Home / Literary Articles / اردو میں خطوط نگاری کی روایت اور ای میل کی نئی تکنیک
لفافہ

اردو میں خطوط نگاری کی روایت اور ای میل کی نئی تکنیک

پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین

IMG_1135

اردو میں خطوط نگاری کی روایت اور ای میل کی نئی تکنیک

اردو میں مکتوب نگاری بڑی حد تک فارسی اور عربی مکتوب نگاری کے زیر اثر شروع ہوئی، تاہم دور حاضر کے برقی مکتوب(E-mail)کا سہرا اہل مغرب کی تکنیک پسند اختراعی ذہنیت کی دین ہے، ای، میل مراسلہ نگاری کی جدید ترین شکل ہے، مرسل اور مرسل الیہ کے مابین مراسلت  اب برقی خط و کتابت میں تبدیل ہو گئی ہے، ماضی کی طرح یہاں بھی مرسل (Sender) اور مرسل الیہ(Recipient)اور نفسِ مضمون جس کی ترسیل مطلوب ہوتی ہے ، خط ، چٹھی اور مکتوب کی جگہE-mailکی اصطلاح رائج ہے، البتہ یہاں نامہ بر اور قاصد سے کلیۃً نجات حاصل کرلی گئی ہے۔ اسی کے ساتھ اخفائے راز کا خدشہ اور قاصد سے رقیبانہ تردد نے بھی دم توڑ دیا ہے، ’ڈاکیہ آیا، ڈاک لایا‘ جیسے خوشگوار احساس نے بس راستہ بدلا ہے۔ اب نہ نظام ڈاک کی صعوبتیں ہیں اور نہ ڈاک کھونے کا خوف، اگر مرسل نے میل کر دیا ہے تو اس کی ترسیل کو بھی Send میں جاکر معلوم کیا جا سکتا ہے اور مشینی ڈاکیہ آپ کو فوراً مطلع بھی کر دے گا کہ آپ کا میل بخوبی ہدف تک پہنچ چکا ہے۔ اب ہفتوں ، مہینوں کا انتظار چہ معنی دارد؟ اب وصل ہی وصل ہے، منٹوں، سکینڈوں میں شئی مطلوب کا میسر آنا کیا ہے؟ محسوس ہوتا ہے کہ ہم ’کھل جا سمسم‘ کے عہد میں سانس لے رہے ہیں اور ہتھیلیوں میں     سما جانے والا Mouse آپ کی انگشت کے اشارہ کا غلام ہے ، آپ نے حکم دیا اورمراد بر آئی۔

لفافہ بند مراسلے ماضی کی روایات کا حصہ ہوتے جا رہے ہیں اور ہجر سے بھی بڑی حد تک نجات مل گئی ہے ، برقی عہد میں لفافہ دیکھ کر مضمون بھانپ لینے کا تصور بھی محو ہوتا جا رہا ہے۔ اب نہ لفافے کی ضرورت ہے اور نہ اس مشاقی کی جو بادی النظر میں مضمون آفرینی کا پارکھ ہوبلکہ برقی مکتوب میں آپ مضمون کا پتہ محض Subject Line  دیکھ کر لگا سکتے ہیں۔

ای میل کا نظام دراصل دور حاضر کی برق رفتار زندگی کا استعار ہ ہے۔یہ نظام ’’عزیز ی القدر ،پیارے بابو فلاں——کو معلوم ہو‘‘والی فراغت کو محض جناب،جناب والا (Hello,Hi )کا مختصر اور بر محل پیمانہ دینا چاہتا ہے، ویسے زندگی سے بھرپور خطوط لکھ کر غالبؔ نے اپنے عہد میں آداب و القاب اور عبارت آرائی کے کفر پر ضربیں لگائی اور’’المکتوب نصف الملاقات‘‘ کے محدود پیمانہ کی تنقیص کرتے ہوئے خط کو ’مکالمہ‘ بنانے کی عملی کوشش کی۔ غالبؔ کے متاخرین میں اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے، سرسید نے محسن الملک کے نام ایک مکتوب میں لکھا کہ’’……جس قدر خوشی آپ کے عنایت نامے پہنچنے سے ہوئی بیان نہیں کر سکتا۔ یہ مقولہ کہ ’’ الخط نصف الملاقات‘‘ غلط بلکہ پوری ملاقات کا لطف ہوتا ہے……‘‘۔

سرسید نے صنف مکتوب میں اسلوب، خلوص اور صدق و وفا کی بنا پر مکتوب کو پوری ملاقات کا حاصل بتایاتاہم آج کے ہائی ٹیک عہد میں برقی مکتوب کے پہلو بہ پہلو دوسری معاون تکنیک (ویب کیمرہ اور ٹیلی فون)نے بدیہی ملاقات کو حقیقت سے قریب تر کر دیا ہے۔ تکنیک کی اس کلیت(Totality)نے ہجر کی کلی تردید کرکے محض وصال کے تصور کو پائدار کیا ہے اور یہ سبھی کچھ آج کے تکنیکی ترقی کا فیضان ہے۔

نظام ای میل میں Attachmentکی سہولت نے اس کی افادیت میں ناگزیر اضافہ کیا ہے۔ برقی خط کے ساتھ کوئی الیکٹرانک فائل ، فولڈر ، تصویر ، ویڈیو، مضمون حتیٰ کہ پوری کتاب بھیجی جا سکتی ہے۔قدیم ڈاک کی محدودیت کے علی الرغم برقی ڈاک میں ایک خط بیک وقت ایک سے زائد افراد کو بھیجا جا سکتا ہے۔میل پاتے ہی مرسل الیہ کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ خط /میل اس کے علاوہ اور کن لوگوں کو بھیجا گیا ہے۔اگر مرسل میل بھیجتے وقت یہ چاہتا ہے کہ میل کئی افراد تک ایک ساتھ پہنچے لیکن مرسل الیہ کو معلوم نہ ہو کہ یہ میل اس کے علاوہ اور کن لوگوں کو بھیجا گیا ہے تو اس کی سہولت بھی موجود ہے۔مرسل الیہ کے علاوہ بقیہ ای میل ، پتہ Bcc  (Blind Carbon Copy)میں ٹائپ کریں اس طرح بقیہ مرسل الیھم کا نام اور پتہ مخفی ہوگا۔

برقی مکتوب میں تزئین و آرائش اور عبارت کو مختلف رنگوں میں سجا کر پیش کرنے کی پوری گنجائش موجود ہوتی ہے۔سارے رنگ ( Multi Colour) دستیاب ہیں۔مطلوبہ حرف ، لفظ ، جملہ ، پیرا گراف یا گوشہ کو اپنے پسند کے رنگ میں رکھا جا سکتا ہے۔ کسی اہم نکتہ ، حرف، لفظ یا عبارت کو اس کی اہمیت کے پیش نظر جلی حروف (Bold Face)،خط منحنی(Italics)یا انھیں خط کشید  (Underlined)کیا جا سکتا ہے۔ان کا حجم (Size)گھٹایا بڑھایا جا سکتا ہے وغیرہ یعنی وہ جملہ سہولیات  (Facilities)مہیا ہیں جو مشینی کتابت کے اس دور میں شعبۂ طباعت کو حاصل ہیں۔

الیکٹرانک میڈیا کے اس انقلابی عہد میں برقی خط ان سبھی خصائص اور امتیازات کا حامل ہے جنھیں مکتوب کے فنی اور صنفی سیاق میں دیکھا اور محسوس کیا جاتا رہا ہے، البتہ ادبی نقطۂ نظر سے ان مراسلوں کی قدر و قیمت وہی ہے جو قدماء کے خطوط کی ہے؟ یہ غور طلب پہلو ہے ، چونکہ فی زماننا اس کا وسیع تر استعمال کاروباری نقطۂ نظر سے ہو رہا ہے، اب اہل ادب اگر اس متمول ذریعہ ترسیل کا رخ کرتے ہیں تو اس کی ادبی تاریخی ، سماجی اور سوانحی حیثیت بھی دو چند ہوگی اور پھر ان مکتوباتی سرمایہ کی تحفیظ پر بھی غور وفکر کا سلسلہ شروع ہوگا۔

About admin

Check Also

Tltle 2

مشاہدات

میرے سفرناموں کا مجموعہ “مشاہدات” جلد منظر عام پر آئے گا Share on: WhatsApp

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *