Home / Articles / ذرائع ابلاغ کی نئی تکنیکیں : اور فاصلاتی تعلیمی ادارے

ذرائع ابلاغ کی نئی تکنیکیں : اور فاصلاتی تعلیمی ادارے

ڈاکٹر محمد احسن

 ریجنل ڈائرکٹر

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ریجنل سینٹر بھوپال

 فاصلاتی تعلیم کا تصوّرتقریباً 150برس پرانا ہے لیکن حالیہ برسوں میں بڑے پیمانے پر یہ رسمی تعلیم کے متبادل کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ ٹیلیفون ، ریڈیو اور ٹیلیویژن نے نہ صرف امریکہ، یوروپ اور آسٹریلیا بلکہ ہندوستان جیسے ممالک میں بھی فاصلاتی تعلیم کا دا ئرہ وسیع کیا ہے۔ 1969 میں یو-کے اوپن یونیورسٹی کے قیام کے بعد مختلف ترقی پذیر ممالک بھی اس سے متاثر ہوکر پرنٹ، ریڈیو/ ویڈیو اورنشریات کے ذریعہ فاصلاتی تعلیم کی طرف رجوع ہوئے ۔بہر حال اوپن لرنگ سسٹم ، جس کا انحصار ملٹی میڈیا پر ہے۔وہ نہ تو تعلیم کے بنیادی تدریسی پہلو میں تبدیلی لاسکا اور نہ فاصلاتی تعلیم کے اصول، جو کم و بیش رسمی نظام تعلیم و تعلم جیسے لکھنے پڑھنے کے طریقے پر مبنی ہیں،کو مکمل طور پر نہیں بدلا۔

 1980تک فاصلاتی تعلیم کا دائرہ بہت محدود رہا۔لیکن وائس میل ، ای میل، انٹرنیٹ وغیرہ کی آمد سے تعلیم و تعلم کے بنیادی تصورات میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہوئی۔اور کم از کم اعلی تعلیم کی سطح پر کیمپس تعلیم میں تعلیم و تعلم کلاس روم تک محدود نہیں رہا ۔مزید یہ کہ رسمی نظام تعلیم والی یونیورسٹیوں نے بھی اپنے طلبہ و طالبات کو مخصوص اوقات میں کلاس میں حاضری کی پابندیوں سے آزاد کر دیا ہے۔

آج دونوں نظام تعلیم (رسمی اور فاصلاتی) کے طلبہ، اگر ان کی رسائی جدید ٹکنالوجی تک ہے تو وہ انٹرنٹ کے ذریعہ اپنی پسندکی دنیا کی کسی بھی لائبریری سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ عصر حاضر میں کمپیوٹر کا استعمال زندگی کے ہر شعبہ میں ہو رہا ہے۔ اس کے سبب انسان کی کام کرنے کی صلاحیت و لیاقت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ کمپیوٹر کے ننھے چپس (Microchips) میں محفوظ وافر معلومات تک رسائی انگلی کے اشارے سے کی جاسکتی ہے۔ علاوہ ازیں ویڈیو ٹکسٹ ٹکنالوجی کے ذریعہ مزید معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

اس تکنیک کی مدد سے ہم رموٹ ڈاٹا بیس سے مختلف قسم کے موادی معلومات ،تصاویر، گرافکس وغیرہ حاصل کرسکتے ہیں۔ ٹیلی کانفرنسنگ بشمول آڈیو کانفرنسنگ اور کمپیوٹر کانفرنسنگ ابلاغ کا ایک بیش قیمتی ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعے کوئی بھی کہیں جائے بغیر ، بغیر کسی سفر کی دشواری کے دنیا میں کہیں بھی ہونے والے کانفرنس اور میٹنگ میں شامل ہوسکتاہے۔

انٹرنیٹ اور ورلڈ وائڈ ویب کی ترقی سے ہمیں غیر معمولی مواقع حاصل ہوئے ہیں جس کے ذریعے ہم دنیا میں کسی خطہ میں بیٹھے ہوئے فرد کے ساتھ رابطہ قائم کرسکتے ہیں ۔ الکٹرانک میل (ای میل) جو نہ صرف کفایتی ہے بلکہ ہر لمحہ دستیاب ہے۔ آج یہ ورزمرہ کی زندگی کا حصہ بن گیا ہے۔ انٹرنیٹ سے مربوط Listservs کے استعمال سے ہم دنیا بھر میں ایک طرح کی سوچ رکھنے والے مختلف لوگوں سے رابطہ قائم کرسکتے ہیں۔ مزید ای -لرننگ (e-learning) اور ای -ایجوکیشن(e-education) نے بھی دنیا میں اپنے قدم جما لیے ہیں۔ اور اب ای بکس (e-books) کی باری ہے۔ یہ کتاب کاغذ پر چھپی ہوئی کتاب سے با لکل مختلف ہے۔ ای- بکس کو کمپیوٹر ، لیپ ٹاپ ، خصوصی ای – بکس ریڈر اور موبائل اسکرین پر پڑھا جا سکتا ہے۔گویا آج کا دور بلا شبہ ذرائع ابلاغ کا ایک ایسا دھماکہ خیز دور ہے جس میں عام زندگی اور انسانی معاشرے کے طرز عمل اور اس کے اظہار پر ماس میڈیا کی گرفت پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور رہنمایا نہ حیثیت کی حامل ہو گئی ہے۔

اگر ابلاغی تکنیک کی صحیح تعریف یہ کی جائے کہ یہ ہمیں باہمی تعامل (interaction)میں مدد کرتی ہے؛ تو جدید ابلاغی تکنیک مثلاً، سیٹلا ئٹ پر مبنی ابلاغ اور کمپیوٹر ٹکنالوجی ایسے غیرمعمولی برقیاتی ابلاغی آلات ہیں جنہیں دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ دور حاضر میں اعلیٰ و سعت کے لیے ان تمام ٹکنالوجیوں کو ادراکی سائنس سے صحیح طور سے جوڑ کراستعمال کیا جارہا ہے۔ جدید ابلاغی تکنیک کو موٹے طور پر ہم دو حصوں میں رکھ سکتے ہیں۔ پہلا کمپیوٹر دوسرا سیٹلائٹ پر مبنی ٹکنالوجی ۔ یہ تمام ٹکنالوجی ہمیں مختلف سہولیات جیسے ،ای میل، انٹر نیٹ اور وسیع باہمی تعامل آلات(Range of Interactive Devices) جیسے سی ڈی رَوم (CD-Rom)، آڈیو/ ویڈیو کانفرنسنگ،وائس میل اور کمپیوٹر کا نفرسنگ فراہم کرتے ہیں۔ EDUSAT کے آغاز نے ہندوستان میں فاصلاتی تعلیم کی وسعت کو مزید جلا بخشا ہے۔ اس طرح نئی معلومات کی فراہمی اورمختلف علوم سے بہرہ ور کرنے کے لیے فاصلاتی نظام کے ادارے مندرجہ ذیل مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے ان تمام سہولیات کا استعمال بڑے پیمانے پر کر رہے ہیں۔

﴾ علم کو تنگ جغرافیائی حدود اور مختلف ادارہ جاتی روکاوٹوں سے باہر نکالنا۔

﴾ کم خرچ میں بہترین کورس فراہم کرنا۔

﴾ طلبہ کو مختلف پروگراموں میں سے ایک پروگرام کے مطالعہ کا اختیار فراہم کرنا۔

﴾ طلبہ کی ذہانت کے لحاظ سے تیار کیا گیا درسی موادان تک پہنچانا۔

﴾ فاصلاتی تعلیم کے طلبہ کی تعلیمی خواہشات کو تکمیل تک پہچانا۔

ان تمام مقاصد کا حصول اسی وقت ممکن ہے جب ہمارے پاس اس کے موافق سماجی ماحول اور ٹکنالوجی کی ترقی، لازمی علمی معلومات ،مالیہ، لازمی بنیادی ڈھانچہ اور دیگر سہولیات موجود ہوں۔ ان تمام شرائط کا بیک وقت موجود ہونا دشوار کن ہے۔ یہاں تک کہ ترقی یافتہ ممالک بھی ان تمام شرائط کو مکمل طور پر پورا نہیں کرتے۔ تاہم ہمیں یہ اعتراف کرنا چاہیے کہ مندرجہ بالا مقاصد کو ہم اپنی ترجیح کے مطابق پورا کر رہے ہیں۔ دنیا کی تقریباً تمام اوپن یونیورسٹیاں مثلاًیو۔ کے اوپن یونیورسٹی، چین مرکزی ریڈیو اور ٹیلی ویژن یونیورسٹی، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، یونیورسٹی آف دی ایئر آف جاپان ، سری لنکا اوپن یونیورسٹی ، ڈاکٹر بی -آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی ، اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ،ان جدید ابلاغیا تی تکنیکو ں کواپنی ضرورت کے مطابق مختلف تناسب میں تعلیمی نظام کو بہتر ڈھنگ سے چلانے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ اب ہم مختصراً مذکورہ با لا یونیورسٹیوں کا ایک جائزہ لیں گے اور دیکھیں گے کہ یہ ادارے اپنے تعلیمی پروگرام کی حتی الوسیع توسیع کے لیے جدید ٹکنالوجی کا استعمال کس تناسب میں کر رہی ہیں۔

یو۔ کے اوپن یونیورسٹی : یہ دنیا کی اوّلین فاصلاتی نظام کی یونیورسٹی ہے جس نے فاصلاتی تعلیم کی نہ صرف بنیاد رکھی بلکہ اِ سے پروان بھی چڑھایا۔ یہ یونیورسٹی 1969میں Nilton Keynes میں قائم ہوئی ۔ اس کو دنیا کے فاصلاتی نظام تعلیم میں اہم مقام حاصل ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں یو کے- اوپن یونیورسٹی کو ایک ماڈل کی حیثیت حا صل ہے۔1971 میں یونیورسٹی نے گریجویشن سطح کے کورسوں کا آغاز کیا اور بعد میں ۔ ایم فل ، پی۔ایچ۔ڈی اور دیگر تحقیقی کورس بھی شروع کیے۔فی الوقت یونیورسٹی 400 سے زائد پروگرام فاصلاتی نظام سے پیش کرتی ہے جس میں کئی آن لائن کورس بھی شامل ہیں۔ اس طرح کمپیوٹر اور جدید ٹکنالوجی تک رسائی رکھنے والے طلبہ دنیا کے کسی حصّے میں بیٹھے ہوئے اس یونیورسٹی کے آن لائن کورس میں داخلہ لے سکتے ہیں اور گھر بیٹھے ا سے مکمل کر سکتے ہیں ۔ یو کے اوپن یونیورسٹی کے آن لائن کورسوں میں ابھی تقریباً ایک لاکھ اسّی ہزا ر (180,000)طلبہ ر جسٹرڈ یں۔ نیز دوسرے فاصلاتی کورسوں میں تقریباً ڈھائی لاکھ سے زیادہ طلبہ یہاں مندرج ہیں اور اب تک تقریباً دولاکھ کا میاب طلبہ یہاں سے بی۔اے/بی۔ایس۔سی کی سند حاصل کر چکے ہیں۔ اس کے 13 علاقائی مرا کز ہیں جن کے ذریعہ یونیورسٹی اپنے طلبہ کو رہنمائی اور معاونت مہیا کرتی ہے۔ انڈر گریجوئٹ سطح کے پروگراموں میں داخلہ لینے کے لیے یہاں کسی اہلیت کی ضرورت نہیں ہے البتہ یہ ضروری ہے کہ طالب علم کی عمر 18 سال سے کم نہ ہو اور وہ یوروپین یونین کارہنے والا ہو۔

یو۔کے۔ اوپن یونیورسٹی دنیا کی پہلی یونیورسٹی ہے جس نے تعلیم کی وسعت کے لیے جدید ذرائع ابلاغ مثلاً ریڈیو، ٹیلی ویژن، آڈیو/ویڈیو، انٹر نیٹ اور کمپیوٹر جیسے آلات و سہولیات کا استعمال کرنا شروع کیا ۔یہا ں تعلیمی پروگرا موں کی وسعت کے لیے ٹیلی کانفرنسنگ ،ریڈیو،آڈیو، سی ڈی جیسے ابلاغیاتی ذرائع کا استعمال بڑی کثرت سے کیا جاتا ہے ۔ اس کے تمام علاقائی مرا کز اور مطا لعاتی مرا کز دو طرفہ میڈیاکانفرنسنگ (Two way media conferencing) کے ذریعہ آپس میں مربوط ہیں اورتقریباً تما م کورس آن لائن انٹریکٹیومیڈیا پر بھی دستیاب ہیں۔ یہاں کے تعلیمی پروگرام بی ۔بی ۔سی ٹیلی ویژن سے بھی ٹلیکا سٹ کیے جاتے ہیں ۔ پروگرام کی نشریات کی مدّت اور وقت کا تعین اس کے ناظر ین کی سہولت کے مطابق کیا جاتا ہے۔ اس کی مدت ایک ہفتے میں 20 گھنٹے تک کی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کے تعلیمی پروگرام بی بی سی ریڈیو سے بھی نشر کئے جاتے ہیں جو معلومات سے بھر پور ہوتے ہیں۔

چین مرکزی ریڈیو اور ٹیلی ویژن یونیورسٹی: یہ دنیا کی فاصلاتی تعلیم کی سب سے بڑی یونیورسٹی ہے اس کا قیام1978میں بیجنگ میں ہوا ۔ عام طور پراسے China Central Television University(CCTU) کہا جاتاہے۔ اس یونیورسٹی میں تقریباً 30 لاکھ سے زائد طلبہ مندرج ہیں اور 1999 تک اس یونیورسٹی کے 44 صوبائی ٹیلی ویژن یونیورسٹیوں (Provincial Radio and Television Universities)کے ذریعہ 26 لاکھ سے زائد طلبہ گریجویشن کی ڈگری حاصل کرچکے ہیں مزید 10 لاکھ طلبہ نے یہاں سے وکیشنل ایجوکیشن میں تربیت حاصل کی ہے ۔ نیز12.6 لاکھ پرائمری اور سکنڈری اسکول کے اساتذہ نے اس یونیورسٹی سے تربیت حاصل کی ہے۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی کے ملک گیر سطح کے پروگرام سے 10 لاکھ سے زیادہ سامعین اور ناظرین نے فائدہ اٹھایا ہے۔ اس یونیورسٹی کے 30 لا کھ طلبہ میں سے 75فیصد سے زائد طلبہ ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعہ اپنا مطلوبہ درسی مواد حاصل کرتے ہیں ۔ اس مرکزی یونیورسٹی کے ماتحت 44صوبائی ریڈیو اور ٹیلی ویژن یونیورسٹیاں ،841 اسکولی شاخیں اور1768 ورک اسٹیشن ہیں جو ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعے تعلیمی پروگرام نشر کرتی ہیں۔ نشریات اورٹیلی کاسٹ کی کل مدت ایک سال میں تقریباً 9000 گھنٹے کی ہوتی ہے۔ اس کو مندرجہ ذیل جدول کے ذریعہ بخوبی سمجھا جاسکتاہے۔

 

 سی سی آر ٹی وی

 پی آر ٹی وی یو (44)

 برانچ اسکول (841)

ٹی وی یو ورک اسٹیشن (1768)

 ٹی وی یو کلا سز

 چین ر یڈ یو ٹیلی ویزن یو نیورسٹی کا قومی نیٹو رک

 

مندرجہ ذیل اعدادوشمار اور جدول سے اس یونیورسٹی ٰ کی وسعت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

۱۔        1999ءء تک یہاں سے تقریباً 26لاکھ طلبہ نے دو /تین سالہ گریجوئٹ کورس میں کامیابی حاصل کی ۔

۲۔      10لاکھ سے زائد طلبہ اب تک یہاں سے پالیٹکنک کورس مکمل کرچکے ہیں۔

۳۔      35لاکھ سے زائد طلبہ یہاں Continuing Education میں گریجویشن کرچکے ہیں۔

۴۔      اس یونیورسٹی نے اب تک کروڑوں کاشتکاروں کو کاشتکاری کی عملی تکنیک سے آراستہ کیاہے ۔

۵۔      7.10 لاکھ سے زائد پرائمری اسکول کے اساتذہ یہاں سے تربیت حاصل کر چکے ہیں۔

۶۔       5.5لاکھ سے زائد سکنڈری اسکول کے اساتذہ نے یہاں سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی ہے۔

یہ یونیورسٹی 22شعبہ جات کے ماتحت تقریباً 350 مختلف کورس فراہم کرتی ہے ۔ جو چین کے تمام ملازمت پیشہ افراد کے لیے ایک عطیہ ہے۔ یہ نہ صر ف انھیں تعلیم حاصل کرنے کاموقع دیتی ہے بلکہ اس ادرہ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ اپنے کل وقتی طلبہ کو کام کرنے کے لیے وقت بھی فراہم کرتی ہے تاکہ وہ تعلیمی فلاح و بہبود کے فوائد کے ساتھ ساتھ معاشی طورپر بھی خود کفیل ہو سکیں ۔ سی۔سی۔یو (CCU) کے کورس ملٹی میڈیا ہوتے ہیں جو ریڈیو، ٹیلی ویژن ، آڈیو/ویڈیو، سی ڈی کے علاوہ طبع شدہ مواد پر مشتمل ہوتے ہیں۔ لیکن اس میں زیادہ تر ہدایات ٹی ۔وی کے ذریعے دی جاتی ہیں جس میں لیکچر بھی شامل ہیں جیسا کے عام روایتی یونیورسٹیوں میں دیا جاتاہے۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی : پاکستان کی سب سے بڑی اور فاصلاتی نظام کی ایشیا اور افریقہ کی پہلی یونیورسٹی کا قیا م 1974 میں عمل میں آیا ۔ یہ ایشیا کی سب سے پہلی اردو میڈیم اوپن یونیورسٹی ہے ۔ ابتدا میں اِس کا نام پیپُلز اوپن یونیورسٹی تھا ۔ لیکن 1977 میں عظیم شاعر علامہ اقبال کے 100 ویں یومِ پیدائش کے موقع پر اس کا نام پیپُلز اوپن یونیورسٹی سے بدل کر علاّمہ اقبال اوپن یونیورسٹی رکّھا گیا۔ پاکستان کے صدر اس یونیورسٹی کے چانسلر اور حکومت پاکستان کے وزیر برائے تعلیم اس کے پرو چانسلر ہوتے ہیں۔

ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں تقریباً36 علاقائی مراکز ، 112 علاقائی دفاتر ،1200مطا لعاتی مراکز اور1900 ٹیٹوریل سینٹر ہیں۔جن کے ذریعہ یونیورسٹی اپنے طلبہ کو رہنمائی اور معاونت مہیا کرتی ہے۔ مزید چھوٹے شہروں میں یونیورسٹی داخلہ لینے والے طلبہ کے لیے علاقائی رابطہ کار بھی مقرر کرتی ہے۔2008 کی ایک رپورٹ کے مطابق یہا ں 15 لاکھ سے زائد طلبہ مندرج ہیں۔ جن میں نصف سے زائد خواتین ہیں۔ابھی یہاں سرٹیفیکیٹ سے لیے کر ڈگری اور پی ایچ ڈی تک کے112 کورس فاصلاتی نظام کے ذریعہ مہیا کرائے جاتے ہیں۔علّامہ اقبال یونیورسٹی کے مقاصد میں فاصلاتی تعلیم کے ذریعہ پرائمری تعلیم سے لے کراعلیٰ تعلیم اور تحقیق تک کی سہولیات فراہم کرنا شامل ہیں۔ اس طرح یہ یونیورسٹی عام لوگوں میں تعلیمی اور فکری ترویج واشا عت اور معاشرتی خدمت کی غرض سے کم خرچ اور قابل دسترس تعلیم کو عام کرنے کے لیے جدید ٹکنالوجی پر مبنی فاصلاتی نظام کے ذریعہ کار آمد علم ، پیشہ وارانہ مہارتوں، اخلاقی اقدار اور عمدہ کار کردگی کے لیے کوشاں ہے۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اپنے تمام کورس خواہ وہ آدھی کریڈٹ کے ہوں یا پورے کریڈٹ کے، طبع شدہ مواد کے ساتھ آڈیو، ویڈیوکیسٹ اور سی ڈی کا بھی کثرت سے استعمال کرتی ہے۔ اور جہاں ضرورت ہوتی ہے وہاں سمعی اور بصری تعلیمی پروگرام بھی نشر /ٹیلی کاسٹ کیے جاتے ہیں۔ ایک عام تعلیمی پروگرام میں ریڈیو کے پانچ سے دس پروگرام ہوتے ہیں ۔ جس میں ایک تعارفی پروگرام ہوتاہے۔ اور دو سے چھ ٹی وی پروگرام بھی اس میں شامل کیے جاتے ہیں لیکن اِس کاتعین نصاب کی ضرورت کے مطابق کیا جاتاہے۔اس یونیورسٹی نے ریڈیو اور ٹی -وی پر مبنی نصابی پروگرام کے لیے ایجوکیشن ٹکنالوجی کا ایک خصوصی شعبہ قائم کیا ہے جو نہ صرف ٹی وی اور ریڈیو کے پروگرام تیار کرتا ہے بلکہ بہت عمدہ قسم کے ایجوکیشنل آڈیو/ ویڈیو اور سی ڈی بھی تیار کرتا ہے۔ تاکہ طلبہ اپنی تعلیمی دشواریوں کو اس کے ذریعہ حل کر سکیں۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اپنی تعلیمی نشریات اور ٹیلی کاسٹ کا نظام اوقات اوراِسکرپٹ پہلے سے تیار رکھتی ہے جو اس کے تمام امطا لعا تی مراکز پر مہیا کرائے جاتے ہیں اور یہ آسانی سے بازار میں بھی دستیاب ہوتے ہیں۔

یونیورسٹی آف دی ایئر آف جاپان : University of the Air of Japan فاصلاتی نظام سے تعلیم فراہم کرنے والی جاپان کی سب سے بڑی یونیورسٹی ہے۔پہلے اسے صرف یونیورسٹی آف دی ایئر کہا جاتا تھا۔ اس کا قیام 1983 میں عمل میں آیا ۔اس یونیورسٹی کامقصد کوئی بھی ، کبھی بھی اور کہیں بھی (Whoever, Whenever, Whereever) قابل ذکر اور دلچسپ ہے۔ یہاں تعلیم حاصل کرنے والوں کے لیے نہ توکسی قسم کی قید یا بندش ہے اورنہ ہی مخصوص وقت اور مخصوص مقام جیسی رکاوٹیں ان میں حائل ہوتی ہیں ۔اس یونیورسٹی سے مستفید ہونے والوں میں سب سے بڑا طبقہ وہ ہے جو کسی نہ کسی وجہ سے روایتی تعلیم اختیار کرنے سے قاصر ہے یا جو تکمیل تعلیم سے قبل ہی روزگار میں مصروف ہو گیا ہے یا کسی وجہ سے ترک تعلیم پر مجبور ہو گیا ہے۔

آج یہاں 90 ہزار سے زیادہ طلبہ مختلف کورسوں میں داخلہ لیے ہوئے ہیں۔ یونیورسٹی کے قیامِ عمل سے لے کر اب تک یہاں سے تقریباً 50ہزار طلبہ گریجویشن کر چکے ہیں۔ مزید7.80 لاکھ طلبہ دوسرے مختلف ڈپلومہ اور سرٹیفکٹ کورس بخوبی مکمل کر چکے ہیں۔اس طرح اب تک یہاں سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی کل تعداد 11لاکھ کو پار کر چکی ہے۔

تدریسی مواد کے طور پر یہاں بھی طبہ شدہ مواد کے ساتھ ریڈیواور ٹیلی ویژن پر مبنی تعلیمی پروگراموں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ جاپان یونیورسٹی اپنے طلبہ کو طبع شدہ مواد کے ساتھ ہی ریڈیو اور ٹی وی کے تعلیمی پروگراموں کی نشریات کانظام اوقات بھی فراہم کرتی ہے تاکہ طلبہ اپنی سہولت اور آسانی کے مطابق ان تعلیمی نشریات سے فائدہ اٹھا سکیں اور کورس سے متعلق اپنی تعلیمی دشواریوں کو حل کر سکیں۔

اس یونیورسٹی کا مرکزی دفتر شیبا (Chiba) میں ہے ۔یونیورسٹی نے یہاں ایک ریڈیو اور ٹی وی اسٹیشن اپنے تعلیمی پروگراموں کی نشریات اور ٹیلی کاسٹ کے لیے قائم کیا ہے۔یونیورسٹی کے تمام ٹی وی اور ریڈیو پر مبنی تعلیمی پروگرام یہیں پر تیّارکیے جاتے ہیں جو بعد میں UHF ٹیلی ویژن اورایف ایم ریڈیو کے ذریعے نشرکیے جاتے ہیں۔یہاں طلبہ کو نہ صرف آڈیو اور ویڈیو کیسٹ ،سی ڈی اورسلائڈ فراہم کی جاتی ہیں بلکہ انٹرنیٹ پر نصابی مواد بھی مہّیا کرایاجاتاہے۔یہ تمام مواد ملٹی میڈیا اور ڈیجیٹل ہوتے ہیں۔

سری لنکا اوپن یونیورسٹی : اس یونیورسٹی کا قیام 1978 میں ہوا۔ اس کے دائرہِ کا ر میں پورا ملک شامل ہے ۔ یہی سبب ہے کہ اس کے طلبہ پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس کے طلبہ میں ملازمت پیشہ افراد کی تعداد زیادہ ہے ۔ یہ یو نیورسٹی اپنے 4 علاقائی مراکز ، 17 مطالعاتی مراکز اور 6 تدریسی مراکزکے ذریعے طلبہ کو معاونت فراہم کرتی ہے ۔ اس کے علاقائی مراکز تمام سہولیات جیسے کتب خانہ ،تجربہ گاہ ،آڈیو/ویڈیواور دو طرفہ ٹیلی کانفرنسنگ جیسے ابلاغی ذرائع سے مزین ہیں۔ اس کے مطالعاتی مراکز میں بھی تمام ابلاغی ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے طلبہ کو نصابی امداد پہنچائی جاتی ہے۔

ابلاغیاتی تکنیکوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سری لنکا اوپن یونیورسٹی نے 1997 میں جاپان کی مدد سے ایجوکیشنل ٹکنالوجی کا ایک مخصوص شعبہ قائم کیا جو یونیورسٹی کے دیگر تمام شعبوں کے نصابی انسٹرکشنل آڈیو/ویڈیو اور دوسرے بصری مواد تیار کرتی ہے۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی کے تمام عملہ کو آن لائن متن تیار کرنے اور نئی تعلیمی تکنیکوں کی تربیت دینے کی ذمہ داری اسی شعبہ کی ہے۔سری لنکا اوپن یونیورسٹی کے اس شعبہ کو علمی مقتدرہ کا درجہ حاصل ہے اور اسے تعلیمی و یڈیو تیار کرنے کے لیے ایران، جاپان اور United Nations Devolepment Programme کے 9 بین الاقوامی انعام مل چکے ہیں۔ اس یونیورسٹی نے South Asian Association for Regional Co-operatin سارک ممالک کے دیگر کئی بڑی یونیورسٹیوں سے تعلیمی وسعت اور ایجوکیشنل ٹکنالوجی کی ترقی کے لیے اشتراک بھی کیا ہے۔

ڈاکٹر بی -آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی: فاصلاتی تعلیم کے لیے مخصوص یہ ہندوستان کی پہلی اوپن یونیورسٹی ہے جس کا قیام1982 میں حیدرآباد میں ہوا۔ اس یونیورسٹی کا نام پہلے اندھراپردیش اوپن یونیورسٹی تھامگر بعد میں اسے ڈاکٹر امبیڈکر کے نام سے موسوم کر دیا گیا۔ ہندوستان کے اس منفرد تعلیمی ادارے نے پہلی بار تعلیم آپ کے دروازے پر (Education at your doorstep) کا نعرہ دیا اور اسے ہی اپنا نصب العین بنایا ۔ اس یونیورسٹی میں انڈر گریجویٹ سے پی ایچ ڈی تک کی تعلیم فاصلاتی نظام کے ذریعے مہیا کرائی جاتی ہے۔ سال 2008-2009 کے دوران اس یونیورسٹی میں تقریباً 1.74 لاکھ طلبہ نے داخلہ لیاہے اور یہاں 2009 تک طلبہ کی مجموعی تعداد 4.5 لاکھ کے قریب ہے۔ امبیڈکر اوپن یونیورسٹی 206 مطالعاتی مراکز کے ذریعہ اپنے طلبہ کو رہنمائی اور معاونت مہیا کرتی ہے۔ 2009میں یہاں سے کامیاب طلبہ کی تعداد 18 ہزار تھی اور اب تک یہاں سے مجموعی کامیاب طلبہ کی تعداد تقریباً 1.24لاکھ ہے۔ 1983سے 2009 تک کامیاب طلبہ کی تعداد کی تفصیل مندرجہ ذیل گراف کے ذریعہ پیش کی جارہی ہے۔

 جدید ابلاغیاتی تکنیکوں سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے امبیڈکر اوپن یونیورسٹی اپنے تعلیمی پروگراموں/کورسوں کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے کثیر ذرائع تدریسی و آموزشی طریقہ اپنایا ہے۔ جس میں طبع شدہ مواد کے ساتھ آڈیو /ویڈیو، سی ڈی اسباق کے کیسٹ فراہم کیے جاتے ہیں۔ نیز آل انڈیا ریڈیو ، حیدرآباد سے نشریات کے ذریعہ بھی طلبہ کو تدریسی امداد پہنچائی جاتی ہے۔1999 سے امبیڈکر اوپن یونیورسٹی اپنے پروگرام دور درشن ریجنل چینل سے ٹیلی کاسٹ کر رہی ہے اور ہر اتوار کو دور درشن ریجنل چینل پر یونیورسٹی طلبہ کے لیے انٹر یکٹوٹیلی کانفرنسنگ کا بھی نظم کرتی ہے اس طریقے کے تحت اسٹو ڈیو میں کسی مضمون کے ایک یا د و ما ہرین کو دعوت دی جاتی ہے اور ان سے کسی خاص موضوع پر گفتگو کی جاتی ہے۔ اس پر وگرام میں طلبہ بھی فون کے ذریعہ سوالات پوچھتے ہیں۔ اس یونیورسٹی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں گریجو یشن سطح پر بی ایس سی ، بی کام اور بی اے میں اردو میڈیم کے ذریعے امتحان میں شریک ہونے کی اجازت ہے ۔

اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی: ہندوستان میں فاصلاتی نظام تعلیم کی روایت بہت قدیم نہیں ہے۔ یہاں مراسلاتی یا فاصلاتی تعلیم کا آغاز دہلی یونیورسٹی میں 1962 میں ہوا اور دھیرے دھیرے ملک میں فاصلاتی نظام تعلیم کا بتدریج فروغ ہوتا چلا گیا۔اس طرح 1985 میں پارلیامنٹ کے ایکٹ کے تحت اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی (اگنو) کا قیام عمل میں آیا۔ صرف فاصلاتی تعلیم کے لیے مختص آج یہ حکومت ہند کی واحد یونیورسٹی ہے جو اپنی بعض خصوصیات کی بنا پر امتیازی حیثیت رکھتی ہے ۔اس کے مقاصد میں تعلیمی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ملک میں فاصلاتی نظام تعلیم کا فروغ بھی شامل ہے۔اس ضمن میں اگنو اوپن یونیورسٹیوں اور اوپن لرننگ کا سب سے اہم ادارہ ہے جو انہیں رہنمائی کے ساتھ ساتھ فاصلاتی نظام تعلیم کے فروغ کے لیے فنڈ بھی فراہم کرتی ہے۔ اس طرح یہ یونیورسٹی پچھلے24 برسوں سے فاصلاتی نظام تعلیم اور اس سے متعلق پالیسیوں کو وضع کرنے میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

تعلیمی سال 2007 میں یہاں داخلہ لینے والوں کی تعداد پانچ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جب کے یہاں 2008 تک داخلوں کی کل مجموعی تعداد (Cumulative student strength) 25,لاکھ کے قریب ہے اور یہ تعداد ہندوستان میں فاصلاتی نظام تعلیم کے طلبہ کی کل مجموعی تعداد کا15 فیصد اور اعلی تعلیم کا 10 فیصد ہے۔ آج یہ ممالک دولتِ مشترکہ کی سب سے بڑی یونیورسٹی ہے۔ یہاں 175سے زائد تعلیمی، پروفیشنل، پیشہ وارانہ اور دیگر معلوماتی پروگرام/ کورس کی تعلیم و تدریس کا انتظام ہے جس سے تقریباً 20 لاکھ طلبہ مستفید ہو رہے ہیں۔حکومتِ ہند نے 20ستمبر 2004 کو تعلیم کے لیے مختص ایک تعلیمی سیٹلائٹ EDUSAT کا آغاز کیا ۔اس سیٹلائٹ کے آغاز اوربین یونیورسٹی الحاق(Inter University Consortium) کے قیامِ عمل سے بھر پور فائدہ اُٹھاتے ہوئے یونیورسٹی نے ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیمی فروغ کے ایک نئے دور کاآغاز کیا۔اس نئی ٹیکنالوجی # معاہدے بالخصوصEDUSAT کے بدولت یہاں کے تعلیمی پروگرام یونیورسٹی کے خصوصی ٹی وی چینل “گیان درشن” کے ذریعے تقریباً پانچ لاکھ سے ز ائد لوگوں تک پہنچ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اگنو نے اپنے تعلیمی پروگرام کی خصوصی نشریات کے لیے گیان وانی ایف ایم ریڈیو اسٹیشن بھی قائم کیا ہے۔ ان ایف ایم ریڈیو اسٹیشنوں کی تعداد ابھی 26ہے او رعنقریب مزید 26نئے ریڈیو اسٹیشن کھلنے جارہے ہیں۔ ان ایف ایم ریڈیو اسٹیشنوں کے ذریعے اگنوایک گھنٹے کامشاو راتی تعلیمی پروگرام نشر کرتی ہے۔ا سے Phone in programme کہا جاتا ہے۔ اس سے طلبہ کو بڑی آسانی ہوتی ہے۔ اگنو نے حال ہی میں ایک سائنس چینل آزما ئشی طور پر شروع کیا ہے اس میں سائنسی مضامین کے متعلق معلوماتی اور نصابی پروگرام نشر کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ اگنو اپنے تعلیمی پروگراموں کے پھیلاؤاور طلبہ کی سہولیت کے لیے ٹیلی کانفرنسنگ ریڈیو،آڈیو، سی ڈی جیسے ابلاغیاتی آلات کا استعمال بڑی کثرت سے کرتی ہے۔ اگنو کے تمام ریجنل سینٹر اورکثیر داخلہ والے140 مطا لعاتی مرا کز دو طرفہ میڈیا کونفرنسنگ (Two way media confrencing) کے ذریعہ آپس میں مربوط ہیں۔نئی ابلاغیاتی ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یونیورسٹی بہت جلد ہی آن لائن انٹڑیکٹو میڈیا کورس شروع کرنے جارہی ہے۔

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی :- اعلیٰ سطح پر اردو میڈیم تعلیم کی سہولتیں مہیا کرنے کے لیے حکومت ہند نے 1998 میں یہ یونیورسٹی قائم کی جسے روزِ اوّل سے فاصلاتی اور روایتی دونوں طریقہ تعلیم اختیار کرنے کی آزادی دی گئی ہے۔ ایک قومی یونیورسٹی اور صرف اردو ذریعہ تعلیم کی واحد یونیورسٹی ہونے کے ناطے اس کے دائرہ کار میں پورے ملک کی اردو آبادی کی اعلیٰ تعلیمی ضرورتوں کو پورا کرنا شامل ہے۔ اسی احساس کے پیشِ نظر اس یونیورسٹی میں فاصلاتی تعلیم کو ترجیح دی گئی اور ابتدائی سال سے ہی یونیورسٹی نے فاصلاتی تعلیم کے ذریعہ اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ ان میں مستقل اضافہ جار ی رہا اور آج یہاں 14 کورس فاصلاتی نظامِ کے ذریعے د ستیاب ہیں جن میں پوسٹ گریجویٹ اور بی ایڈ جیسے پیشہ ورانہ پروگرام بھی شامل ہیں۔

 سال 2008-2009 کے دوران تقریباً یہاں 14000 طلبہ نے گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کے مختلف کورسوں میں داخلہ لیا۔ اس طرح اس وقت یونیورسٹی کے فاصلاتی طریقہ تعلیم میں رجسٹرڈ کل طلبہ کی تعداد000 160, ہوگئی ہے ۔جن میں تقریباً 66 ہزار طلبہ فعال اور فاصلاتی نظام تعلیم کے ذریعہ حصول تعلیم میں سرگرم ہیں۔ جو ملک بھر میں پھیلے اس کے 160 مطالعاتی مراکز سے جڑے ہوئے ہیں ۔ یونیورسٹی کے قیام سے لے کر 2009 تک یہاں تقریباً 10ہزار طلبہ مختلف کورسوں میں کامیابی حاصل کرچکے ہیں۔

اردو یونیورسٹی نے اپنی تعلیمی کوششوں کی نشرواشاعت کے لیے جدید اطلاعاتی اور ابلاغیاتی ٹکنالوجی کے اطلاق کی اہمیت کے پیش نظر اپنی تعلیمی پروگرام کی ویڈیو اور آڈیو، سی ڈی تیارکی ہیں تاکہ فاصلاتی نظام تعلیم کے طلبہ اس سے خاطر خواہ فائدہ اٹھا سکیں۔ صرف یہی نہیں ان پروگراموں کے ٹیلی کاسٹ / نشریات کے لیے یونیورسٹی نے اپنے قیام کے 10سال کی تکمیل پر دور درشن کے ساتھ بھی ایک یاد داشت مفاہمت پر دستخط کیا ہے ۔ جس کے تحت جنوری 2008 سے دور درشن اردو چینل پر فاصلاتی تعلیم کے پروگرام اور اردو زبان کے تاریخی ، تہذیبی اور لسانی پس منظر اور موجودہ صورتحال پر مختلف پروگرام ٹیلی کاسٹ کیے جارہے ہیں۔ان نشریات سے اردو یونیورسٹی کے فاصلاتی نظام ِ تعلیم کے طلبہ کی ایک بڑی تعداد کے علا وہ اردو آبادی بھی مستفیض ہورہی ہے ۔ سال 2009 کے آغاز میں ابلاغیاتی ٹکنالوجی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اردو یونیورسٹی نے ایف ایم ریڈیو کے ذریعے اپنی نشریات شروع کی ہیں جو ابھی ہفتہ روزہ ہیں۔ اس سے بالخصوص ان طلبہ کو فائدہ حاصل ہورہا ہے جن کی پہنچ ٹیلی ویژن تک نہیں ہے ۔ فاصلاتی تعلیم سے ذرائع ابلاغ کو مربوط کرنے کے ایک حصہ کے طور پر سمعی و بصری مواد کی تّیاری کی غرض سے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے ایک انسٹرکشنل میڈیا سینٹر قائم کیا ہے ۔یہ میڈیا سینٹر یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے ابلاغیاتی آلات و سہولت پر مبنی مزید اکتسابی مواد کی تیاری میں مصروف ہے اور اب تک یہاں سے نصاب پر مبنی 114 ویڈیو پروگرام، 42 ڈاکیومینٹری اور 100 آڈیو پروگرام تیار کیے جا چکے ہیں۔

جولائی 2008 میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی اور ممالکِ دولتِ مشترکہ کی سب سے بڑی یونیورسٹی اگنو نے اردو ویڈیواسباق کے تبادلے کے لیے ایک یادداشت مفاہمت پر دستخط کیاہے ۔ اس مفاہمت سے فاصلاتی تعلیم کے لیے الیکٹرانک تدریسی مواد کے اشتراک کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ ا اس طرح سے اردو یونیورسٹی کے طلبہ بھی اگنو کے معیاری ، نصابی پروگرام سے مستفیض ہورہے ہیں۔

مجموعی طور پر یہ کہا جاسکتاہے کہ ذرائع ابلاغ کی نئی تکنیکوں کی آمد سے تعلیم کے پھیلاؤ میں ایک بڑا انقلاب آیا ہے اور آج دنیا کی تمام یونیورسٹیاں خواہ وہ فاصلاتی تعلیم یا رسمی نظامِ تعلیم کی ہوں، نئی ابلاغیاتی تکنیکوں سے بھر پور فائدہ اٹھا رہی ہیں اور مستقبل میں امید کی جاسکتی ہے کہ تعلیم تک صرف خاص لوگوں کی رسائی کاتصور مکمل طور پر ختم ہوجائے گا اور سب لو گ اس سے یکساں طور پے مستفید ہو سکیں گے۔

حوالے:

 1. فاصلاتی تعلیم میں طلبہ کی امداد۔ جدران پبلیکیشن

 2. روزنامہ جنگ کراچی ۔ 02- اگست 2008

3. یونیور سٹی نیوز ۔ (A Weekly Journal of Higher Education , August-2009)

4. Growth and Philosphy of Distance Education – ES- 311- IGNOU

 5. www.indiaeduinfo.com

6. www.ignou.ac.in

1.      Growth and Philosophy of Distance Education ES-311 (IGNOU)

2.      Communication Technology for Distance Education ES-318

3.      University News: A weekly Journal of Higher Education 2009

4.5.   www.indiaeduinfo.com

6.      www.ignou.ac.in

7.      www.ccrtvu.com

8.      www.braou.ac.in

About admin

Check Also

Tltle 2

مشاہدات

میرے سفرناموں کا مجموعہ “مشاہدات” جلد منظر عام پر آئے گا Share on: WhatsApp

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *