Home / Socio-political / وکلاءگردی یا دہشت گردی؟

وکلاءگردی یا دہشت گردی؟

وکلاءگردی یا دہشت گردی؟

 اے ۔حق ، لندن

 

 دنیا کی تمام قومیں کسی نہ کسی منفرد خصوصیت کی حامل ہوتی ہیں۔پاکستانی قوم بھی انہیں میں سے ایک ہے۔ہم میں بہت سی خوبیاں بھی اور خامیاںبھی ہیں۔ ہماری ایک خامی یہ ہے کہ بحیثیت مجموعی ،ہم ایک غیرمتوازن قوم ہیں۔ہمارے ملک میں جب بھی کوئی گروہ اہمیت اور طاقت پکڑتا ہے وہ اپنی حدود سے تجاوزکرتا نظر آتا ہے۔ہم لوگ جمہوریت اور جمہوری اصولوں کا راگ تو بہت الاپتے ہیں،لیکن ہمارا مزاج ہرگزجمہوری نہیں۔جمہوریت کا ایک اہم اصول برداشت اور دوسروں کی رائے کا احترام ہے۔لیکن ہماری قوم ان چیزوں سے عاری ہے۔ ہمارے اسی عدم برداشت کے رویے کا اظہار کچھ یوں ہوا ہے کہ پچھلے چند سالوں سے ہمارے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیاکی ڈکشنری میں ایک نئے لفظ کا اضافہ ہوچکا ہے، وہ لفظ ہے ”وکلاءگردی“۔وکلا گردی کا تازہ ترین واقع یہ ہے کہ چند روز قبل ڈسٹرک کورٹ لاہور میں وکلاءنے ڈسٹرک سیشن جج زواراحمدشیخ کو عدالت سے باہر نکال دیا۔عدالت کے کمروں کو تالے لگا دیئے۔ججوں کولے جانے والی گاڑیوں پر پتھراؤکیا گیا۔وکلاءکے اس اقدام پراحتجاج کرتے ہوئے لاہور کے تمام سول اور سیشن ججزپندرہ دن کی چھٹی پرچلے گئے۔یہ خبر ہمارے قانون کے محافظوں کے اُس کردار کی طرف اشارہ کرتی ہے جو چندسالوں سے مسلسل خبروں میں ہے۔9مارچ2007ءپاکستان کی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل ہے۔جنرل پرویزمشرف اُس وقت اپنی طاقت کی عروج پر تھے۔انہوں نے چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری کو اپنے عہدے سے ہٹادیا۔جنرل مشرف شایدیہ بھول گئے تھے کہ پاکستان تبدیل ہوچکا ہے اب اس ملک میں ایک انتہائی طاقت ور الیکٹرانک میڈیا موجود ہے۔اُسی وقت وکلاءکی طرف سے عدلیہ بحالی تحریک شروع ہوگئی۔لیکن یہ بات طے ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کی مدد کی بغیر یہ ممکن ہی نہ تھا کہ یہ تحریک اس رنگ میں پروان چڑھتی کہ مشرف حکومت کو ہلا کر رکھ دیتی۔ بے شک یہ تحریک عدلیہ اور جمہوریت کی بحالی جیسے عظیم مقاصدلئے ہوئے تھی لیکن اس تحریک کے دوران پاکستانی قوم کا غیرمتوازن مزاج بھی کھل کر سامنے آگیا۔مشرف حکومت نے بھی بے انتہاءریاستی طاقت کا استعمال کیااور دوسری طرف وکلاءبھی اپنی تمام حدود پھلانگتے نظرآئے۔ان کے جلسوں اور سیمیناروں میںنہ صرف پرویزمشرف بلکہ پاکستان کی مسلح افواج کو بھی بے عزتی کا نشانہ بنایا گیا۔جووکلاعدالت میں حکومتی موقف کا دفاع کررہے تھے۔ان کا بارکونسلوں میں داخلہ ممنوع قراردے دیا گیا۔کراچی کی ایک بارکونسل سے دوانتہائی سینئر وکلاجو حکومت کا دفاع کررہے تھے ان کودھکے دے کرنکالاگیا۔ نعیم بخاری ایڈووکیٹ پاکستان ٹیلی ویژن کے مشہور کمپیئراور پرانے وکیل ہیں۔چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی بنیاد نعیم بخاری کا کھلاخط بھی بنا تھاجو انہوں نے چیف جسٹس کو لکھا تھا۔اس خط میں نعیم بخاری نے چیف جسٹس کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ریفرنس کے چند ماہ بعد جب نعیم بخاری راولپنڈی کے کچہری میں پیش ہوئے تو غصے سے بھرے ہوئے وکلاکے نرغے میں آگئے۔ان کو شدیدتشدد کا نشانہ بنایا گیااور اُن پر تھوکابھی گیا۔بڑی مشکل سے بعض سینئر وکلا نے ان کی جان بچائی۔24ستمبر2007ءکو ایک اور افسوس ناک واقعہ پیش آیا حکومتی موقف کا دفاع کرنے والے ایک وکیل احمدرضاقصوری جب عدالت میں پیش ہونے کے لئے آئے تو پشاور کے ایک وکیل خورشید خان نے ان پر کالک تھوپ کر ان کی سخت توہین کی۔احمدرضا قصوری ایک پرانے سیاستدان ہیں جنہوں نے اُس مقدمہ کے حوالے سے شہرت پائی جس کے نتیجے میںذوالفقارعلی بھٹو کو پھانسی دی گئی۔ذوالفقارعلی بھٹوپرالزام تھا کہ وہ احمدرضا قصوری کے والد کے قتل میں ملوث تھے۔خےرکچھ ماہ بعدوکلا گردی کا ایک اورتکلیف دہ واقعہ پیش آےا جب صدرمشرف کے حامی سیاستدان ڈاکٹرشیرافگن نیازی لاہور میں اپنے ایک وکیل دوست کے چیمبر میں بیٹھے تھے۔کچھ ہی دیر میںشیرافگن کی موجودگی کی اطلاع وہاں پر موجودوسرے وکلاءکوہوگئی اور وہ بڑی تعداد میں وہ وہاں اکٹھے ہونا شروع ہوگئے۔میڈیا نے اس واقعہ کی لائیونشریات جاری کرنا شروع کردیںاوردیکھتے ہی دیکھتے صورتحال خطرناک ہوگئی۔چیمبرکو شیرافگن نیازی نے اندر سے بندکردیا تھا۔باہرلوگوں کا ہجوم اس کمرے کے دروازے توڑنے کی کوشش کررہا تھا۔یوں محسوس ہورہا تھا کہ جونہی ڈاکٹرشیرافگن نیازی وکلاءکے ہاتھ لگےں گے وہ ان کی تکہ بوٹی کردیں گے۔اسی دوران سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدر اعتزازاحسن وہاں پہنچ گئے۔انہوں نے وہاں ہجوم کی منت سماجت کی اور اعتزاز احسن کو دنےا بھر کے لوگوں نے وکلاءکے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے دےکھا، مگر وکلاءنے اُن کی بھی نہ سُنی۔ڈاکٹرنیازی کو بڑی مشکل سے ایک گاڑی میں ڈالا گیا۔اس دوران وکلاءنے ان پر جوتوں اور گھونسوں کی بارش کر دی۔اس واقعہ کی وکیل راہنما ¶ں نے بھی مذمت کی اور اسے وکالت کے پیشے پر بدنما داغ قراردیا۔اعتزازاحسن نے احتجاجاً سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن سے استعفیٰ دے دیا۔مشرف حکومت کے خاتمے اور چیف جسٹس کی بحالی کے بعد یہ امید کی جارہی تھی کہ قانون کے پیشے سے وابسطہ یہ لوگ اب قانون کا احترام کریں گے اور اپنی پرانی روش کو چھوڑدیںگے ۔لیکن شاےد وکلاءگَردوں نے دُنےا کو اپنا اصل روپ دےکھانے کی ٹھان رکھی تھی۔وکلاءکی طرف سے کئے گئے تشدد کے واقعات بدستور میڈیاکا حصہ بن رہے ہیں۔ بلکہ یہ تو اب ایک معمول بنتا جارہاہے۔ اب تووکلاءعدلیہ بحالی تحریک کے دوران ان کا ساتھ دینے والے میڈیا کو بھی نہیں بخشتے۔کالے کوٹوںکی بدمعاشی اُس وقت اپنی انتہاءکوپہنچ گئی جب انہوں نے قانون کے محافظوں کو تشددکا نشانہ بنادیا۔لاہورہائیکورٹ میں بع

ض وجوہات کی بناءپروکلاءنے پولیس والوں کو تشددکا نشانہ بنایابلکہ جس صحافی اور کیمرہ مین نے تشددکی ویڈیوبنائی تھی اُس کی بھی خوب پٹائی کی اور کیمرہ چھیننے کی کوشش کی گئی۔عدالتی کاروائی کی دوران ٹی وی کوریج کرنے والی صحافیوں اور کیمرہ مینوں پرتشدد کے واقعات منظرعام پر آچکے ہیں۔ایک واقعہ کے دوران جب وکیل ٹی وی کیمرہ مین اور صحافی کو دھکے دے کر نکال رہے تھے تو اس دوران وکلاءکی جانب سے گندی گالیوں کی ریکارڈنگ بھی وےڈےو کیمرے میں محفوظ ہوگئی۔وکلاءگالیاں دیتے ہوئے یہ طعنہ بھی دے رہے تھے کہ ”پنج پنج سولے کر خبراں لان آلے“۔یعنی پانچ پانچ سو روپے کے عوض خبریں لگانے والے۔سب جانتے ہیں کہ یہ وکیل کس کس طرےقے سے اپنے سائیلوں کو لوٹتے ہیںاور جھوٹ کو سچ کرنے میں اپنی مہارت دکھاتے ہیں۔وکیلوں کے منہ سے صحافےوں کے خلاف ایسی بات کانکلناحیران کن بات ہے۔جبکہ ان کا اپنا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے اور ملک بھر کی عوام جانتی ہے کہ اگر آج پرنٹ مےڈےا اور الےکٹرانک مےڈےا نہ ہو تو ملک دشمن عناصر ملک کو بےچ کھائےں۔خےروکلاءگردی کاایک اوربدترین واقعہ مشہور زمانہ ”شازیہ قتل کیس“ہے۔ لاہور کے ایک وکیل چوہدری نعیم ایڈووکیٹ پر الزام لگا کہ اس نے اپنی گھریلوملازمہ کو تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کردیا ہے۔اس ملازمہ کی عمرصرف 12برس تھی اور اس کا نام شازیہ تھا۔میڈیا تک یہ اطلاع پہنچنے کے بعد پولیس نے چوہدری نعیم کو حراست میں لے لیا اور اس کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔اس کے فوراً بعد تمام وکیل جتھہ بنا کراپنے پیٹی بندبھائی کی مدد کوآپہنچے۔300کے قریب وکلاءنے عدالت کے باہر مظاہرہ کیا اور اپنے وکیل ساتھی کی مدد کے لئے ہر ناجائزہتھکنڈہ آزمانے پر اتر آئے۔عدالتوں کا بائیکاٹ کردیا گیا اور میڈیا کو لعن طعن کا نشانہ بنایا گیا۔اندازہ لگائےں کہ اُس ملک میں انصاف کا کیا حال ہوگاجب قانون کا دفاع کرنے والے ہی اپنے آپ کوقانون سے بالا سمجھیںاور قانون کو جوتی کا تلواہ سمجھےں،ججوں کو حراساں کریں،پولیس پرتشددکریں،صحافےوں پر تشدد کرےں،جس مےڈےا نے ججوں کے بحالی مےں نماےاں قردار ادا کےا اُن کے دُشمن بنےں،گندی ذبان کے استعمال سے لے کر درندگی کی حدےںتک عبور کرےں، اختلاف رائے کرنے والوں کو غیض وغضب کا نشانہ بنائیں۔آجکل پاکستان مےں وکلاءکی بدمعاشی کے واقعات سُن کر ہر محب وطن پرےشان اور آنسو بہارہے ہیں مگر اِن وکلاءگَردوں کو کون سمجھائے؟

About admin

Check Also

یہ دن دورنہیں

امریکہ نے پاکستان کی سرزمین پر پہلاڈرون حملہ ۱۸جون ۲۰۰۴ء کوکیا۔ یہ حملے قصر سفیدکے …

One comment

  1. عمبر شمیم

    وکلا گردی کا ایسا کارنامہ واقعی بہت افسوس ناک ہے۔ پاکستان میں تقریبا ہر شعبے کا یہی حال سننے کو مل رہا ہے۔ خود کو دوسرے پر فوقیت دینے کی دوڑ تو ہر جگہ ہوتی ہے لیکن پاکستان میں اس کامظاہرہ کچھ زیادہ ہی ہے۔ ان سب کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہاں کوئی ایسا رہنما یا قائد اب نہیں ہے جو سب کو ایک ساتھ جوڑ سکے اور ایک دوسرے کی اہمیت اور مرتبے کا احساس دلا سکے۔
    یہ ملک تو بس چل رہا ہے۔ اور لوگ کسی طرح جی رہے ہیں۔
    کوئی معجزاتی کاروائی ہی اس ملک کی حالت بہتر کر سکتی ہے
    الله کرے ایسا معجزہ جلد ہو
    آمین!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *