Home / Literary Articles / صحافت کے رویے اور فن
med

صحافت کے رویے اور فن

پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین
عہدِ حاضر کی صحافت کے مقام اور اس کی نوعیت کے سلسلے میںیہ کہا جاسکتا ہے کہ مقننہ ،عدلیہ اور انتظامیہ کے ساتھ ساتھ جمہوری ممالک میںیہ ایک اہم ستون کی مانند ہے۔ہر جمہوری ملک میں صحافت کو ایک خاص مقام حاصل ہے بلکہ اب تو صحافت نے اتنا اثر و رسوخ قائم کر لیا ہے کہ حکومت بھی اپنی دفاع کے لیے اس کی سرپرستی شروع کر دی ہے۔ عہد حاضرمیں صحافت کی اس ہمہ گیریت اور دُنیا پرمرتب ہونے والے اس کے اثرات کے حوالے سے یہ طے کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ اسے کیا نام دیا جائے ؟ کیونکہ عام طور پر صحافت کا نام آتے ہی ذہن میں جو تصور آتا ہے وہ ایک ایسے ادارے کا تصور ہوتا ہے جو عوام کے لیے عوام سے حاصل کردہ خبروں کو عوام تک پہنچائے ۔اس ترسیل کے عمل میں صحافت جدید دور سے قبل ایک سماجی ادارے کے طور پر مقبول ہوئی مگر جس سرعت کے ساتھ دنیا نے ترقی کی ہے ۔اس کے دوش بدوش شعبۂ صحافت نے بھی ترقی کی اس منزل میں صحافت کو تلخ و ترش تجربات سے گزرنا پڑا مگر اسی تلخی
ا ور ترشی نے اسے خوشگوار اور شیریں تجربات سے بھی روشناس کرایا۔ خوشگوار اور شیریں تجربات اس وقت ہوئے جب صحافت نے سماج اور سماج کے ٹھیکداروں کو آئینہ دیکھایا۔اپنا تاریکیوں میں چھپا چہرا سرِ عام بے نقاب ہونے سے گھبرائے ہوئے انسان نے صحافی کو سِکّوں کی کھنک سے متحیر کیا تو صحافیوں اور صحافتی اداروں کے لیے یہ خوشگوا رتجربہ نہ صرف حیرت انگیز ثابت ہوا بلکہ بعض اداروں اور صحافیوں نے اسی عمل کو اپنا مقصد ومنہاج بنا لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ صحافت نے اپنی شناخت بھی تبدیل کرنی شروع کر دی اور اب صحافت کے حوالے سے یہ سوالات ذہن میں آنے لگے ہیں کہ آخر صحافت ہے کیا ؟ اور اسے کیا نام دیا جائے؟
٭ کیاصحافت ایک سماجی ادارہ ہے
٭ کیایہ ایک اقتصادی ادارہ ہے
٭ کیاصحافت طاقتور حکمرانوں کی طاقت و قوت کی اسیر ہے
٭ کیاصحافت اہل ثروت کے ہاتھوں میں کھیلنے والا ادارہ ہے
٭ یاصحافت بلیک میل کرنے کا ذریعہ ہے
یہ سوالات اس لیے آن کھڑے ہوئے ہیں کہ آج کی صحافت کا اپنا کوئی نصب العین اور نقطۂ نظر نہیں ہے ۔ اس کے سامنے محض اقتصادی فائدے ہیں اور اس کے لیے وہ کسی بھی حربے کو استعمال کر سکتے ہیں ۔چند رسائل و جرائد کو چھوڑ دیں جن کا نصب العین یا مخصوص نقطۂ نظر یا کسی سیاسی ، سماجی ،تہذیبی یا اقتصادی گروہ کا ترجمان ہے ۔باقی نہ صرف ہندستان کے بلکہ دنیا کے بڑے صحافتی ادارے ،اشاروں پر ناچنے والے ہیں ۔یہ ادارے اقتصادی فائدے کے حصول کے لیے صحافتی اصول وضوابط سے بھی گریز کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ اسی لیے ایک امریکی دانشور نے کہا تھا کہ اخبارات کومواد کے اعتبار سے تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔
٭ صداقت
٭ نیم صداقت
٭ صریحاً دروغ
۱۔ اخبار کا وہ حصہ جس میں سچائی ہو تی ہے وہ صرف کھیل کی خبریں ہیں۔
۲۔ اخبار کا وہ حصہ جو نیم صداقت پر مبنی ہوتا ہے وہ اشتہارات ہوتے ہیں
۳۔ اخبارات کا وہ حصہ جو سراسرجھوٹ پر مبنی ہو وہ خبریں ہیں۔
اس کی تفصیل بیان کرنے کی ضرورت اس لیے نہیں کہ لوگ واقف ہیں۔ عراق کے متعلق دنیا بھر کے اخبارات میں مہلک ہتھیاروںاور Biological Weapons کے حوالے سے لگاتار خبریں شائع ہوتی رہیںکہ عراق نے ایسے ایسے مہلک ہتھیار بنا لیے ہیں کہ لمحوں میں دنیا کو نیست و نابود کرسکتا ہے اس لیے اب دنیاکو عراق کی تباہ کاریوں سے بچانا ضروری ہو گیا ہے مگر تحقیق کے بعد یہ ثابت ہوا کہ اس کے پاس کوئی ایسی چیز تھی ہی نہیں مگر ناکردہ گُناہوں کی سزا عراق آج بھی بُھگت رہاہے۔ اسی طرح ہندستان کے پس منظر میں ملاحظہ فرمائیں کہ کس طرح حقیقت پوشی کی دانستہ کوشش ہوتی ہے۔ ۸۰ کی دہائی میں ہندستان میں کئی ایسے سنگین معا ملات آئے جن کی وجہ سے ملک میں امن و آشتی کی صدیوں پُرانی روایت منٹوں میں تباہ وبرباد ہوگئی ۔ ان میں ایک بابری مسجد کا معاملہ تھا ۔بابری مسجد کے حوالے سے یہ المیہ رہا کہ تمام اخبارات نے ہمیشہ متضاد خبریں شائع کیں اور بعض اخبارات نے تو محض ایک پارٹی کے منشور کے مطابق خبروں کی سرخیاں لگائیں۔اب دیکھیے کہ بابری مسجد کے وجود کو صحافت نے کس طرح ختم کرنے کی کوشش کی ۔ پہلے تو ’بابری مسجد‘ لکھا جاتا تھامگر اس کے ساتھ ایک دُم چھلا لگا دیا گیا اور بابری مسجد کی جگہ’بابری مسجد رام جنم بھومی ‘اور پھر اس کے بعد ’رام جنم بھومی بابری مسجد‘اور بعض صحافتی اداروں نے تو محض’ رام جنم بھومی ‘ہی لکھناشروع کردیا ہے لیکن اس راہ کے گرگ ِ جہاں دیدہ صحافیوں نے احتیاط برتتے ہوئے وِوادِت مندر(متنازعہ مندر) لکھا اور بھی سنبھل کر لکھنے والوںنے وِوادِت ڈھانچہ لکھنا شروع کر دیا ہے۔ اس دانستہ کوشش کا مطلب یہ ہے کہ آنے والی نسلیں ان تاریخی اور تہذیبی حوالوں سے بے خبر رہیں۔اس مثال سے یہ واضح ہوتا ہے کہ صحافت نے صرف لفظوں کے استعمال سے کس طرح تاریخ کو مسخ کرنے اور مٹانے کی کوشش کی ہے۔یہ صرف ایک مثال میں نے آپ کے سامنے رکھی ہے ۔عین ممکن ہے بہت سے حضرات نے اس کی طرف توجہ بھی نہ کی ہو۔مگر ایسے کئی معاملات ہیں جہاں لفظوں کی اُلٹ پھیر سے غلط فہمی عام کرنے اور تصادم کے لیے راہ ہموار کرنے میں صحافتی بد دیا نتی کی کئی مثالیں موجودہیں۔آپ شاہ بانو کیس کا ذکر کریں یا گُڑیا کے کیس کی بات کریں یا کثرت ازدواج یا طلاق جیسے مسائل کی بات کریں ۔ ان تمام معاملات میں میڈیا نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف غلط فہمیوں کو راہ دینے کی دانستہ کوشش کی ہے اور اُمت مسلمہ کو عالمی برادری کے سامنے حقیر وکمتر ، پسماندہ اور عقل و شعور سے دور بتا کر عالمی سطح پر مسلمانوں کو Main Stream سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے ۔ آ ج ہر مسلمان دہشت گرد یا انتہا پسند نظر آتا ہے ۔ مگر کوئی چارۂ کار نہیں کیونکہ میڈیا مغربی ممالک کی اسیر ہے ۔ یہ سب میڈیا کا ہی کرشمہ ہے کہ وہ مسلم قوم کوپوری دنیامیں اپنے ہدف کا شکار بنارکھا ہے۔میڈیا کے اس رویے پہ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ :
جو چاہے آ پ کا حُسنِ کرشمہ ساز کرے
اس منظر نامے میں صحافت کے فن پر گفتگو کرنا اور اس کے فنی لوازمات پر روشنی ڈالنااس لیے بھی ضروری ہے کہ صحافت کے پاکیزہ فن کو آلائشوں سے کیسے محفوظ رکھاجاسکتا ہے اور کس طرح صاف و شفاف صحافت کو نئی سمت دی جاسکتی ہے اور مکر وفریب سے بھری دنیا میں کیسے نئی مثال قائم کی جا سکتی ہے۔
صحافت کی نوعیت اور معیار پر اس گفتگوکے بعدصحافت کی مبادیات کو بھی سمجھنا ضروری ہیلیکن صحافت کے لفظ اور مفہوم سے بحث کرنے سے قبل اس کے آغاز کی نوعیت کا مختصراً جائزہ لینا بے جا نہ ہوگا۔Stone age (پتھر کا عہد) میں جب انسان تمدنی زندگی کے ارتقا ئی مراحل سے گزر رہا تھا اس وقت دِن بھر کے معرکوں کی تفصیل سننا اور سناناان کا محبوب مشغلہ تھا۔اس قصہ گوئی نے پیغام رسانی کی بنیاد ڈالی ۔ تمدنی زندگی کے ارتقا کے ساتھ ساتھ اجتماعی پیغام رسانی یا ترسیل کی ضرورت پیش آئی تو کبھی آگ روشن کر کے کوئی مخصوص پیغام پہنچایا گیا تو کبھی ڈھول یا ڈنکے کی آواز سے پیغام رسانی ہوئی تو کبھی نقارے کی آواز سے لوگوں کو جمع کر کے شہنشاہ کا پیغام یا فرمان لوگوں تک پہنچایا گیالیکن آوازوں کو لفظوں میں تبدیل کرنے کا ہنر سیکھ لینے کے بعد اس ترسیلی نظام میں تحریر آلۂ کار کے طور پر استعمال ہونے لگی۔کاغذ کی ایجاد نے تحریر کودوام بخشا اور چھاپہ خانے کی ایجاد نے ترسیلی نظام کو وسعت بخشی۔بعد میں ٹرانسمیٹر اور ٹرانزیسٹر کی ایجاد نے پیغام رسانی کو لامحدود پہنائیاں عطا کی اور اب پردۂ سیمیں پر ُمزین خبریں اپنی طمطراق اور کشش سے عوام و خواص کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہیں۔یہ اور بات ہے کہ ٹیلی ویژن کی صحافت نے دوسرے ذرائع ابلاغ کے وجود پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔خیر اس ارتقائی سفر کی ہزار سالہ تاریخ کے پس منظر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خبر گیری اور خبر رسانی انسانی فطرت کا خاصہ ہے ۔ محلہ ، سماج ، شہر ملک اور بیرونِ ملک میں پیش آنے وا لے حادثات، جرائم کے واقعات اور تازہ ترین حالات سے خود کو باخبر رکھنااور دوسروں کو نئی نئی خبریں سنانا لوگ خود کو ممتاز اور منفرد بنانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔آج بھی جب کوئی نئی خبر کسی اخبار یا ادارے یا صحافت کے دیگر ذرائع ریڈیو ، ٹی وی کے ہاتھ لگتی ہے تو بڑے فخریہ انداز میں سرخی لگائی جاتی ہے اور بار بار یہ کہا جاتا ہے کہ یہ خبریں خصوصی طور پرہمارے نامہ نگار نے دی ہے اور یہ خبریں صرف ہم ہی آپ تک پہنچا رہے ہیں۔خبر رسانی اور خبر گیری کی اس فطرت نے صحافت کو معرکہ آرائی کا گُر (کرتب ، فن ) سکھایا اس طرح مہم جوئی اور مقابلہ آرائی کا آغاز ہوا ( جس کے مثبت اور منفی دونوں پہلو ہیں)۔اسی لیے صحافت کو ایک معرکۃُ الآرا فن کہا جا تاہے۔ہم اور آپ اگلے لوگوں سے اس معنی میں خوش قسمت ہیں کہ جام ِ جم ہمارے ہاتھوں میں ہے دنیا کے کسی کونے کی خبر آپ کی میز پر یا آپ کے ٹیلی ویژن سیٹ پر موجود ہیں ، جب چاہیں اور جس طرح کی خبر پڑھنا یا دیکھنا چاہیں سب کچھ ممکن ہے ۔کبھی اس کا تصور کیا جاسکتا تھا کہ عراق کے صحراؤں میں ہونے والی جنگ کو آپ براہِ راست ٹی .وی .پہ دیکھ سکیں گے؟یہ سب خبر رسانی کا کرشمہ ہے اور اس کے وسائل کی وسعت کا کمال ہے کہ ملکی ، بین الاقوامی ،اقتصادی و ثقا فتی خبریں،سیاسی نشیب وفراز،آفات ارضی وسماوی کی پیش گوئیاں، ارضی و سماوی آفات کی تفصیل اور ان حالات سے نبرد آزماہونے کی تدابیر یہ تمام احوال و کوائف خبر رسانی کے شوق کی دین ہے جو آج اخبار، ریڈیو،ٹی .وی. ،انٹر نیٹ اوراشتہارات جیسی مختلف شکلوںمیں ہماری دسترس میں ہیں۔
صحافت کی اس وسعت کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس کے ذیلی شعبے کی نشاندہی اس طرح کر سکتے ہیں۔
ََََََََََََََََ صحافت
———————————————–
رپورٹنگ رائٹنگ ایڈیٹنگ انتظامیہ آئین اور پریس قانون قومی وراثت
رپورٹنگ :رپورٹنگ سے مرادنامہ نگاری اور خبر نگاری ہے ۔خبر نگاری کے لوازمات اور جزئیات کو سمجھنے کے لیے خبر کے مفہوم کوسمجھنا ضروری ہے۔ایک زمانہ تھا جب یہ کہا جاتا تھا کہ کسی انوکھے واقعے کو خبر کہتے ہیں اور یہ تعریف پیش کی جاتی تھی کہ اگر کُتا انسان کو کاٹ لے تو خبر نہیں لیکن انسان اگر کُتے کو کاٹ لے تو خبر ہے۔برسوں تک خبر کی یہ تعریف مقبول رہی مگر اب یہ کہنا بیجا ہے کیونکہ یہ تعریف خبر کے جملہ پہلوؤںکا احاطہ نہیں کرتی۔ذیل میں چند تعریفیں ملاحظہ فرمائیں۔
’’ صحیفے سے مراد مطبوعہ مواد ہے جو مقررہ وقفے کے بعد شائع ہوتا ہے چنانچہ تمام اخبارات و رسائل صحیفے ہیں اور جولوگ اس کی ترتیب وتحسین اور تحریرسے وابستہ ہیں انھیں صحافی کہا جاتاہے اور ان کے پیشے کو صحافت کا نام دیا گیا ہے۔‘‘
(عبدالسلام خورشید۔فنِ صحافت، مکتبہ کاروان ، لاہور)
’’عوام یا عوام کی ایک بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کرنے والے ہر واقعہ کو خبر بنایا جا سکتاہے۔‘‘
(ولیم ایل رائکرس)
’’ جو واقعہ معمول سے ہٹ کر ہو وہ خبر ہے۔‘‘
(ویلم بروکس)
’’ جو چیز ہماری زندگی کو فوراًمتأثر کرنے والی یا اثر انداز ہونے والی ہو خبر ہے۔‘‘
(فریڈ مورس)
’’خبر وہ اطلاع ہے جو آپ کو ملتی ہے اور اس سے قبل آپ اس سے ناواقف تھے۔‘‘
(ٹرنرکالرج)
’’ خبر ایک روداد ، خلاصہ یا تفصیل ہے جو لوگوں کو لوگوں کے ذریعے اخبار کی معرفت دی جاتی ہے۔یہ روداد یا رپورٹ تحریر یا تصویر کی شکل میں ہو سکتی ہے۔‘‘ (کیمبل وولزلے)
ان تعریفوں کے علاوہ جنسیات،تشدداور معاشیات سے جڑی بد عنوانیاں ،علمی ،ادبی شخصیات ،کھیل اور فلم کے فنکاروں سے متعلق معلومات اور بیداری مہم سے متعلق موادبھی خبر کے دائرے میں آتے ہیں۔اس طرح خبر کی کوئی ایک جامع تعریف کرنی مشکل ہے۔البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ:
خبر وہ ہے جو عوام کی زندگی سے جڑی ہوئی حقائق سے عوام کو روشناس کرائے ، کسی بھی واقعے ، حادثے ،سانحے ، تشدد، ارضی و سماوی آفات یا اس سے متعلق پیشین گوئیاں، اقتصادی سرگرمیاں ،سیاسی نشیب وفرازاور تفریحی مشاغل وغیرہ خبر کے دائرے میںآتے ہیں۔
مگر خبر کے حوالے سے خبر کے دائرۂ کار کا تعین بھی ضروری ہے۔اسی تعین کی بنیاد پر مختلف ذرائع میں خبر اپنی جگہ بناتی ہے۔مثلاً اگر کوئی قتل کا واقعہ کسی کے گھر کے سامنے ہوا تو یہ خبر اس گھر اور محلے کے لیے سب سے بڑی خبر ہوگی مگر دوسری جگہوں کے لیے یہ بڑی خبر نہیں ہو سکتی ہے۔اسی طرح ملکی اوربین الاقوامی خبروں کے دائرۂ اثر کا تعین کرنا بھی نہایت اہم ہے کیونکہ خبر کا ایک لازم پہلو وسیع دائرہ ٔاثر کا ہونا بھی ہے۔
رپورٹنگ :خبر کی افہام و تفہیم کے بعد سب سے پہلا مرحلہ رپورٹنگ ( نامہ نگاری) کا ہے۔ نامہ نگار کا وسیع النظر اور بالغ النظر ہونا ضروری ہے۔ اس کے مزاج میں تحمل ،صبر وضبط ہونا چاہیے۔ایک اچھا نامہ نگاروہ ہے جو خبر کی جزئیات اور خبر کی نفسیات سے واقف ہو ، غیر جانبداری نامہ نگاری کی سب سے بڑی ضرورت ہے کیونکہ نامہ نگار یا صحافی کا ایک جھوٹ شہر کے شہر کو کھنڈر میں تبدیل کرنے کے لیے کافی ہے۔نامہ نگار کے قلم سے یا زبان سے نکلی ایک بات لاشوں کا انبار لگا سکتی ہے یا لوگوں کو گمراہ بھی کر سکتی ہے۔آپ کو یا د ہوگا کہ عراق اور امریکہ کی جنگ کے دوران CNN ، BBC اور الجزیرہ کی خبروں میں زمین آسمان کا فرق کیوں تھا۔ صرف اس لیے کہ مغربی ممالک میڈیا کو پروپیگنڈا کے طور پر استعمال کر رہے تھے اور الجزیرہ حقائق کی ترجمانی کر رہا تھا ۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جھوٹ کے پاس اگر زیادہ طاقت ہے تو اس کی آواز زیادہ بلند ہوگی اور کمزور آواز کی طرف داری جھوٹ کے سامنے کوئی اثر نہیں دکھا پائے گی۔ گذشتہ دہائی میں نامہ نگاری نے جو مثالیں پیش کی ہیں وہ صحافت کی تاریخ میں ایک بد نُما داغ کی حیثیت رکھتی ہیں ۔اگر صحافت اسی ڈگر پر چلتی رہی تو وہ دن دور نہیں جب صحافت بھی اپنی معنویت کھو بیٹھے گی۔ صحافت کی بے سمتی اور بے راہ روی کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ اعتدال ، توازن اور غیر جانبداری جیسی خوبیوں کو نامہ نگاری کی اصل خوبی تصور کی جائے ۔ایک اچھے صحافی کا فرض ہے کہ وہ معاشرے کی فلاح کے لیے کام کرے اور مثبت نقطۂ نظر کو پیش کرے اور منفی خبروں کو اشتعال کے بجائے سنجیدگی سے اس طرح پیش کرے کہ منفی قوتوں سے عوام متنفر ہو جائیں اور وہ خود بھی شرمسار ہوںاور انھیں دوبارہ اس طرح کی بد عنوانیوں میں ملوث ہونے کی جرأت نہ ہو سکے ۔حالانکہ موجودہ عہد میں غیر جانبدارانہ رپورٹنگ ایک مشکل کام ہی نہیں جوئے شیر لانے کے متراف ہے۔کیونکہ کاروباری مقابلہ آرائی ، قوم و ملت سے جذباتی وابستگی ، سیاسی نظریات سے ہم آہنگی اور جھکاؤ، کاروباری اداروں اور صنعتی گھرانوں کی اجارہ داری کے سبب اور سیاسی سرپرستوں سے وفاداری نبھانے کی فکر کے سبب خود کو آزاد اور خود مختار کہنے والے میڈیا ہاؤس بھی اکثر بے نقاب ہوتے رہے ہیں۔ لیکن مقابلے کے اس دور میںایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ ایک ہی شہر میں کئی کئی اخباروں کے دفتراور نیوز چینلزموجود ہیں ، جن کے نامہ نگار ہر جگہ ساتھ ساتھ موجود ہوتے ہیں اس لیے کسی خبر کی جانبداری کرنے والے آسانی سے پکڑ میں آجاتے ہیںاور ان کی مقابلہ آرائی بعض اوقات ناہموار خبریں پیش کرنے کا سبب بنتی ہے ۔ اس کی تازہ ترین مثال راہل مہاجن کیس سے دی جاسکتی ہے کہ بعض چینلز نے سیاسی ہمدردی دکھاتے ہوئے کیسے اور کیسی غلط خبریں نشر کیں مگر بعد میں جب راز منکشف ہوا تو ان کے چینلز کی پیشکش میں جھجھک اور شرمساری صاف عیاں تھی۔ بہر کیف ان تفصیلات سے مراد یہ ہے کہ نامہ نگاری صحافت کا اہم جز ہے جس میں اعتدال،توازن ، سنجیدگی،متانت، علمیت ،واقفیت ،جرأت و ہمت ، بیدار مغزی اور غیر جانبداری جیسی خوبیاں ضرور ہونی چاہیے۔
رائٹینگ (خبر نگاری) : خبر نگاری ایک فن ہے جو عام تحریروں سے بالکل الگ ہوتی ہے۔اس میں نہ تو تخلیقیت کی ضرورت ہے نہ ہی قوتِ تخیل اور زور ِقلم کی بلکہ یہاں ہلکی پھلکی سنجیدہ تحریر کی ضرورت ہے۔ صحافت کی تاریخ کو دیکھیں تو اس کے ابتدائی دور میں بلکہ ماضی قریب تک ادب اور صحافت میں کوئی خطِ امتیاز کھینچنا مشکل تھامگر اب ادب اور صحافت بالکل جداگانہ فن ہیں ،دونوں کے تقاضے الگ الگ ہیں۔مولانا آزاد کی تحریروں کو پڑھتے ہوئے امتیاز کرنا مشکل ہے کہ ’’البلاغ اور الہلال‘‘ کی تحریروں اور ’’ غبار ِ خاطر ‘‘ کی تحریر میں کیا فرق ہے۔ان کے لب و لہجے کی یکسانیت ادب اور صحافت کے سرحدوں کو ملاتی نظر آتی ہے۔مگر آج کے اخبارات اور ادب کے شہہ پاروں کی تحریروں کو پڑھتے ہوئے اندازہ ہو جاتا ہے کہ کو ن سی صحافتی تحریر ہے اور کون سی ادبی تحریر۔اسی لیے ادب کی اُس تحریر کو جو معیار کی سطح پر پوری نہیں اُترتی اس کے لیے کہا جاتا ہے کہ صحافتی تحریر مت لکھو۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ صحافتی تحریریں معیار ی نہیں ہوتیں۔بات صرف یہ ہے کہ اب دونوں کے معیارات بالکل بدل گئے ہیں۔
صحافتی تحریر اورخبر نگاری کی خوبی یہ ہے کہ اسے چاہیں تو ٹکڑوں میں پڑھ سکتے ہیں ۔مگر کسی مضمون یا افسانہ کو آپ چاہیں تو ٹکڑوں میں نہیں پڑھ سکتے یا صرف عنوان پڑھ کر اس کے مرکزی خیال تک پہنچا جاسکتامگر اخباری تحریر کی خوبی یہ ہے کہ سُرخی سے بھی آپ کو معلومات حاصل ہوسکتی ہیں، خواہ تشنہ ہی کیوں نہ ہو۔اسی لیے بعض حضرات اخباروں کی سرخیاں ہی پڑھ کر اکتفا کر لیتے ہیں ۔خبر نگاری کی اسی صفت نے موجودہ صحافت میں نئے باب کا اضافہ کیا ہے۔’’آج تک ‘‘کا نیا چینل ’’تیز ‘‘ کے نام سے شروع ہوا جو صرف Head lines کو ہی پیش کرتا ہے ۔اسی طرح ’’ زی نیوز ‘‘ کا Head lines top ten کے عنوان سے آدھے گھنٹے کی بُلیٹن شروع ہوئی اور ’’ انڈیا ٹی. وی.‘‘ میں ’’ خبریں سُپر فاسٹ ‘‘ اور سہارا ٹی. وی. میں ’’ نیوز اکسپریس ‘‘کے عنوان سے خصوصی خبروں کو پیش کیا جاتا ہے۔اور اب اخبارات میں بھی مختصرات کے عنوان سے خبریں شائع ہونے لگی ہیں جو محض دو تین جملوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔اس سے یہ معلوم ہوا کہ خبریں تفصیل سے بھی پڑھی جاسکتی ہیں اورصرف سرخیوں پر بھی اکتفا کیا جاسکتا ہے۔اسی لیے خبر نگاری کا طریقہ مضمون یا کسی ادبی تحریر سے بالکل جداگانہ ہوتا ہے۔خبر لکھتے وقت سب سے اہم چیز کو سب سے پہلے لکھتے ہیں اور اسی طرح بتدریج آگے بڑھتے ہیں گویا خبر کے بر عکس مضمون میں پہلے تمہید ہوتی ہے پھر منطقی استدلال کے ساتھ بات آگے بڑھائی جاتی ہے اور اختتامیہ میں مرکزی خیال کو پیش کیا جاتاہے۔اسی لیے اخبار کی تحریر کی ہیئت کو ’’ اُلٹا اہرام‘‘ کی ہئیت قرار دی گئی ہے۔یعنی مرکزی خبر پہلے ہی جملے سے شروع ہوتی ہے پھر بتدریج تفصیلات بیان کی جاتی ہیں۔اردو کے اہم اخباروں مثلاً ’’ اردو ٹائمس ‘‘ ’’ انقلاب‘‘ ’’ منصف ‘‘ اور پاکستان سے نکلنے والا اخبار ’’ جنگ ‘‘ کو دیکھیں گے کہ ان میں انگریزی اخبارات کی طرح سُرخی کے بعد بھی ذیلی سُرخیاں ہوتی ہیں ۔اگر آپ چاہیں تو شہہ سُرخی سے کام چلالیں اور مزید تشنگی ہو تو ذیلی سرخی کو بھی پڑھ لیں اور مکمل طور پر آسودہ ہونا چاہتے ہیں تو پوری خبر پڑھ جائیں۔ ان تفصیلات سے یہ بتانا مقصود تھا کہ صحافتی تحریر کے اپنے تقاضے ہیں اس کا اسلوب، زبان وبیان اورلب ولہجہ بالکل الگ ہے ۔اس تحریر میں بھی معروضیت ، پختگی ، معقولیت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جب تک صحافی اس آرٹ سے واقف نہیں ہوگا وہ صحافت کی ذمہ داریوں کو پوری طرح ادا نہیں کر سکتا۔
ایڈیٹنگ( ادارت): نامہ نگاروں کے ذریعے بھیجی گئی خبریں یا کسی ایجنسی یا کسی اور ذرائع سے حاصل کی گئی خبروں کی تراش خراش ، انتخاب اور سرخی لگانا اور ذیلی عنوانات قائم کرنا وغیرہ ایڈیٹنگ کے فرئض میں شامل ہیں۔کسی بھی صحافتی ادارے میں سب سے اہم رول سَب ایڈیٹر ( نائب مدیر) کا ہوتا ہے ۔ مدیر اعلیٰ تومحض نگراں ہوتا ہے ۔مگر ریڑھ کی ہڈی تو سب ایڈیٹر ہی ہوتے ہیں۔انہی کے ذمے خبروں کا انتخاب ، خبروں کی درجہ بندی اور شہہ سرخی کا انتخاب ہوتا ہے۔یہ تمام مراحل نہایت ہی دشوار گزار ہیں جن سے بڑے احتیاط سے گزرنا ہوتاہے اسی لیے ان کے لیے بھی چند اصول و ضوابط طے کیے گئے ہیں اور یہ زیادہ تر وہی ہیں جن کا ذکررپوٹر کی خوبیوں کے تحت کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ ان کے اندر قوتِ فیصلہ ، قوت تمیزاور وسیع مطالعہ اور تجربے کا ہونا ضروری ہے۔زبان و بیان پر عبور اور سرخی لکھنے کے آرٹ سے واقف ہونابھی ایک اچھے ایڈیٹرکی شناخت ہے۔کسی بھی اخبار میں سب ایڈیٹر س کی ذمہ داریوں میں خبروں کی ترتیب وتزئین ہے مگر مدیر اعلیٰ کی ذمہ داری اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ کسی بھی اخبار میں جو کچھ شائع ہوتا ہے اس کی تمام تر جوابدہی مدیر اعلیٰ اور ناشر کی ہوتی ہے۔عام طور پر مدیر اور ناشر ایک ہی ہوتے ہیںمگر جب سے صنعتی گھرانوں نے اسے اپنا پیشہ بنایا ہے تب سے نشرو اشاعت اور ادارت کے شعبے الگ الگ ہو گئے ہیں۔بہر کیف مدیر اعلیٰ اپنے اخبار میں شائع ہونے والی تمام خبروں کا جوابدہ ہوتا ہے اس لیے چاہیے کہ اخبار میں کوئی ملک مخالف یا جذبات کو مشتعل کرنے والی خبر شائع نہ ہو ۔کیونکہ بعض اوقات اس سے بڑی تباہی اور انتشار پیدا ہوجاتا ہے۔لہٰذا شعبۂ ادارت کو انتہائی محتاط رہنا چاہیے چونکہ یہ ایک حساس شعبہ ہے جہاں نہایت ہی سنجیدگی اور متانت ،اعتدال اور توازن اور غیر جانبداری کی ضرورت ہے۔
انتظامیہ :
آئین اور پریس قانون : صحافت میں سب سے اہم پہلو ملک کے آئین اور پریس سے متعلق قانون کا ہے۔کیونکہ اظہار ِخیال کی آزادی تو آج تمام ممالک میں ہے اور اسی تناسب سے اس کا جا و بیجا استعمال بھی ہو رہا ہے۔ہر ملک میں پریس اور صحافت کے لیے آئین میں رہنما اصول موجود ہیں اس لیے ایک صحافی کی اولین ذمہ داری اور فرض ہے کہ وہ پہلے اس آئین کا سنجیدگی سے مطالعہ کرے اور اس سے کسی بھی طرح گریز نہ کرے ۔صحافت کے ابتدائی دنوں میں حکومت کی گرفت ہوا کرتی تھی اور یہ صحافتی ادارے ایک طرح سے حکومت کے زیر ِ اثر ہو اکرتے تھے اور کوئی بھی حکومت مخالف خبر یا مضمون اس میں شائع نہیں ہوپاتی تھی اگر غلطی سے کچھ ایسا چھپ گیا تو اس کا مطلب تھا پریس کا بند ہوجانا اس لیے پریس کو کئی طرح کی پریشانیوں کا سامنہ تھا۔لیکن مغربی ممالک میں سب سے پہلے پریس کی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی کے لیے آواز بلند ہوئی جس سے مجبور ہو کر امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک نے پریس کی آزادی سے متعلق قوانین بنائے اور اب تقریباً تمام جمہوری ممالک میں پریس کی آزادی سے متعلق قانون موجود ہے اور پریس کو آزادی حاصل ہے ۔ہندستان میں بھی آئین کی شق 19(i)a کے تحت پریس کی آزادی کی تشریح موجود ہے۔ اس کے علاوہ الگ سے ریڈیو کوڈ بھی موجود ہے۔
پریس کی آزادی کے سلسلے میں آپ حضرات بخوبی واقف ہیں کہ اس کا استعمال مثبت اور منفی دونوں طرح سے ہو رہا ہے ۔آج پریس کی آزادی کے سبب ہی حکومت عوام کے سامنے جوابدہ ہے ۔ پریس نے اس قدر بیداری پیدا کی ہے کہ آج گاؤں سے لے کر شہر تک تمام لوگوں کو اپنے حقوق اور فرائض کا علم ہے۔ غیرتعلیم یافتہ طبقہ بھی پریس کی وجہ سے آج کسی سے پیچھے نہیں، یہی وجہ کہ حکومت کی من مانی ختم ہوتی جارہی ہے۔کوئی وزیر ہو یا مجسٹریٹ اپنے عہدے کا رعب نہیں ڈال سکتا ۔اور اب تو Right of information کا قانون آجانے کے بعد اس ضمن میں اور بھی تبدیلیاں آنے کے امکانات ہیںمگر دوسری طرف اس آزادی کا غلط استعمال کر کے کسی بھی قوم و ملت کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کو بھی وہ پریس کی آزادی سے تعبیر کر رہے ہیں۔حضور اکرم ﷺ کا توہین آمیز کارٹون کی اشاعت اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ لیکن جہاں تک بات اصوال اورآئین کی ہے تو اس سلسلے میں صحافیوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اظہار ِ رائے کی آزادی حاصل تو ہے مگر اس کے بھی کچھ رہنما اصول ہیں۔یعنی کسی خاص فرقے کو نشانہ بنانا ، کسی کی تضحیک و تذلیل ،عریاں تصویریں اور پست جذبات وخیالات اور جذباتیت کو ہوا دینا یہ سب باتیں پریس قانون کے تحت ممنوع ہیں۔ایک ذمہ دار صحافتی ادارے کو ان تمام پہلوؤں پر نظر رکھنی چاہیے۔
قومی وراثت:اس ضمن میں ان باتوں کا خیال رکھا جاتاہے کہ جس ملک کا صحافتی ادارہ ہو وہ اپنے ملک کے تہذیبی ،ثقافتی ،معاشرتی اور مذہبی اقدار کی پاسداری کرتے ہوئے پریس کے نظریات کو مرتب کرے ساتھ ہی اپنے قومی ورثے کی حفاظت اور اور اس کی توقیر و تعظیم کواولین فریضہ سمجھے۔کسی بھی صحافتی ادارے کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے ملک کی پالیسیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھے اور اس کی اگر تنقید بھی کرے تو اس میں مثبت پہلو ہو نہ کہ منفی رجحان کو پیش کرے۔

٭٭٭

About admin

Check Also

Tltle 2

مشاہدات

میرے سفرناموں کا مجموعہ “مشاہدات” جلد منظر عام پر آئے گا Share on: WhatsApp

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *