Home / Socio-political / ہوشیارباش!

ہوشیارباش!

سمیع اللہ ملک

۱۳جولائی بروزبدھ کوبھارت کے سب سے بڑے تجارتی شہرممبئی میں ایک دفعہ پھرتین بم دھماکوں میں ۲۱ہلاک اور۱۴۱/افرادزخمی ہوگئے ہیں۔اگرچہ تادم تحریرکسی بھی تنظیم یاگروپ نے ان دہماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن بھارتی انٹیلی جنس نے انڈین مجاہدین اورلشکرطیبہ پرشک کااظہارکیاہے۔اس واردات کے منصوبہ سازوں نے پاک بھارت وزارائے خارجہ مذاکرات سے چنددن پہلے اورآئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشاکے انتہائی اہم دورے واشنگٹن کے موقع کے وقت کاانتخاب واضح کررہاہے کہ وہ پاک بھارت ا من بات چیت کوسبوتاژ کرنے پرتلے ہوئے ہیں جوڈھائی سال سے زائدعرصے تک معطل رہنے کے بعدبحال ہوئے ہیں اوردوسری طرف پاک امریکاتعلقات جوانتہائی کشیدگی کے بعد دوبارہ بہتر ی کی طرف مائل بہ پرواز ہونے کی کوشش کررہے ہیں ممکن ہے ان میں رخنہ ڈالنے کی ایک بھرپورکوشش کی گئی ہو۔

حال ہی میں امریکاکی طرف سے پاکستان کی فوجی امدادبندہونے پربھارت کی طرف سے بہت خوشی کااظہارکیاگیاتھااوربعض تجزیہ نگار ان دہماکوں کوپاکستان پرامریکی دباوٴ بڑھانے سے بھی تعبیرکررہے ہیں۔بھارتی وزیرداخلہ کایہ کہنامعنی خیزہے کہ یہ حملے حالیہ دنوں میں ناکام بنائے گئے دہشتگردی کے منصوبوں اورعسکریت پسندگروپ”بھارتی مجاہدین“کے اراکین سمیت دوسرے شدت پسندوں کی گرفتاری کے خلاف ردعمل ہوسکتے ہیں۔اس سے اس موٴقف کی تائید ہوجاتی ہے کہ بھارت میں ایسے انتہاپسندموجودہیں جونہ صرف پاک بھارت امن کے شدیدخلاف ہیں بلکہ پورے خطے کے امن کیلئے خطرہ ہیں اوراگربھارت نے انہیں کنٹرول نہ کیاتویہ اس کے اپنے وجودکیلئے بھی خطرہ بن جائیں گے۔ ابھی حال ہی میں سمجھوتہ ایکسپریس میں پاکستانی مسافروں کوزندہ جلانے اورکئی دوسرے مقامات پربم دھماکوں کے جرم میں بھارتی فوج کے حاضرسروس کرنل پروہت اوراس کے ساتھیوں کوگرفتارکیاگیاہے اوراس تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ پولیس آفیسرکو۲۶نومبر۲۰۰۸ء کے ممبئی سانحے میں ایک سازش میں قتل کردیاگیا۔

برصغیرکے عوام اوردانشوروں کیلئے ان حلقوں کی ریشہ دوانیوں سے چوکنارہناازبس ضروری ہے جو۱۳جولائی۲۰۱۱ء کے ممبئی دہماکوں کوپاک بھارت امن مذاکرات کوپٹری سے اتارنے یااسلام آباداورنئی دہلی میں سے کسی ایک پرمخصوص مقاصدکے دباوٴبڑھانے کیلئے استعمال کرناچاہتے ہیں۔یہ بات اس بناء پراور بھی ضروری ہوگئی ہے کہ بعض ملکوں کے اہم رہنماوٴں کی طرف سے ۲۶نومبر۲۰۰۸ء کے ممبئی سانحے کے بعدایسے ہی کسی واقعے کے رونماہونے کی صورت میں ایسے عزائم کااظہارکیاجاچکاہے جوجنوبی ایشیا اورعالمی امن کے تقاضوں سے کسی بھی طرح ہم آہنگ نہیں ہیں۔جب بھی بعض مخصوص قوتیں جنوبی ایشیامیں کشیدگی پیداکرناچاہیں گی وہ اس نوع کے مزیدالمیے تخلیق کرنے میں تامل نہیں کریں گی۔ پاکستان خاص طورپر کچھ عرصے سے ایک نفسیاتی جنگ کاہدف بناہواہے جسے بعض طاقتیں اپنی بالادستی برقراررکھنے اوراپنی شرائط منوانے کاسب سے موٴثرہتھیارتصورکرتی ہیں۔ ریمنڈ ڈیوس کے دہشتگردوں سے رابطے سمیت خطرناک سرگرمیاں سامنے آنے کے بعدواقعات کاجوسلسلہ چل نکلاہے اس کے پیش نظر تجزیہ کاریہ محسوس کررہے تھے کہ نہ صرف ۲۶نومبر۲۰۰۸ء جیسے ممبئی سانحے جیساکوئی سنگین واقعہ رونماہوسکتاہے بلکہ ایسے سانحوں اورحادثوں کاتسلسل سامنے آسکتاہے جن کامقصد دوردرازبیٹھے ہونے عناصرکے منصوبوں کی تکمیل کیلئے دباوٴ ڈالناہوگا۔

ادھرپاکستان کی فوجی امدادبندہونے کی اصل وجہ بالآخرسامنے آہی گئی۔پینٹاگون کے ترجمان ڈیولیپن نے کہاہے کہ پاکستان تربیتی عملے اورامریکی اہلکاروں کوویزے دے تو امداد بحال ہوسکتی ہے۔پہلے ریمنڈڈیوس اوربعدمیں ایبٹ آبادمیں۲ مئی کو امریکی یکطرفہ آپریشن میں اسامہ کی ہلاکت کے بعدپاکستان کے سیکورٹی اداروں نے امریکی اوربرطانوی فوج کے تربیتی عملے کے علاوہ کافی تعدادمیں امریکی ٹرینرزاورکنٹریکٹرزکوملک سے واپس بھیجنے کانہ صرف اعلان کیابلکہ ان کوملک چھوڑنے پرمجبورکردیاتھا۔غیرملکی اطلاعات کے مطابق تربیتی عملہ اوردیگرغیرملکی اہلکارپاکستان سے خفیہ معلومات اپنے ملکوں کے خفیہ اداروں اورپاکستان میں ڈرون حملوں میں کردارااداکررہے تھے۔اس پابندی کے بعدامریکی حکومت نے پاکستانی فوج پراپنادباوٴ بڑھانے کیلئے آٹھ سوملین ڈالر کی ادائیگی روک لی ہے اس کے ساتھ ہی عالمی بینک بھی پاکستان کیلئے منظورشدہ قرضوں کی ادائیگی روک چکاہے تاکہ پاکستان پرمزیددباوٴ ڈال کراپنے ناجائزمطالبات کی تکمیل کروائی جاسکے۔لیون پنیٹانے کہاتھاکہ امریکاپاکستان کوبلینک چیک نہیں دے سکتاجس کے جواب میں آرمی چیف جنرل کیانی نے اسی لب ولہجہ میں جواب دیتے ہوئے کہاکہ ہم آئندہ اپنے وسائل سے” اپنی“ جنگ لڑیں گے۔نائن الیون کے بعدشائدپہلی بارعسکری قیادت نے امریکاکے خلاف ایسے غم وغصے کااظہارکیاہے اورموجودہ دہشتگردی کی جنگ کوامریکی جنگ قراردینے کاواضح اشارہ دیاہے۔

وزریردفاع احمدمختارکے بیان میں امریکاکے بارے میں یہ حقیقت بے نقاب ہوئی ہے کہ” آٹھ سو ملین ڈالر کی یہ رقم آئندہ کیلئے نہیں بلکہ جوآپریشنزمکمل ہوچکے ہیں یہ ان کی ادائیگی کیلئے تھی جودہشتگردی کے خلاف شراکت داری میں امریکاکی طرف واجب الاداتھی اوریہ رقم پاکستان شمالی علاقوں میں فوجی کاروائیوں پرخرچ کرچکاتھا۔درحقیقت یہ امریکا پر پاکستان کاقرض تھاجواس نے اصولی طورپرپاکستان کواداکرناتھا۔دراصل امریکااب اپنی فیس سیونگ کیلئے اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری پاکستان پرڈالناچاہتاہے ۔ امریکیوں کویہ جان لیناچاہئے کہ پاک فوج کے ساتھ ایسی کوئی ڈیل نہیں کرسکتے جیسے کہ وہ نوآبادیاتی فوجیوں کے ساتھ کرتے چلے آرہے ہیں۔پاکستان ایک نیوکلیرطاقت کاحامل ملک ہے اور اس کی فوج دنیاکی بہترین تربیت یافتہ ہے جس نے سوات باجوڑاوروزیرستان جیسے علاقوں میں اپنی مہارت کاسکہ منواتے ہوئے دوبارہ وہاں امن قائم کرتے ہوئے سول عملداری میں دیاہے جبکہ امریکااوراس کے اتحادی اپنے پوری طاقت کے ساتھ ابھی تک افغانستان میں ناکام چلے آرہے ہیں حالانکہ افغانستان کے زمینی حقائق ہمارے قبائلی علاقوں اورسوات سے کچھ مختلف نہیں“۔

ادھرامریکی میڈیاکے ایک مشہوراخبارواشنگٹن پوسٹ نے اپنے اداریے میں اوبامہ انتظامیہ کوشدیدتنقیدکانشانہ بناتے ہوئے کہاہے کہ امریکانے مایوسی کے عالم میں پاکستانی قیادت پردباوٴ ڈالنے کیلئے اعلانیہ محاذآرائی کاراستہ اختیارکرتے ہوئے افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلاء کے اعلان شدہ پروگرام کوکھٹائی میں ڈال دیاہے جس سے جہاں پاکستان میں عدم استحکام اورانتہاپسندی کوتقویت مل سکتی ہے وہاں امریکی سلامتی کوبھی شدیدخطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔امریکاکے خلاف جذبات پہلے ہی سے پاکستان میں موجودہیں اورامریکاکے ساتھ تعاون کے حامی لوگ پہلے ہی اپنے آپ کومحصورمحسوس کرتے ہیں،اس طرح پاکستان کی مزاحمت میں اضافہ ہوجائے گا۔کرسچن سائنس مانیٹر لکھتاہے کہ افغان صدرحامدکرزئی کے بھائی احمدولی کرزئی طالبان کے ہاتھوں ہلاکت کی وجہ سے جنوبی افغانستان میں نیٹوکی پیش قدمی کے بعدحاصل شدہ فوائدکوخطرہ لاحق ہوسکتاہے ۔

واشنگٹن ٹائمزنے لکھاہے کہ امریکا،یورپی اتحاد،اقوام متحدہ اورروس ایسی راہ کی تلاش میں ہیں جس کے ذریعے فلسطین اوراسرائیل کے مابین براہِ راست مذاکرات دوبارہ شروع ہوں۔این این آئی کے مطابق امریکی ماہرین نے کہاہے کہ پاکستان امدادمعطل ہونے کے باوجود دباوٴ قبول نہیں کرے گا۔امریکی دفترخارجہ کے پاکستان افیئرزکے ایک عہدیدارجان سپائیکرمین نے امریکی میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ گزشتہ چھ سے آٹھ ماہ میں کچھ واقعات کی وجہ سے پاکستان سے ہمارے تعلقات مشکل ترین مراحل سے گزررہے ہیں۔ منگل کواسلام آبادمیں پاکستان کے جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل خالدشمیم وائیں اورامریکی سینٹرل کمانڈکے سربراہ جنرل جیمز میٹس کے درمیان ہنگامی ملاقات کے اگلے دن ہی آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشاواشنگٹن امریکاروانہ ہوگئے جہاں انہوں نے سی آئی اے کے قائم مقام ڈاریریکٹرمائیکل مولن، ڈاریکٹرمائیکل مورل اور سی آئی اے کے سربراہ جنرل پیٹریاس سمیت اعلیٰ امریکی عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں جن میں پاکستان کیلئے فوجی امدادکی معطلی،اسامہ کی ہلاکت کے بعدپیداہونے والی صورتحال ،دہشتگردی کے خلاف جنگ ،انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے ،یکطرفہ خفیہ آپریشن کوفوری طورپربندکرنے ،شمسی ایئربیس خالی کرنے،ڈرون حملوں سے پیداہونے والی صورتحال اورگرفتارڈاکٹرشکیل آفریدی (جس نے ہیپاٹائٹس کی جعلی مہم چلاکراسامہ کے اہل خانہ کے ڈی این اے نمونے حاصل کئے تھے)اورخطے میں سیکورٹی کی صورتحال سمیت دیگراہم امورپرتبادلہ خیال کیاگیا ۔ان ملاقاتوں میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں اورشدت پسندوں کے خلاف پاک فوج کے آپریشنزبھی زیربحث آئے۔

واشنگٹن میں احمدشجاع پاشا اورامریکی حکام کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران دونوں جانب سے ایک دوسرے کی مجبوریاں سمجھنے کی کوشش کی گئی۔پاکستان کی جانب سے یہ باورکرایاگیاکہ امریکااس خطے کے زمینی حقائق کومدنظررکھے اوردباوٴ ڈالنے کے ہتھکنڈے سے پرہیزکیاجائے کیونکہ یہ طریقہ کارماضی میں بھی پاک امریکاکے تعلقات کونقصان پہنچاچکاہے ۔اتحادی افواج کے سربراہ جنرل پیٹریاس نے جمعرات کو جنرل کیانی سے ملاقات کی جہاں امریکی عہدیداروں کے بیانات پراظہارناپسندیدگی کے ساتھ ساتھ موجودہ زمینی حقائق پرتبادلہ خیال ہوا۔ علاوہ ازیں خطے میں سلامتی کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے پاکستان اورامریکاکی مشترکہ کوششوں کوسابقہ سطح پرواپس لانے کے موضوع پربات چیت ہوئی اورپاکستان سے ڈومور کے مطالبات کویکسر بھلانے کابھی کہاگیا۔

امریکی پالیسی ساز،فوجی کمانڈراورتھنک ٹینکس اب یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ افغانستان کی جنگ کبھی بھی نہیں جیت سکتے اوراگرپاکستان اس جنگ سے علیحدگی اختیارکرلے توامریکا کواس خطے میں ذلت آمیزشکست کاسامناہوسکتاہے۔عسکری قیادت نے امریکاکویہ باوربھی کرایاہے کہ دہشتگردی کی جنگ میں امریکاکاساتھ دینے پرسب سے زیادہ خسارہ پاکستان کے حصے میں اورفائدہ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے اٹھایاہے۔ ایک اوربات جوہماری عسکری قیادت کے سامنے ہے وہ امریکاکی بھارت نوازی ہے اوریہ عمل امریکی سابق صدرکلنٹن کے دورسے شروع ہواتھااورپھراوباماکی بھارت یاترابھی اسی کاحصہ تھی جس کامقصد اسے چین کے مقابلے پرلاناتھا۔امریکاکی بھارت نوازی سے ہی بھارتی فوجی سربراہ کوپاکستان کودھمکی دینے کی جرأت ہوئی کہ ممبئی دہماکوں کے ملزموں کے حصول کیلئے پاکستان پربراہِ راست سٹرائیک کی جاسکتی ہے جس کاآرمی چیف جنرل کیانی کوفوری مسکت جواب دیناپڑاتھا۔یہ بات قابل ذکرہے کہ جنرل کیانی پہلے ہی حکومت سے کہہ چکے ہیں کہ فوجی امدادسول منصوبوں کیلئے مختص کردی جائے جس کامقصداس امداد کو مسترد کرناہے۔

ہمارے صاحبانِ اقتدارکی دلچسپی کی کیفیت خزانے اورخارجہ امور کے وزراء کی عدم موجودگی سے واضح ہے اورابھی حال ہی میں سٹیٹ بینک کے گورنر بھی موجودہ حکومت سے اختلاف کرتے ہوئے مستعفی ہوگئے ہیں،وزارتِ خزانہ کے کئی سیکرٹری تبدیل کئے جاچکے ہیں ۔کرپشن کے معاملات پرعدلیہ سے اختلافات عروج کوپہنچ چکے ہیں۔ملک کے سب سے بڑے شہراورملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کراچی کے حالات کوجان بوجھ کرخراب کیاجارہاہے۔سارے ملک میں لاء اورآرڈرکی صورتحال نے ملک میں انارکی پیداکردی ہے لیکن ایوان اقتدارمیں براجمان اب بھی اپنے اقتدارکوطول دینے کی سازشوں میں مصروف ہیں لیکن اس کے باوجودبڑی دلسوزی کے ساتھ یہ مشورہ دیناضروری سمجھتاہوں کہ افغانستان سے غیرملکی فوجوں کے انخلاء کے پروگرام پرعملدرآمدکے دوران اوراس خطے اوروطن عزیزپرپڑنے والے اثرات سے غفلت نہ برتی جائے ۔امریکانے ویتنام سے جاتے ہوئے اردگردکے ملکوں کوجیسی پیچیدہ صورتحال سے دوچارکردیاتھاہمارے لئے ایسی صورتحال سے بچنے کیلئے اپنے گھرکوٹھیک رکھنابہت ضروری ہے ۔اس تناظرمیں ملکی بقاء کی

خاطر ہمیں اپنے تمام اہم اداروں میں کلیدی تبدیلیوں (Fresh Start)سے بھی گریزنہیں کرناچاہئے ۔

About admin

Check Also

یہ دن دورنہیں

امریکہ نے پاکستان کی سرزمین پر پہلاڈرون حملہ ۱۸جون ۲۰۰۴ء کوکیا۔ یہ حملے قصر سفیدکے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *