Home / Socio-political / مغربی معاشرے میں بے غیرتی کا لائسنس

مغربی معاشرے میں بے غیرتی کا لائسنس

مغربی معاشرے میں بے غیرتی کا لائسنس

 انعام الحق

 مغربی ممالک نے اپنے شہریوں کو بے شرمی اور بے حیائی کا لائسنس دے رکھا ہے جس کے سنگین نتائج اُنہیں اب بھگتنا پڑ رہے ہیں۔عورت کی آزادی کے نام فحاشی،بے پردگی،بے حیائی،جنس پرستی کو فروغ مل رہا ہے اور مغربی ممالک بیماریوں کے سمند ر میں ڈوبتے جا رہے ہیں۔بے پردہ عورتیں معمولاً بناﺅ سنگار اور دیگر زرق و برق کے ذریعہ جوانوں کے جذبات کو ابھارتی ہیں جس سے ان کے احساسات بھڑک اٹھتے ہیں اوراکثر اس سے نفسیاتی امراض پیدا ہوجاتے ہیں۔ےہی وجہ ہے کہ نفسیاتی مسائل میں گرے لوگوں کی تعداد میں بھی دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔فحاشی اور ناجائز اولادیں پیدا کرنے کی وجہ سے مغربی معاشرہ میں ظلم وستم اور خون خرابہ کی شرح میں بھی دن بدن اضافہ ہو رہا ہے وہ الگ بات ہے کہ اپنے ناقص قانون کی وجہ سے وہ ایسی خبریںمیڈیا سے دور ہی رکھتے ہیں۔اےک رپورٹ کے مطابق انگلینڈمیں ہر سال پانچ لاکھ بچے ناجائز طرےقے سے پیدا ہوتے ہیں اور انگلینڈ کے بہت سے دانشوروں نے حکومتی عہدیداروں کو ےہ چیلنج کر رکھا ہے کہ اگر ےہ سلسلہ جاری رہا تو ملک کی امنیت کو خطرہ ہے۔اُن دانشوروں نے اخلاقی اور مذہبی مسائل کی بنیاد پر ےہ چیلنج نہیں کیا بلکہ صرف اس وجہ سے ےہ چیلنج کیا ہے کیونکہ ناجائز بچے معاشرے کے امن و امان کےلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔اکثر غیر قانونی حرکات میں ملوث افراد کے والدین غیر شادی شدہ صورت میں اولاد پیدا کرنے کے بعد کسی نہ کسی وجہ سے علیحدہ ہوگئے ہوتے ہیںےعنی اُن بچوں کے آگے پیچھے کوئی نہیں ہوتا،اُن بچوں کو نہ تو اپنے ماں باپ کی پرواہ ہوتی ہے اور نہ ہی اُنہیں کوئی پوچھنے والا ہوتا ہے لہٰذا اُن میں سے اکثر کو اپنے جینے مرنے کی پرواہ نہیں ہوتی اس کے علاوہ ناجائز بچے پیدا کرکے ماں باپ کے پاکیزہ رشتے کا جو مذاق مغربی ممالک اُڑا چکے ہیں اس کی سزا اُنہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مل رہی ہے۔مغربی ممالک میں والدین اٹھاراہ سال سے اوپر کے بچوں کو کُچھ کہنے کا اختیار نہیں رکھتے چاہے وہ بچہ کچھ بھی کرتا رہے ےہی وجہ سے کہ جب والدین بڑہاپے تک پہنچتے ہیں تو اُنہی کی اپنی اولاداُنہیںلاوارس بوڑھوں کی پناہ گاہوں میں چھوڑ آتی ہے تاکہ اُنہیں حکومت ہی سنبھالے۔ےہاں تک کہ اُس کے بعد اُن کی اولادیں ےہ تک معلوم کرنے کی کوشش نہیں کرتیں کہ وہ مر گئے ہیں ےا زندہ ہیں۔اس سب کی بڑی وجہ مغربی ممالک کا وہ قانون ہے جس کے تحت بے حیائی اورجنس پرستی جنم لے رہی ہے اور نہ صرف بڑھ رہی ہے بلکہ عام ہوتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے بے پناہ بیماریاں پھیل رہی ہیں۔دین اسلام کے خلاف ممالک کو شاید اسی صورت میں سزا ملنا تھی کہ اُن کی عقلیں ماری گئیں اور اُن کے زہن کُند ہوگئے ہیں۔دُنیا بھر کے اکثر ممالک میں اب مسلمان خواتین کے پردہ کی مخالفت شروع ہوچکی ہے وہ ےہ چاہتے ہیں کہ جن بیماریوں اور پریشانیوں میںوہ گرِے ہوئے ہیں مسلمان بھی اُنہیں میں گر جائیں۔جےسے اگر کوئی شخص کسی جرم کی وجہ سے جیل میں سلاخوں کے پیچھے ہوتو اُسے کوئی دوسرا نیک شخص ےا عزت دار شخص باہر نظر آئے تو سلاخوں کے پیچھے کھڑے شخص کی اول خواہش ےہی ہوگی کہ وہ اُس جیسا بنے اور معاشرے میں عزت دار زندگی گزارے ےا اگر اُس شخص کا بس نہ چلے تو وہ ےہی چاہے گا کہ ےہ پاک باز شخص بھی اُس کے ساتھ سلاخوں کے پیچھے ہو۔کُچھ ایسی ہی حالت مغربی ممالک کے قانون سازوں کی ہے وہ باپردہ، عزت دار خواتین اور مسلمانوں میں رشتوں کے ادب اور احترام کو دیکھ کر جلتے ہیں اور منافقانہ قانون کے تحت اُنہیں اپنے جیسا بنانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔وہ اچھا بننے کی کوشش اس لئے نہیں کرنا چاہتے کیونکہ سور کا گوشت،شراب اور حرام کھا کھا کر اُن کے ضمیر مردہ ہوچکے ہیںوہ گندگی میں گرتے چلے جاتے ہیںاور اپنے ساتھ دوسروں کو بھی گندگی میں گِرانا چاہتے ہیں۔اپنی اولادوں کو تباہ وبرباد ہوتے ہوئے دیکھ کر اُن کے دل رُک سے جاتے ہیں،روح کانپ جاتی ہے،جسم بے جان ہوجاتا ہے مگر افسوس وہ کُچھ نہیں کر سکتے۔وہ چاہتے ہوئے بھی اپنے اولاد کو بچا نہیں سکتے اور ےہ سب بھُلانے کی خاطر شراب پیتے ہیں اور پھر سے بے غیرت ہو کر سب دیکھتے رہتے ہیں۔مغربی ممالک ٹیکنالوجی میں جتنی بھی ترقی کر لیں آخر تباہی اُن کا ہی مقدر ٹھہرے گی۔

About admin

Check Also

یہ دن دورنہیں

امریکہ نے پاکستان کی سرزمین پر پہلاڈرون حملہ ۱۸جون ۲۰۰۴ء کوکیا۔ یہ حملے قصر سفیدکے …

One comment

  1. میں نے ایک نوجوان خوبصورت سعودی ہوں اور میں 26 سال کی عمر میں پاکستان کے آدمی ہوں، میں کاروبار کے لئے سعودی عرب میں آنے اور ایک تنخواہ اور رہائش کے کام کرنے الیون نہیں ہے ہوگا حل کرنا چاہتے ہیں، لیکن اس نے مجھے خوشی بستر دیتا ہے اور میں اس کی خدمت جو وہ چاہتا ہے
    میری شرائط ہیں
    سینے پر خوبصورت اور ایک وسیع سینے اور بالدار ہونا
    جو خود رسول پر مجھ سے بات کر ٹکڑے کرنے کے قابل پائے اور مجھے امید ہے کہ آپ ایک واضح تصویر یا کیمرے ہے
    مجھے یہ اچھا نہیں ہوں لیکن اردو زبان کی مترجم کی خدمات حاصل کی
    یہ یملی ہے ansan-443@hotmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *