپنے شیطانی دما غوں سے اس کے نقشے بنا نے لگے ہیں۔آزادی کا یہ لمحہ قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہے‘یہ ہمیں تر غیب دے رہا ہے کہ ہم تحریک پا کستان کے جذبے اور عزم کو از سر نو زندہ کریں اور

ملک کو استعمار کے تسلط سے آزاد کرائیں چاہے وہ این آر او کا لباس پہن کر ہم پر حکومت کر رہا ہو۔

بروزاتوار۱۴ رمضان المبارک ۱۴۳۲ھ۱۴/اگست ۲۰۱۱ء

لندن

About admin

Check Also

یہ دن دورنہیں

امریکہ نے پاکستان کی سرزمین پر پہلاڈرون حملہ ۱۸جون ۲۰۰۴ء کوکیا۔ یہ حملے قصر سفیدکے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *