Home / Articles / جمہوری اقدار کے فروغ میں اردو شاعری کامخلصانہ کردار

جمہوری اقدار کے فروغ میں اردو شاعری کامخلصانہ کردار

ابرار احمد اجراوی

جمہویت’ عوام کے لیے اور عوام کے ذریعے سے موسوم‘ ایسا اجتماعی طرز حکومت ہے جس میں سیاسی نمائندوں کے انتخاب سے لے کر عوام کے لیے وضع کی جانے والی پالیسیوں پر بھی عوامی خواہشات ہی اثر انداز ہوتی ہیں۔ جمہوری نظام حیات میں نہ صرف یہ کہ آزادی، مساوات اور تمام شعبہائے حیات میں ہر شہری کو روزگار اور ترقی کے یکساں مواقع حاصل ہوتے ہیں، بلکہ منتخب حکمرانوں کو بھی عوام کے سامنے اجتماعی مفاد کی ضمانت کے تئیں،جواب دہی کی ذمے داری اد کرنی پڑتی ہے۔ شعرو ادب کا تعلق چوں کہ راست طور پر عوام سے ہوتا ہے، اس لیے اردو زبان خصوصا شاعری نے ہمیشہ جمہوری اقدار اور عوامی جذبات واحساسات کی ترجمانی کا مقدس فریضہ انجام دیا ہے۔ فرقہ پرستی، نسلی منافرت، ظلم وتشدد کے خلاف وہ ہر موقع پر سینہ سپر نظر آتی ہے۔ اتحاد ویک جہتی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، آزادی رائے، احترام آدمیت، حقوق انسانی کا تحفظ، منصفانہ اقدار کے فروغ، غریبوں اور مفلوک الحالوں کی حمایت، جاگیر داروں اور آمروں، نیزغیر ملکی سامراج کے خلاف عوامی رائے عامہ کی ہمواری، ابتدا سے ہی اردو ادب کے شریانوں میں خون بن کر دوڑ تا رہا ہے۔ اردو کے پہلے شاعر امیر خسرو کے عہد سے لے کر جدید ٹکنالوجی کے دوش پر سوارموجودہ دور تک اردو شاعری عوامی مزاج کی نمائندگی کا مستانہ اور رندانہ رول اد کرتی رہی ہے۔ترقی پسندی،جدیدیت اور مابعد جدیدیت کی پیچیدہ ادبی بحثوں اور ادبی بساط پر کھیلی جانے والی بازی گری نے بھی اردو ادب کی اس عوامی اور جمہوری شناخت پر اپنا کوئی منفی اثر مرتب نہیں کیا، بلکہ ادبی اور تنقیدی مکاتب میں جس قدر توسیع اور تکثیر ہوتی رہی، اردو ادب کا جمہوری چہرہ مزید آب وتاب کے ساتھ نکھر کر سامنے آیا ہے۔ کیوں کہ آل احمد سرور کے مطابق :” یہ ( اردو) جمہور کی زبان اور جمہور کا ادب ہے۔ جمہور نے اسے گویائی بخشی اور جمہور نے اسے پروان چڑھایا۔ “

ہندستان میں آئینی جمہوریت کی صبح تو ۱۵/ اگست ۱۹۴۷ء کو طلوع ہوئی، لیکن اردو ادب میں اس کی بازگشت امیر خسرو کے عہد سے ہی سنائی دیتی ہے۔ میر و سودا کے عہد میں بھی جمہوریت کے اصول اور آدرشوں پر مبنی مضامین اردو شاعری میں نظم کیے گئے ہیں۔ علامہ اقبال نے گرچہ جمہوریت پر تنقید کی تھی، لیکن ان کی تنقید کا نشانہ وہ جمہوریت تھی، جس کی آڑ میں آمریت اور شہنشاہیت کی پرورش کی جاتی ہے۔ وہ جانتے تھے کہ مجوزہ جمہوریت سرمایہ دارانہ مغربی نظام کی زائیدہ ہے ، وہ ایسی جمہوریت کو آزادی کی نیلم پری نہیں، بلکہ جمہوری قبا میں ملبوس دیو استبداد سے تعبیر کرتے تھے۔ علامہ اقبال نے خضر راہ میں یہی کہا ہے، جس سے ان کے مغربیت زدہ جمہوریت کے تصور کو تقویت ملتی ہے:

ہے وہی ساز کہن، مغرب کا جمہوری نظام

جس کے پردوں میں نہیں، غیر از نوائے قیصری

اگر علامہ اقبال عوامی آزادی اور مساوات سے عبارت جمہوری طرز حکومت کے مخالف ہوتے، تو وہ نہ تو ’سلطانی جمہور ‘کی آمد کی روح افزا نوید سناتے اور نہ ہی ہر’ نقش کہن‘ کو پیروں تلے روند ڈالنے کی اپیل کرتے۔ نظیر اکبر آبادی ، الطاف حسین حالی، شبلی نعمانی، مولانا محمد حسین آزاد، اکبر الہ آبادی، اسماعیل میرٹھی، سر سید اور ان کے دوسرے رفقائے کار اور ان اساطین ادب کے بعد حسرت موہانی، مولانا محمد علی جوہر، فیض،جوش ، فراق، تلوک چند محروم، علامہ جمیل مظہری، ساحر لدھیانوی، علی سردار جعفری وغیرہم نے اردو ادب کی اس جمہوریت نوازی کو اپنے فکر وفلسفے کی آنچ دی اوراس کو ایک پسندیدہ طرز حکومت کے طور پر اطراف عالم میں متعارف کرانے اور سنجیدگی اور اعتدال کے ساتھ اس نظام کی مدح وستائش میں اپنی زندگی کے قیمتی شب وروز ایک کردیے۔

اردو زبان کے آغاز وارتقاء کا زمانہ وہ ہے جب ہندستان کے سیاسی نظام پرنام نہاد بادشاہی طرز حکومت کا غلبہ تھا اور عوامی اصول زندگی کو محور اور مرکز کی حیثیت حاصل نہیں تھی، اس کے باوجود کیاہندو اور کیا مسلم سبھی نے جمہوری اور عوامی اقدار کے مظاہر کی حمایت اور اس کو سیاسی اور سماجی زندگی کے دھارے میں شامل کرنے کا زریں درس دیا ہے۔ ہمارے صوفیوں، بھگتوں، جوگیوں،رشیوں منیوں اور راہبوں نے انسانیت نوازی، حب الوطنی، احترام انسانیت سے آمیز مضامین کو اپنے پیغامات میں مرکزیت دی ہے۔ بعض شعرا نے اردو کے شعری اور نثری افق پر اسی حوالے سے اپنی شناخت قائم کی کہ وہ عوامی جذبات کی ترجمانی کو بنیادی قدر کے طور پر برتتے تھے اور ان کی تخلیقی ذہانت کا محور ومطاف وہ انسانی مسائل تھے، جو راست طور پر عام آدمی کی روزمرہ کی زندگی سے مربوط تھے۔ اردو کی جمہوریت پرستی اور اس کی عوامی اساس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ وہ درباروں اور شاہی محلات سے کہیں زیادہ بازاروں اور خانقاہوں کی گود میں کھیلی کودی اور بادشاہوں اور امراء کی زر آمیز سر پرستی میں نہیں، بلکہ صوفی سنتوں کی ، سیم وزر سے خالی، مگرانسانیت آشنا آغوش میں پروان چڑھی ہے۔ اس کی پرورش وپرادخت اور اس کو ایک صاف ستھری زبان کا مقام عطا کرنے میں انھی صوفی سنتوں کا لہو شامل ہے۔ دکن جو اردو کا اولین مرکز ہے، وہاں کے ادیبوں اور شاعروں کے فکری سرمایے اور بنیادی فلسفے پر بھی،چاہے انھوں نے شاہی درباروں میں ہی ادب خلق کیوں نہ کیا ہو، جمہوریت کا پختہ رنگ چڑھا ہوا ہے۔ قلی قطب شاہ، غواصی، نصرتی، نظامی بیدری، شوقی، وجہی ، ولی اور سراج وغیرہ کے اشعار پر عوامی افکار وتصورات کا ناقابل محو نقش ثبت ہے۔

شمالی ہند جو اردو ادب کے ارتقا کی دوسری جنم بھومی ہے اور جہاں اردو ادب نے اپنی ارتقائی منزلیں بڑی آسانی اور حوصلے اور جذبے کے ساتھ طے کی ہے یہاں بھی آغاز سے ہی عوامی آواز اور عام لوگوں کے مسائل کو ردیف و قافیے کا پیکر عطا کرنے میں ہمارے شاعروں نے کسی غفلت اور لاپروائی سے کام نہیں لیا ہے ۔ یہ دو شعر دیکھیں، جن میں کثرت میں وحدت کی دعوت کے ساتھ مذہبی بنیادوں پر تفریق کی مذمت کی گئی ہے، ایک شاہ حاتم کا ہے اور دوسرا شاکر ناجی کا۔

کعبہ ودیر میں حاتم بخدا غیر خدا

کوئی کافر نہ کوئی ہم نے مسلماں دیکھا

نہیں ہے وحدت و کثرت میں فرق مومن وکافر

کہ یہ کہتا ہے ہردم دحدہ اور وہ کہے ہر ہر

زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں، اگر صرف انیسویں صدی کے دائرے میں رہ کر بھی باتیں کریں تو اردو شاعری کا چمکتا ہوا جمہوری چہرہ قدم قدم پر نظر آئے گا۔۱۸۵۷ء کی پہلی جنگ آزادی کے بعد پورے ملک پر برطانوی سامراج کے تسلط کا توڑ کرنے اور ہندستانیوں کے اکھڑے ہوئے قدموں کو دوبارہ جمانے کے لیے کئی اصلاحی تحریکات نے جنم لیا۔ سر سید اور ان کے رفقائے کار نے خاص طور سے مسلمانوں کی اصلاح کا بیڑا اپنے سر اٹھایا، انھوں نے اس خوابیدہ قوم کو بدلتی زندگی کا سبق پڑھانے اور اس کو ترقیوں کے رواں قافلے سے ہمدوش کرنے کے لیے اردو زبان وادب کا ہی سہارا لیا اور ایسے ادب کی تشکیل کی حمایت کی اور ملک کے ادیبوں کو ایسا ادب خلق کرنے کی دعوت دی، جس میں طبقئہ جمہور کی آواز اٹھائی گئی ہو۔ سر سید کی علی گڑھ تحریک نے ادب کو دربار اور کوٹھریوں سے نکال کر عوامی چوپال اور چوک چوراہے کی زینت بنایا۔ ان کی کوششوں سے نہ صرف شاعری اور نثر کے موضوعات تبدیل ہوگئے، بلکہ ادبی اصناف میں بھی مختلف تبدیلیوں کی گنجائش نکالی گئی، قصیدہ نگاری ، داستان نویسی اور عشق وعاشقی پر مبنی غزلوں کی زنجیروں سے اردو ادب کو آزاد کرایا گیا اوراس کی جگہ ناول، افسانہ اور جمہور کے مسائل سے قریب موضوعاتی نظموں کا اضافہ کیا گیا، جس میں عام انسان اور جمہور کو مرکز بنایا گیا۔

انیسویں صدی صرف سیاسی اعتبار سے ہی جاں گسل اور مسائل انگیز نہیں تھی، بلکہ اس سیاسی شکست وریخت نے زندگی کی دوسری معاشرتی اور سماجی اقدار کو متأثر کرنے کے ساتھ ہماری زبان کے ادبی اور شعری سرمایے پر بھی اپنے ہمہ گیر اثرات مرتب کیے۔ جاگیر دارانہ نظام اور انگریزوں کے ناپاک سایے کے زیر اثر عوامی جذبات کی ترجمانی اور اردو کے انقلابی اور جمہوری کردار کی تلاش آسان کام نہیں تھا۔ اس لیے ہمارے ادیبوں نے عوامی اقدار کی ترجمانی کے لیے کچھ مصلحتوں کے پیش نظر رمز وکنایے اور استعارے اور تشبیہات کے توسط سے عوامی افکار اور تصورات کی ترجمانی کی۔ میر تقی میر کی بیش تر غزلیں انسانی اور عوامی اقدار کے ارد گرد گردش کرتی ہیں، سودا کے شہر آشوب اور میر درد کے متصوفانہ کلام نے بھی عوامی اقدار کو ہی الفاظ کا پیکر عطا کیا ہے۔ میر تقی میر کے اس شعر میں بے رحم حالات کے بطن سے جنم لینے والے جان لیوا مسائل اور احساس بیچارگی کی کتنی حسین تصویر کھینچی گئی ہے:

مزاجوں میں یاس آگئی ہے

نہ مرنے کا غم ہے نہ جینے کی شادی

اور اس شعر میں تنگی زمانہ اور پریشاں حالی کی تعبیر کا کتنا اثر انگیز تشبیہی انداز اختیار کیا ہے:

شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہے

دل ہوا ہے چراغ مفلس کا

عوامی شاعر نظیر اکبرابادی کی نظمیں: شہر آشوب، مفلسی، روٹی، عید اور ہولی وغیرہ عوامی جذبات واحساسات اور قومی امنگوں کی ترجمان ہیں، انھوں نے عوامی مسائل کی ترجمانی اور ان کے جذبات واحساسات کی پاسدار ی میں اپنے فن اور تخلیقی بہاوٴ سے خوب کام لیا ہے۔ ان کی بنیادی لفظیات کا خمیر ہی عوامی خیالات کی آمیزش سے اٹھا ہے۔ جیسے یہ اشعار:

صراف، بنیے، جوہری اور سیٹھ ساہوکار

دیتے تھے سب کو نقد سو کھاتے ہیں اب ادھار

بازار میں اڑے ہے پڑی خاک بے شمار

بیٹھے ہیں یوں دکانوں پہ یہ اپنی دکان دار

علامہ اقبال تو ہماری مفاد پرست اور موقع شناس سیاست کی بھینٹ چرھ گئے، ورنہ ان کے اشعار کی بنیادی ساخت اور زیریں لہروں پر غور کریں تو و ہاں بھی جمہوریت کا روشن چہرہ نکھر کر سامنے آتا ہے۔آزادی رائے، حب الوطنی، انسانیت دوستی، عالمی مسائل وغیرہ پر ان کی جتنی نظمیں ہیں، ان میں جمہوریت اور سیکولر ازم کی تابناکی اور درخشندگی نظر آتی ہے۔ ترانہ ہندی، نیا شوالہ، اور تصویر درد میں قومی یک جہتی، فرقہ وارانہ یک جہتی اور سیکولرازم کے آفاقی تصور کو پیش کیا گیا ہے۔اگر جمہوری نظام میں مساوات کو ترجیحی حیثیت حاصل ہے، تو اس شعر کی ہر ہر سطر سے مساوات کے چشمے ابلتے ہیں، اقبال نیا شوالہ میں کہتے ہیں:

آ! غیریت کے پردے ایک بار پھر اٹھا دیں

بچھڑوں کو پھر ملا دیں، نقش دوئی مٹا دیں

اور اپنی مشہور زمانہ نظم لینن خدا کے حضور میں مروجہ عوامی مسائل کی ترجمانی ان لفظوں میں کرتے ہیں:

بے کاری وعریانی و مے خواری وافلاس

کیا کم ہیں فرنگی مدنیت کے فتوحات

اور جب اقبال نے یہ شعر کہا تو جمہوریت اور سیکولرازم کے سارے تصورات ذہن کی اسکرین پر نمایاں ہوگئے :

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا

ہندی ہیں ہم وطن ہیں ہندستاں ہمارا

غالب نے ، جنھوں نے اجڑتی ہوئی دلی اور لٹتے ہوئے لال قلعے کا خوفناک چہرہ دیکھا ہے، بھی عوامی اور جمہوری اقدار کی ترجمانی میں کسی پس وپیش سے کام نہیں لیا ہے۔ ان کی شاعری کا ملغوبہ ہی اس عہد کی مروج عوامی زندگی پر مسلط ابتری اور بد حالی جیسے عناصر سے تیار ہوا ہے۔ دلی کی تباہی و بربادی اور عوامی امنگوں کی پامالی کا کتنی شاندار مرقع کشی ان متفرق غزلوں کے اشعار میں ہے:

چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے

گھر بنا ہے نمونہ زنداں کا

شہر دہلی کا ذرہ ذرہ خاک

تشنہ خوں ہے ہر مسلماں کا

کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ

صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا

نہ دے نامے کو اتنا طول عالب

کہ حسرت سنج ہوں عرض ستم ہائے جدائی کا

آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر نے ان اشعار میں صرف اپنے اجڑے دل کی دنیا کا حال ہی نہیں، بلکہ پورے ہندستان کی حالات کا رس نچوڑ کر رکھ دیا ہے:

لگتا نہیں ہے جی مرا اجڑے دیار میں

کس کی بنی ہے اس عالم ناپائیدار میں

کہہ دو یہ حسرتوں سے کہیں اور جابسیں

اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں

حب وطن کے جذبے سے سرشار پنڈت برج نارائن چکبست کی شاعری تو عوامی اقدار کے ہی تانے بانے سے تیار ہوئی ہے۔ انھوں نے حب الوطنی کے نعمے چھیڑے نے کے ساتھ اس وقت کے عوامی مسائل اور جمہوری روایات کو بھی شعری پیکر عطا کیا ہے۔ ان کی نظمیں راماین کا ایک سین اور آوازئہ قوم میں بعض جمہوری قدروں کو از سر نوآواز دی گئی ہے۔ دیکھیے یہ اشعار:

یہ آرزو ہے کہ مہر ووفا سے کام رہے

وطن کے باغ میں اپنا ہی انتظام رہے

گلوں میں گل چیں نہ صبح وشام رہے

نہ کوئی مرغ خوش الحاں اسیر دام رہے

۱۹۳۶ء میں رومانیت کے رد عمل کے طور پر ادبی منظرنامے پر ابھرنے والی ترقی پسند تحریک کے منشور میں ہی عوامی جذبات کی ترجمانی اور امن ومحبت کی تشہیر وتبلیغ پر زور دیا گیا تھا اور ہر قسم کی غلامی، استحصال، سماجی عدم مساوات اور طبقاتی تفریق کے خلاف اس تحریک نے شمشیر برہنہ کا کردار ادا کیا ۔ جمہوریت کی حمایت، انصاف کا مطالبہ، سماجی عد مساوات کا خاتمہ، احترام انسانیت اور عوامی رائے کا احترام یہی کچھ ترقی پسند ادب کا محور تھا۔ شاعری میں جہاں جوش، فیض، علی سردار جعفری، مجروح سلطان پوری، مخدوم محی الدین، اسرار الحق مجاز، ساحر لدھیانوی، جذبی، جاں نثار اختر اورشمیم کرہانی وغیرہ نے اپنی فکر کا خمیر جمہوری عناصر سے تیار کیا، وہیں نثر میں عصمت چغتائی، کرشن چندر، بیدی، بلونت سنگھ ، حیات اللہ انصاری وغیرہ نے طبقئہ جمہور کی آواز حکومت کے ایوانوں تک پہنچانے میں پیغام بر نثر نگار کا رول ادا کیا۔ ساحر لدھیانوی نے احتجاج اور مزاحمت کی راہ اختیار کی اور اپنی ندرت فکر اور راست گوئی سے کام لے کر زمینی مسائل کو اپنے احساس کی شدت کا جامہ پہنایا ۔ ساحر نے ہمشہ دو قومی نظریے کی مذمت کی، جمہوریت پرستی کا ثبوت دیتے ہوئے وحدت میں کثرت کی حمایت کی ۔ ان کی دو نظمیں’ آج‘ اور’ مفاہمت ‘جمہوریت کا سر نامہ بننے کی حقدار ہیں۔ ایک نظم میں کہتے ہیں:

مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی

یشودھا کی ہم جنسی، رادھا کی بیٹی

۱۹۴۷ء میں ملک کی تقسیم کے بعدفرقہ واریت کے سایے میں ہمارے شاعروں نے جمہوری اقدار کو جب بھی مجروح ہوتے دیکھا، اس تلخی اور تیزی کو اپنے فن کے قالب میں ڈھال دیا۔ انھوں نے جمہوریت اور سیکو لرازم کی آڑ میں اپنے مفادات کی سیاست کرنے والے عوامی نمائندوں پر بھی تنقید کا تیر چلایا ہے کہ آشو ب و ابتلا کے عہد میں اردو شاعری ہی امید کی واحد کرن بن کر نمودارر ہوتی ہے۔ آزادی اورجمہوریت کو ایک سیاسی نظام کے طور پر قبول کر لینے کے بعد ہمارے شاعروں نے تہذیبی وحدت کا سفیر بن کر جمہوریت کے ستونوں کو مضبوطی عطا کرنے کے لیے ایسی شاعری کی ، جس سے جمہوریت کا قد مزیداونچاہوا۔ تلوک چند محروم کی نظم’ آزاد ہندستان‘، جعفر علی خاں کی نظم ‘ جشن جمہوریت‘ سراج لکھنوی کی نظم’ جشن جمہور‘رضا نقوی واہی کی نظم‘ یوم جمہور‘ جمہوری قدروں کی بحالی کے تعلق سے حوالے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ معاصر شعرا بھی مشاعرے کے پر وقار اسٹیج سے ملک کے طول وعرض میں بھائی چارہ، اتحاد اور اخوت ومحبت کا چراغ روشن کرنے کے لیے ا پنا خون جگر جلا رہے ہیں۔ لیکن چند شر پسند عناصر کی آنکھوں میں ان کی یہ کوششیں کانٹا بن کر کھٹکتی رہتی ہیں۔اور وہ جمہوریت، سیکولرازم، رواداری کی فضا کومکدر کرنے کی تاک میں لگے رہتے ہیں۔ آج پھر ضرورت ہے کہ ہمارے انصاف پسند دانشور اور انسانی درد رکھنے والے قومی رہنما آگے آئیں اور تلوک چند محروم کی نظم ”۲۶/جنوری “کو عملی جامہ پہنائیں کہ یہیں سے ہندستان کی ہمہ جہت ترقی کا نیا دور شروع ہو سکتا ہے۔ محروم کہتے ہیں:

بھارت کا عزم ہے یہ ، توفیق اے خدا دے

دنیا سے ایں وآں کی تفریق کو مٹاد ے

امن واماں سے رہنا ہر ملک کو سکھادے

ہر قوم شکریے میں ہر سال یہ صدا دے

روز سعید آیا چھبیس جنوری کا

دور جدید لایا بھارت کی برتری کا

D *ABRAR AHMA

ROOM NO. 21, LOHIT HOSTEL

JAWAHARLAL NEHRU UNIVERSITY

NEW DELHI 11006

MOB:9910509702

About admin

Check Also

Tltle 2

مشاہدات

میرے سفرناموں کا مجموعہ “مشاہدات” جلد منظر عام پر آئے گا Share on: WhatsApp

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *