Home / Articles / وہ ہند میں سرمایہ ملت کا نگہبان

وہ ہند میں سرمایہ ملت کا نگہبان

تحریر :۔ محمد احمد ترازی

mahmedtarazi@gmail.com

حضرت مجدد الف ثانی(971 ھ 1034 ھ) دسویں صدی ہجری کے نہایت ہی مشہور عالم و صوفی بزرگ تھے،آپ کا اسم گرامی شیخ احمد سرہندی تھا اور آپ کا سلسلہ نسب 31واسطوں سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے،آپ سرہند،ہندوستان میں پیدا ہوئے،والد گرامی شیخ عبد الاحد ایک ممتاز عالم دین اور صوفی تھے،صغر سنی میں ہی قرآن پاک حفظ کر کے اپنے والد سے علوم متداولہ کی تعلیم حاصل کی،پھر سیالکوٹ جا کر مولانا کمال الدین کشمیری سے معقولات کی تکمیل کی اور اکابر محدثین سے فن حدیث حاصل کیا، آپ سترہ سال کی عمر میں تمام مراحل تعلیم سے فارغ ہو کر درس و تدریس میں مشغول ہوگئے،تصوف میں سلسلہ چشتیہ کی تعلیم اپنے والد سے پائی اور سلسلہ نقشبندیہ کی تعلیم دہلی جاکر خواجہ باقی باللہ سے حاصل کی، آپ کے علم و بزرگی کی شہرت اِس قدر پھیلی کہ روم،شام،ماوراءالنہر اور افغانستان وغیرہ تمام عالم اسلام کے مشائخ علماءاور ارادت مند آکر آپ سے مستفیذ ہونے لگے،آپ طریقت کے ساتھ شریعت کے بھی سخت پابند تھے ،آپ نے ہندوستان میں تصوف کا نقشبندی سلسلہ متعارف کرایا ۔

حضرت مجدد الف ثانی مطلقاً تصوف کے مخالف نہیں تھے،ہاں آپ نے ایسے تصوف کی مخالفت ضرور کی جو شریعت کے تابع نہ تھا،قرآن و سنت کی پیروی اور ارکان اسلام پر عمل ہی آپ کے نزدیک کامیابی کا واحد راستہ ہے،مغل بادشاہ اکبر کے دور میں بہت سی ہندوانہ رسوم و رواج اور عقائد اسلام میں شامل ہو گئے،بادشاہ نے ہندوستان میں آزادی مذہب کی آڑ میں اسلام کے روشن اصولوں کو چاک کر ڈالا اور ایک نیا دین”دین الٰہی“ ایجاد کیا،تو آپ نے اپنے مکتوبات میں اِن بدعات کی شدید مخالفت کی جس کی وجہ سے آپ کو دور ابتلاءسے بھی گزرنا پڑا،آپ نے سلاطین وقت کی خلاف شرع حرکات کی کھلم کھلا مخالفت کی اور افضل جہاد کا فریضہ سرانجام دیا،قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں مگر حق بات کہنے سے گریز نہ کیا۔علامہ اقبال نے حضرت مجدد الف ثانی کی انہی خدمات کا ذکر اپنے اِن اشعار میں کیا ہے ۔

گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے

جس کے نفس گرم سے ہے گرمی احرار

وہ ہند میں سرمایہ ملت کا نگہبان

اللہ نے بروقت کیا جس کو خبردار

حضرت مجدد الف ثانی نے اسلام کی حفاظت اور تقویت کا انقلاب آفریں کارنامہ سر انجام دیاجو رہتی دنیا تک کےلئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے،حضرت مجدد الف ثانی مسلکاً حنفی اور مشرباً نقشبندی تھے،آپ 27 صفر 1034ھ میں انتقال کر گئے اورسر ہند میں طلوع ہونے والا علم و عرفاں کا یہ سورج ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا ۔

زیر نظر کتاب”ارمغان امام ربانی جلد سوم“حضرت مجدد الف ثانی کی حیات و خدمات کے حوالے سے” 33ویں قومی امام ربانی مجدد الف ثانی کانفرنس“منعقدہ”سماع ہال داتا دربار لاہور“ میں پیش کردہ علمی و تحقیقی مقالات کا مجموعہ ہے،جسے ڈاکٹر محمد ہمایوں عباس شمس صاحب نے مرتب کیا ہے،کتاب میں ممتازماہر تعلیم اور اہل علم ودانش ڈاکٹر محمداسحاق قریشی، پروفیسر قاری مشتاق احمد،پروفیسر محمداقبال مجددی،ڈاکٹر محمد ہمایوں عباس شمس،ڈاکٹر حافظ محمد سجاد،ڈاکٹر حافظ محمد افتخار احمد،ڈاکٹر محمد اکرم ورک،پروفیسر راغب الیاس شاہ ہاشمی،پروفیسر محمد عظیم فاروقی کے بعنوان ”علوم شرعیہ کی ترویج میں حضرت مجدد الف ثانی کی کوششیں اور ثمرات،تصوف روح اسلام،عوارف المعارف مکتوبات امام ربانی کی روشنی میں،لطائف المدینہ،عمدة الاسلام،اصلاح باطن و تزکیہ نفس مکتوبات امام ربانی کی روشنی میں،اثباة النبوة کے ادبی محاسن،تعلیم و تربیت اور اصلاح احوال حضرت مجدد الف ثانی کا منہج و اسلوب،حضرت مجدد الف ثانی کا طریق تربیت،ایصال ثواب مکتوبات کے آئینے میں“جیسے علمی اور فکر انگیز مقالے شامل ہیں ۔

کتاب میں محمد ناظم بشیر نقشبندی کا سابقہ کانفرنسز میں پیش کیے جانے والے مقالات کے عنوانات پر ایک معلوماتی مضمون بھی شامل ہے،اس کے علاوہ مجموعے میں مکاتیب کے عنوان سے مسعود ملت پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد کے ماہر نیازیات مورخ و محقق میاں محمدصادق قصوری اور صاحبزادہ بدر الاسلام صدیقی کے نام لکھے گئے وہ 39مکتوبات بھی شامل ہیں جو حضرت مجدد الف ثانی کے احوال و آثار پر ہونے والے کام اورنئی جہتوں کو ظاہر کرتے ہیں،یہ مکتوبات ظاہر کرتے ہیں کہ امام ربانی پر لکھا گیا لٹریچر دنیا کے کن کن ممالک تک پہنچ چکا ہے،حقیقت یہ ہے کہ حضرت مجدد الف ثانی کے افکارو نظریات کو سمجھنے کیلئے اہل قلم نے جتنا لٹریچر آپ کی زندگی پر لکھا صوفیانہ ادب میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔

یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے،جس میں ماہر رضویات ڈاکٹر مسعود احمد جیسے ممتاز اہل قلم اور حضرت صوفی غلام سرور نقشبندی مجددی کے قائم کردہ ادارے ”مجدد الف ثانی سوسائٹی لاہور و شیر ربانی اسلامک سینٹر سمن آباد“ سر فہرست ہیں،صوفی صاحب نے 33سال قبل امام ربانی کے پیغام اور مجددی انقلاب کو عام کرنے کیلئے اس ادارے کی بنیاد رکھی تھی جسے اُن کے صاحبزادگان غلام مصطفےٰ سرور،جنید سرور اور مرید باصفا ناظم بشیر نقشبندی نے آج بھی جاری رکھا ہوا ہے،اس ادارے کے تحت”ارمغان امام ربانی جلد سوم “ کی خوبصورت اشاعت حضرت مجدد الف ثانی کے مشن اور افکارو نظریات کو عام کرنے کی ایک قابل ستائش کوشش ہے،جس کیلئے صاحب مولف اور جملہ اراکین مبارکباد کے مستحق ہیں،کتاب شیر ربانی اسلامک سینٹر،شیر ربانی روڈ،چوک شیر ربانی،21 ایکٹرسکیم نیا مزنگ سمن آباد،لاہور فون نمبر 3004299321 سے حاصل کی جاسکتی ہے ۔

٭٭٭٭٭

About admin

Check Also

غزل

اردو غزل کے چند نکات

پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین  اردو غزل  کے چند  نکات دنیا کی تمام زبانوں میں …

One comment

  1. شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی کے بارے میں علامہ محمد اقبالؒ نے فرمایا ہے: حاضر ہوا میں شیخ مجدد کی لحد پر وہ خاک کہ ہے زیر فلک مطلع انوار اقبالؒ کہتے ہیں کہ سرہند شریف میں مجدد صاحبؒ کے مزار پر حاضر ہوا تو میں نے دیکھا کہ سرہند کی مٹی جہاں مجدد صاحبؒ کا مزار ہے، وہ مٹی آسمان کے نیچے نور کے طلوع ہونے کی جگہ ہے۔ وہاں انوار الٰہی کی بارش ہو رہی ہے۔ ایک مقام پر علامہؒ نے کہا: گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے جس کے نفس گرم سے ہے گرمئی احرار وہ ہند میں سرمایہ ملت کا نگہبان اللہ نے بروقت کیا جس کو خبردار مجدد کا لفظی مطلب ہے تجدید کرنے والا یعنی نیا کرنے والا۔ الف ثانی کا مطلب ہے دوسرے ہزاروں برس کا مجدد۔ یاد رہے چوبیسویں پشت میں آپؒ کا شجرئہ نسب حضرت عمر فاروقؓ سے ملتا ہے۔ آپؒ کی ولادت باسعادت 971ھ میں بمقام سرہند ریاست پٹیالہ مشرقی پنجاب میں ہوئی۔ آپؒ حنفی المذہب تھے۔ آپؒ کے مسلک کا اصل اصول اتباع سنت اور اجتناب از بدعت ہے۔ آپؒ تصوف کے امام تھے۔ آپؒ نے گانے بجانے کو حرام قرار دیا اور رہبانیت کو ترک کرنے کا حکم دیا کہ دنیا کو چھوڑ دینا خلاف سنت ہے۔ آپؒ کے کشف وکرامات کو دیکھ کر جہانگیر یہ اکبر بادشاہ کا بیٹا تھا، اصل نام شہزادہ سلیم تھا بادشاہ تائب ہوکر آپؒ کے سلسلہ طریقت میں داخل ہوا اور اس نے مندرجہ ذیل احکام شریعت پھر جاری کئے 1 شاہی دربار میں سجدہ تحیہ تعظیمی سجدہ موقوف کیا۔ 2 ذبیجہ گائے پر سے پابندی ختم کر دی۔ 3 خلاف شرع احکام منسوخ کردیئے۔ وغیرہ۔ آپؒ نے تریسٹھ سال کی عمر پائی اور بتاریخ 28 صفر 1024ھ آپؒ کا وصال سرہند میں ہوا اور وہیں مدفون ہوئے۔ آپؒ کا مزار زیارت گاہ عالم ہے۔ آپؒ کو شروع شروع میں احیائے سنت کے لئے بڑے بڑے دکھ اٹھانے پڑے اور آپؒ نے قرآن و سنت پر بڑی اُولُو العزمی سے عمل کر کے دنیا کے لئے بہترین نمونہ چھوڑا۔ گلدستہ واقعات ٭٭٭٭٭.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *