Home / Articles / حافظ و سعدی کے ملک میںٕ

حافظ و سعدی کے ملک میںٕ

ڈاکٹر خواجہ اکرام

بچپن سے جو چیزیں یاد داشت میں ہوتی ہیں وہ  ہمیشہ ذہن میں گردش کرتی رہتی ہیں ۔ اسلامی تاریخ کے حوالے سے  مکہ و مدینہ کے بعد ایران ، عراق ،مصر،ترکی، ماوراء النہر کا علاقہ  ،یہ وہ  علاقے ہیں  جو اپنے دامن میں اسلامی تاریخ کے کئی اہم حوالے رکھتے  ہیں ۔ اللہ کا فضل ہے کہ ان میں سے بشتر مقامات کی زیارت کا شرف حاصل کر چکا ہوں۔لیکن حرمین و شریفین کی زیارت کے بعد اب تک ہمت نہیں ہوئی کہ قلم اٹھاوں اس کی کئی وجہ ہے پہلی وجہ یہ ہےکہ ان جذبات  اور عقیدتوں کو  الفاظ میں نہیں ڈھال سکتے ۔ لیکن کچھ ایسے تلخ تجربات بھی ہیں جن کا تعلق حکومت  اور انتظامیہ سے ہے ۔ لیکن اس ڈر سے اب تک اس کی تفصیل نہیں لکھی کہ کہیں ان مقامات کی شان میں  کوئی گستاخی نہ ہوجائے  ۔ خیر بات حافظ و سعدی کے ملک کی ہورہی  تھی ۔ لیکن یہ صرف حافظ و سعدی کے حوالے سے ہی نہیں جانا جاتا ، غوث اعظم عبد القادر جیلانی کا مولد بھی یہی ملک تھا اس کے علاوہ اس ملک کو اللہ نے اپنے نیک بندوں کی نسبت سے نوازا ہے ۔ عام طور پر ہندستان میں مسلمانوں کے گھروں میں فارسی کی تعلیم بھی ہوتی ہے ۔ اور جب فارسی  کی بات آتی ہے تو حافظ ، سعدی ، رومی،  جامی  کا ذکر خاص طور پر ہوتا ۔ اس کے علاوہ جب اسلام کی تاریخ پڑھتے ہیں تو اسلام کی آمد سے قبل تہذیب و تمد ن کے حوالے سے بھی   اس ملک کا نام بھی آتا ہے ۔ بہر کیف بات یہ ہورہی تھی کہ بچپن کی یاد داشت میں ایران کے کئی حوالے موجود تھے اس لیے میری بڑی خواہش تھی کہ ایران کی سرزمین کو کاش دیکھ سکوں ، اس سرزمین کو جس کا تعلق نہ صرف اسلامیتاریخ سے ہے بلکہ ہند ایرانی تہذیب کے حوالے سے بھی یہ اہم ہے ۔

اللہ  کا شکر ہے کہ اللہ نے یہ موقع عنایت فرمایا ۔ 7 جولائی کو ڈاکٹر اختر حسین ایسوسی ایٹ پروفیسر، شعبہ فارسی جے این یو کے ہمراہ  امارات کی فلائٹ سے روانہ ہوئے ، دوپہر کو ہم دبئی ائر پورٹ پہنچ گئے یہاں ہمیں  چار گھنٹے سے بھی زیادہ  انتظار کرنا تھا ۔ ہم نے سوچا تھا کہیں  یہ انتظار مشکل کا سبب نہ بن جائے لیکن دبئی ائیر پورٹ اور اس میں ڈیوٹی فری شاپنگ  کا ذکر بار بار سنا تھا اور سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ ایسی کیا بات ہے ؟ لیکن وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ واقعی یہ تو ائیر پورٹ سے زیادہ ایک بازار ہے ۔ لہذا ہم بھی اس کی رونقوں کو دیکھنے کے میں مصروف ہوگئے ۔ وقت کا اندازہ ہی نہیں ہو اکہ کیسے اتنے گھنٹے گزر گئے ۔ جب ہماری تہران کی فلائٹ کا اعلان ہواتو ہم مقررہ گیٹ کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں انتظار کرنے لگے ۔ لیکن میری حیرت کو ڈاکٹر اختر حسین صاحب سمجھ گئے اور انھوں نے پوچھا کہ آپ  کیا سوچ رہے ہیں ۔  میرےذہن میں بار بار یہ سوال ابھر رہا تھا کہ ایران دنیا کے ان ممالک میں سے ایک ہے  جو سفر  کے اعتبار سے زیادہ محفوظ  نہیں اور نہ ہی لوگ اس ملک کی سیر کو جانا چاہتے ہیں کیونکہ امریکہ نے اس پر کئی طرح کی پابندیاں لگا رکھی ہیں ، باوجود اس کے اتنی بڑی تعداد میں یوروپی خواتین کیسے ایران کا سفر کر رہی ہیں ۔ میں نے یہی سوال اختر بھائی سے پوچھا تو انھوں نے  کہا کہ بس آپ دیکھتے جائیں ۔ کچھ دیر میں یہ راز خود بخود عیاں ہوجائے گا۔  اور واقعی جب اس کا انکشاف ہوا تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ وہی نیم عریاں خواتین جن کو میں کچھ دیر پہلے تک یوروپی ممالک کی خواتین سمجھ رہا تھا وہ تو در اصل ایرانی خواتین تھیں ۔ لیکن جونہی بارڈنگ شروع ہوئی یہ سب خواتین نقاب اور حجاب میں آگئیں ۔تب مجھے  ایسا لگا کہ ایران میں جو پردے کی پابندی ہے کہ کوئی خاتون بغیر پردے کے باہر نہیں نکل سکتی اور اگر غلطی سے نکل آئی تو بلا تاخیر پولیس اسے گرفتار  کر لیتی ہے۔ ایران میں پردے کی سختی  کا یہ حال ہے کہ وہاں کسی بھی ملک کی ، کسی بھی مذہب اور کسی بھی منصب کی کوئی خاتون بغیر پردے کے جا ہی نہیں سکتی۔ اس بات کی تصدیق ایران میں موجود انڈین ایمبیسی کے ایک آفیسر  نے بھی کی ، انھوں نے پُر تکلف عشائیہ میں یہ بات کہی تھی کہ ابھی کچھ دنوں قبل ہندستان سے ایک غیر مسلم  خاتون  وزیر کا دورہ ہوا تھا ، ان کے لیے ہم ائیر پورٹ حجاب لے کر گئے تھے ۔بات سمجھ میں آئی کہ ایرانی حکومت پردے کے معاملے میں بہت سخت ہے ۔ اور سختی کی انتہا یہ ہے کہ وہ کسی ملک  کی وزیر کے لیے بھی اسے ضروری سمجھتے ہیں ۔ بہت ممکن ہے کہ کئی ممالک  کی غیر مسلم خاتون وزیر اس ڈر سے بھی وہاں کا دورہ نہ کرتی ہوں اور  یہ ایک منطقی بات لگتی ہے لیکن ان کے بارے میں کیا رائے قائم کی جائے جو خواتین ایران سے باہر قدم رکھتے ہی  نہ صرف اپنے نقاب سے باہر آجاتی ہیں بلکہ کہیں سے اور کسی چھب ڈھب سے وہ مسلم بھی نظر نہیں آتیں ۔  ان کے ساتھ ان کے گھر والے بھی ہوتے ہیں اور ان کے  خویش واقارب بھی ہوتے ہیں 60سے 70 فیصد عورتوں کے اس رویے کو وہ بھی غلط نہیں سمجھتے، یہ زیادہ حیرت کی بات ہے ۔ ایران سے واپسی میں بھی یہی منظر تھا ، تہران ائیر پورٹ سے جہاز کے پرواز بھرتے ہی 50 سے 60 فیصد لڑکیوں اور عورتوں نے اپنے نقاب بیگ میں ڈال دئے  اور جو لباس بچا اسےکسی بھی طرح ایک مسلم گھرانے کی عورتوں کا لباس نہیں کہہ سکتے ۔ یہ منظر دیکھ کر میں نے یہ محسوس کیا کہ ایران میں پردے کا اہتمام حکومت کے ڈنڈے  پر ہوتا ہے ۔ اس  میں اسلامی ملک کا جو تقدس ہونا چاہیے وہ سر ے سے مفقود تھا ۔ ایران کے اس پہلے تاثر نے مجھے بڑا کبیدہ خاطر کیا ۔

رات کو جب ہم تہران ائیر پورٹ پہنچے تو وہاں کے نظم و نسق نے اور بھی  پریشان کیا ۔ لیکن جب ہم  باہر آئے تو ایران کی پہلی رات  اور اس کی آب و ہوا نے دل کو تازگی عطا کی ۔ ہوٹل پہنچتے پہنچتے کافی تاخیر ہوگئی تھی اس لیے ہم بلاتاخیر سوگئے ، صبح کو طحیٰ پیامی اور شیوا شہبازی  ہم لوگوں سے ملنے ہوٹل پہنچے ۔ ان کے استقبال کے انداز نے  بہت متاثر کیا ۔ کچھ ہی دیر  میں آزاد یونیورسٹی کی استاذ ڈاکڑ نر گس بھی   تشریف  فرما ہوئیں ۔ انھوں  نے دل کی گہرائیوں سے ہم لوگوں کو خوش آمدید کیا ۔ ناشتے کے بعد طحٰی اور شیوا کے ساتھ ہم لوگ تہران شہر کو دیکھنے نکلے ۔ چونکہ اسی شام کو ہمیں یزد جانا تھا اس لیے کم وقت میں ہم زیادہ سے زیادہ  تہران کے تاریخی مقامات کو دیکھنا چاہتے تھے ۔ ان کی ہمرہی  اور ڈاکٹر اختر حسین کے تجربے اور ایران کو بار بار دیکھنے کا فائدہ یہ ہوا کہ انھوں نے کم وقت میں کاخ گلستان ، میوزیم اور کئی تاریخی مسجدوں کی زیارت کی ۔ ایران باستان  (میوزیم ) واقعی دیکھنے کی چیز ہے اسے دیکھ کر ایران کی کی قدیم  تہذیب کو سمجھا جا سکتا ہے ، ہم لوگوں نے وہاں تخت جمشید کا ایک حصہ دیکھا جسے یہاں محفوظ کیا گیا ہے ،یہ پانچ ہزار سال قبل مسیح کا ہے ، اس تخت میں ایک تصویر بنی ہوئی جو ہاتھ اٹھا کر سلامی پیش کر رہا ہے ۔ اس سے اندازہ ہوا کہ شاید سلام کرتے وقت ہاتھ کو اٹھانے کی رسم یہیں سے شروع ہوئی ہو۔تخت جمشید  کے کتبے میں مزد کو خد الکھا گیا ہے ۔  اسی طرح جمشید کے وقت کی بہت سی یادگار چیزیں دیکھنے کو ملیں ،یہ وہی جمشید ہیں جن کا جام جم مشہور ۔تخت جمشید کی سیڑھیوں  پر خط میخی میں عبارتیں  لکھی ہوئی ہیں ۔ اس میوزیم میں ایک نایاب چیز مومیائی دیکھا ، مومیائی کا مطلب یہ ہے کہ  جو نمک کی کان میں نمک ہو گیا ہے ۔ یہ ایک شخص کے سر کی باقیات  کا حصہ ہے جو ایک ہزار سات سو سال پہلے نمک کی کان سے باہر نہیں نکل سکا ہوگا اور وہیں سڑ گل گیا ۔ لیکن اس کا سر، چہرا   اور سر کے بال کے علاوہ اس کی جیب میں پڑا ایک اخروٹ ، اس کا جوتا ، کپڑا ، بھی محفوظ رہ گیا ، سائنس دانوں نے اس کے سر کے بال سے اس کے خون کا گروپ  متعین کیا ہے جو بی پلس ہے ۔ اس کو  دیکھ کر سعدی کا یہ مصرعہ یا د آگیا :

ہر کہ در کان  نمک  رفت نمک شد۔


میوزیم دیکھنے کے بعد طحٰی اور شیوا دو پہر کے کھانے کے لیے  ہمیں ایک قدیمی طرز کے ہوٹل میں لے گئے

۔ہوٹل کی زیب و زینت قدیم طرز کی تھی وہاں بیٹھ کر ایسا محسوس کیا کہ ایران جب بہت ترقی یافتہ نہیں رہا ہوگا تو اس وقت کی تہذیب ایسی ہی ہوگی ۔ شاندار اور لزیذ ایرانی کھانے کے بعد ہم ایران کے باز ار بزرگ ہوتے ہوئے ہوٹل نادری پہنچے اور وہاں سے تہران  ریلوے اسٹیشن آگئے ۔ شیوا اور طحٰی ہمارے ساتھ ہی رہے ۔تہران ریلوے اسٹیشن دیکھ کر  بہت خوشی ہوئی کہ  بالکل نئے طرز  اور تمام سہولیات یہاں موجود تھیں ۔ یہ ریلوے اسٹیشن  سے زیادہ ائیر پورٹ لگ رہا تھا۔  بہت صاف ستھرا او ر کشادہ، اطلاعات کے بورڈ پر جہاز کے پرواز کی طرح اطلاعات  لکھے گئے تھے ۔ جب ٹرین فلیٹ فارم پر آئی تو بارڈنگ کا اعلان ہوا۔ پلیٹ فارم پر سوائے مسافروں کے کوئی نہیں جا سکتا ۔ ہم تمام سیکورٹی چیک سے گزرتے ہوئے پلیٹ فارم پر پہنچے ، ٹرین کو دیکھا تو  محسوس ہو اکہ ان کے پاس بہت اچھی ٹرینیں ہیں ۔  خوبصورت ٹرین دیکھ کر جاپان کی فاسٹ ٹرین کی یاد  آگئی سوچا جب ٹرین اتنی اچھی ہے تو رفتار بھی اتنی ہی اچھی ہوگی ۔ لیکن معاملہ اس  کے بر عکس تھا ، ٹرین تو اچھی تھی مگر پٹریوں کی حالت بہت بہتر نہ ہونے کے سبب اس کی رفتار  ہماری شتابدی سے بھی کم تھی ۔اتفاق سے جس جگہ ہم دونوں بیٹھے تھے ہمارے بالکل سامنے ایک ایرانی فیملی بیٹھی ہوئی تھی ۔ یہ لوگ بھی ہمارے ہی ہم عمر تھے ۔ اختر بھائی چونکہ بار بار ایران جا چکے ہیں اس لیے انھوں نے مجھے کھڑی پر جگہ دی تاکہ میں باہر کے مناظر سے لطف اندوز ہو سکوں ۔ ہرے باغات اور پھلوں کے درختوں کو دیکھ کر میں برابر اختر بھائی سے معلومات حاصل کررہا تھا ۔  سامنے بیٹھی خاتون نے اپنے شوہر سے کہا کہ ان سے پوچھیں کہ یہ کس ملک سے ہیں  اور کیا ان کے ملک میں درخت نہیں ہوتے؟ کہ وہ اتنی حیرت سے ان درختوں کو دیکھ رہے ہیں ۔ ان کے شوہرجھجھکتے ہوئے  ہم سے بات کی ، انھیں یہ بھی تکلف تھا کہ نجانےانھیں فارسی آتی بھی ہے یا نہیں ؟ لیکن جب ہم نے ان کی باتیں سمجھیں اور اختر بھائی نے انھیں ہمارے بارے میں بتایا تو ان کو ہمارے جواب سے زیادہ اختر بھائی کے فارسی  لب ولہجے پر حیرت ہوئی کہ ایرانی لہجے میں اتنی فصیح فارسی کیسے بول رہے ہیں ؟ انھیں سوال کر کے ایک اور حیرت میں اضافہ ہوا ۔ اس کے بعد انھوں نے ہندستان کے بارے میں  ہم سے کئی سوالات کیے ، ہندستان ایران کے رشتے ، تاج محل ، ہندستانی فلم وغیر ہ وغیرہ ۔ اتنی گفتگو کے بعد ہم بے تکلف ہوگئے تھے ۔ وہ بھی یزد میں ایک یونیورسٹی کے استاد تھے اور ان کی اہلیہ چارٹیڈ اکاونٹنٹ تھیں ۔  پھر اس کے بعد پورے راستے انھوں نے  کبھی میوہ جات سے اور کبھی چائے کافی سے ہمار ی ضیافت کی ۔ ہم نے بھی ان کو تحفے میں ہندستانی چائے اور قلم پیش کیا۔ یہ ہماری عادت ہے کہ جب بھی غیر ممالک میں جاتا ہوں تو کچھ یہاں کی چیزیں ساتھ لے کر جاتا ہوں تاکہ نئے احباب کو کچھ تحفہ پیش کر سکوں ۔ ان سے گفتگو کرتے ہوئے چھ گھنٹے کا سفر آسان ہوگیا اور ایران کے حوالے سے کئی معلومات حاصل ہوئیں۔ایک ایرانی ہندستان کے بارے میں کیا سوچتا ہے اس کا بھی اندازہ ہوا یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ایرانی ہندستانیوں کو پسند کرتے ہیں ۔

تہران سے روانہ ہونے کے کچھ ہی دیر بعد یہ ٹرین ایسے علاقے سے گزر رہی تھی جودور دور تک نمک والی زمین تھی ۔ایران کا یہ علاقہ بہت دور تک پھیلا ہوا ہے ،جو بےآب و گیاہ ہے ۔اس کے بعد ٹرین جب   کاشان کے علاقے میں داخل ہوئی تو نظارہ بدل گیا ، کیونکہ کاشان کو ایران میں گلاب کی کاشت کے لیے جانا جاتاہےاور یہاں کے گلاب کی خوشبو دور سے محسوس کی جاسکتی ہے۔اب سفر اور خوشگوار ہورہا تھا کیونکہ شام کے  وقت  ہماری ٹرین ایران کی ان وادیوں سے گزر رہی تھی جو نہ صرف سر سبز و شادابی کے لیے مشہور ہیں بلکہ ایرانی تاریخ میں ان شہروں کا خاص مقام ہے ۔شام ڈھلنے کے بعدیہ ٹرین   نائن اسٹیشن پر رکی اوراعلان ہوا کہ یہاں نماز کے لیے ٹرین آدھے گھنٹے رکے گی۔مجھے حیرت ہوئی کہ عصر ا ور مغرب کے بعد عشا کے وقت نماز کے لیے ٹرین رکی ہے ۔  خیر خوشی یہ ہوئی کہ آدھی ٹرین نماز کے لیے خالی ہوگئی ۔نائن سے روانہ ہونے کے بعد تقریباً ایک گھنٹے میں ہم لوگ یزد ریلوے اسٹیشن پہنچ گئے ۔ باہر نکلتے ہی ماندانا خانم ، اور ان کے شوہر نامدار  سے ملاقات ہوئی ۔ ماندانا خانم ، نے بڑے والہانہ انداز سے ہمارا استقبال کیا ۔  ماندانا خانم ، کی خوشی ان کے چہرے سے جھلک رہی تھی ۔ فوراً ہی ہم ان کے گاڑی پر سوار ہوئے اور ماندانا خانم کے گھر پہنچ گئے ۔ گھر کے سارے افراد  پلکیں بچھائے جیسے انتظار کر رہے ہوں ، سب کے سب سراپا منتظر تھے ، انھوں نے ہمارا استقبال کیا اور خوشی سے جیسے پھولے نہ سما رہے ہوں ۔ انھوں   انتہائی پر تکلف  عشائیہ کا اہتمام کیا تھا ۔ ہم نے خوان شیراز  کے بارے میں گلستاں میٕں پڑھا تھا جسے ماندانا خانم کے گھر میں دیکھا۔ ماندانا خانم یزد میں آزاد یونیورسٹی  میں فارسی کی استاذ ہیں اور ابھی جواہر لعل نہر ویونیورسٹی سے ڈاکٹر اختر حسین صاحب کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں ۔ ایک استاد بھی ایک اپنے استاد کی اتنی عزت اور پذیرائی کر تا ہے یہ ماندانا خانم ، کو ہی دیکھ کر معلوم ہوا۔ماندانا خانم کے گھر پر کئی نئی چیزوں کا مشاہدہ کیا لیکن ایک دو چیزیں ایسی ہیں جس کا ذکر میں خاص طور پر کرنا چاہتا ہوں ۔ دسترخوان پر ہم سب لوگ ایک ساتھ بیٹھے ماندانا خانم ، ان کے شوہر ، ان کی بیٹی ، بیٹے، ان کی بہن اور بہنوئی  یہ دونوں  ڈاکٹر اختر حسین سے ملنے کے لیے کئی سو کیلو میٹر دور کرمان سے خاص طور سے آئے تھے ۔ دسترخوان بہت وسیع تھا ،انواع واقسام کے چیزیں رکھی ہوئی تھیں ۔ اس لیے برتنوں کی تعداد بھی خاصی ہو گئی تھی ۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد میں نے دیکھا کہ سب لوگ ایک ایک کر کے پلیٹوں کو اٹھانے لگے ۔ یہ دیکھ  کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ ہمارے یہاں بچوں کو ہم لوگ  کہتے ہیں کہ پلیٹیں اٹھا لو یا زیادہ سے زیادہ   عورتوں  پر حکم چلا لیتے ہیں ۔ لیکن یہاں تو  ان کے گھر آئے  مہمان بہن، بہنوئی  بھی اسے باعث عار نہیں سمجھتے  بلکہ اسے مشترکہ کام سمجھ کر حصہ لیتے ہیں۔اس کے علاوہ  گھر کے تمام افراد آپس میں اس طرح بے تکلف تھے کہ انھیں دیکھ کر رشک آرہا تھا۔ انھوں نے  ہماری مہمان نوازی میں کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھا ، انھوں نے یزد کے سب سے اچھے فائیو اسٹار ہوٹل صفائیہ میں ہمارے قیام کا انتظام کیا۔

۹ جولائی کی صبح    ناشتے سے فارغ ہوکر ماندانا خانم کے ساتھ یہاں کی تاریخی جامع مسجد دیکھنے گئے ، اس مسجد کی خاص  بات  یہ تھی کہ سولہویں صدی کی مسجد تھی اور اس کے تین حصے ہیں ایک درمیانی حصہ  اس کے دونوں طرف  بھی مسجد  ہی بنی ہوئی تھی لیکن طرز تعمیر کا یہ بہترین نمونہ تھا کیونکہ ایک جانب کا حصہ گرمیوں کے لیے  تھا اور دوسری جانب کا حصہ سردیوں کے لیے ۔ جس طرح سے ان کو بنا گیا ہے وہ قابل دید کہ جس زمانے میں الیکٹرسیٹی  کی سہولت نہیں تھی اس زمانے میں بھی لوگوں نے کس طرح سردی اور گرمی سے بچنے کا انتظام کر رکھا تھا۔ اس مسجد کی کاشی کاری کا  کا م بھی اپنی نوعیت کے اعتبار منفرد  ہے ، صدیاں گزر جانے کے بعد بھی اس  کی رونق بر قرار ہے ۔ میناروں اور  گنبد کے کچھ حصے  میں  کاشی کاری کی مرمت کا کام چل رہا تھا۔  یہاں پرفیسر مہدوی سے ملاقات ہوئی ۔ یہ  کام انھیں کی نگرانی میں ہورہا تھا ۔کاشی کاری  میں ایران کی اپنی   انفرادیت ہے ۔ انھوں نےصدیوں  کے اس اس فن کو  اب تک محفوظ رکھا ہے ۔ جسے ہم سمجھتے ہیں کہ ٹائل ورک  ہے ۔ در اصل یہ اس سےبہت  آگے کی چیز ہے ۔ نقاشی جو منبر و محراب اور گنبد  پر نظر آتی ہے یہ کئی اقسام کے ہیں کچھ کا تعلق سولہوں صدی سے  ہے اور کچھ کا تعلق اس کے بعد یا اس سے پہلے کا ہے ۔آج بھی اسی انداز سے یہ فن زندہ ہے یہ بڑی بات ہے ۔ پر وفیسر مہدوی نے بتا یا کہ یہ اس انداز سے بنایا جاتا ہے  کہ اس پر موسم کے سرد گرم اور تند وتیز ہواوں کا بھی اثر نہیں ہوتا ہے ۔ یزد کے بارے میں معلوم ہوا کہ یہاں تیز ہوائیں چلتی رہتی ہیں اور گرم علاقہ ہے ۔ اس لیے جب مسجد جامع کی چھت پر گئے تو ہر گھر پر ایک عجیب طرح کی دیواریں دیکھیں ۔ معلوم ہوا کہ یہ’ باد گیر ‘ہے ۔ باد گیر دراصل اس زمانے کی ٹکنیک ہے جب برقی وسائل موجود نہیں تھے ۔ باد گیر کا کام  تھا کہ وہ کہ ہوا کو پکڑ کر گھر کے اندر پہنچادے اور اس کو اس طرح سے بنا یا جاتا تھا کہ یہ ہوا اندر داخل ہوتے ہوتے سرد ہوجائے اورگھر کے ہر کونے تک پہنچ جائے ۔ یہ عینی مشاہدہ اس لیے ہوسکا کہ یزد میں آرٹ اینڈ آرکیٹیکٹ  کالج  کے  لیے حکومت  نے ایک ایسی حویلی کی عمارت دی ہے جو قاچاریوں کے دور کی ہے ۔ پروفیسر مہدوی  اسی کالج کے استاد ہیں ۔ ان کے ساتھ اس عمارت کے اندر داخل ہوتے ہی ہواوں کا احسا س ہوا جو باد گیر کے ذریعے اس عمارت میں داخل ہورہی تھی ۔ انھوں نے پھر دیکھا یا کہ کس طرح ٹھنڈی ہوا اندر لائی جاتی تھی اور گرم ہوا  باہر کی جانب کر دی جاتی تھی۔اس کے علاوہ اس میں کئی زیریں  منزلیں تھیں ، جیسے جیسے ہم لوگ  نیچے جا رہے تھے  عمارت میں خنکی بڑھتی جارہی تھی ۔ سب سے نچلی منزل میں پانی کے ٹھہراو سے خنکی پید اکرنے کی ترکیب تھی اور اسی حصے کو اس زمانے میں باورچی خانے کی بچی ہوئی چیزوں کا رکھا جاتا تھا ، گویا یہ اس زمانے کا فریج تھا۔

پرفیسر مہدوی کے ساتھ ہم لوگوں کاشی کاری  کس طرح کی جاتی ہے یہ دیکھنے کے لیے ایک فیکٹری گئے ۔ جہاں مٹی سے لے  کرنقش و نگار  کے آخری مر حلے تک کا کام ہوتا  ہے ۔ یہاں پہنچ کر معلوم ہو ا کہ  یہ کیوں اتنا مشکل کام ہے ۔مر حلہ وار اس فن کا ہم لوگوں نے مشاہدہ کیا جہاں ٹائلس پہ طرح طرح  کے رنگ و روغن چڑھائے  جارہے تھے اور ان پر قرآن کریم کی آیات لکھنے کے طریقے کو بھی ہم لوگوں نے دیکھا۔کاشی کاری کے کام  لیے اصفہان اور یزد مشہور ہیں ۔

اپنی دیگر مصروفیات سے فارغ ہوکر ہم لوگ یزد شہر کو دیکھنا چاہتے تھے کیونکہ اس شہر کو ایک اور حیثیت سے شہرت حاصل وہ ہے  پارسیوں کا شہر،  پارسیوں کا آتشکدہ یہیں ہے ۔ یہی شہر پارسیوں ، زرتشتوں کا قبلہ و کعبہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ ان کا آتشکدہ جسے وہ لوگ آتش مقدس کہتے ہیں اسی شہر میں ہے جو  سات سو

سال سے بھی زیادہ عرصے سے مستقل جل  رہا ہے ۔ایران کا یہ واحد شہر ہے جہاں زرتشتوں کی بڑی آبادی ہے بلکہ یوں کہیں کہ یزد در اصل زرتشتوں کا ہی شہر تھا لیکن اب ان کی آبادی کم ہے ۔زرتشتوں کے  شہر ہونے کے ناطے ان کے قدیمی اور روایتی چیزیں یہاں موجود ہیں ۔ زرتشت کا رواج یہ ہے کہ وہ اپنے مردے کو نہ ہی دفن کرتے ہیں نہ ہی اسے جلاتے ہیں بلکہ ان کے یہاں رسم یہ ہے کہ آبادی سے دور اونچائی پر ایک عمارت ہوتی ہے اسی کی چھت پر مردے کو رکھ دیتے ہیں تاکہ چیل کوے اور پرندے اس کو نوچ  نوچ کو کھا لیں ۔ زرتشت کے یہاں یہ مانا جاتا ہے کہ جس کی لاش کو پرندے جنتا جلدی ختم کرتے ہیں ، مرنے والے کو اتنا ہی نیک سمجھ جاتا ہے ۔اس عمارت کو جہاں مردے کو پرندوں کے حوالے کیا جاتا ہے اسے دخمہ کہتے ہیں ۔(دخمہ اور آتشکدے کی  تصویر ہمارے ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں )۔

یزد میں د ودن کے قیا م کے دوران مندانا خانم ہمیشہ ہم لوگوں کے ساتھ رہیں ۔ زیادہ تر انھیں کے گھرپر ہم لوگوں نے کھانا کھایا اور انھیں کی گاڑی سے گھومتے رہے ۔ان  کی ضیافت نے  ہمیں  بار بار یہ احساس دلایا کہ  میری وجہ سے وہ پریشان ہو رہی ہیں لیکن وہ ہماری خدمت کر کرکےخوش ہوتی تھیٕں ۔ یہ صرف  ان کا  حال نہیں تھا بلکہ ان  کے شوہر ، ان کی بہن ، بیٹی اور بھائی سب کے سب ہم لوگوں کو کسی طرح کی تکلیف نہ ہو اس کا   خیال رکھنے میں خوشی محسوس کر رہے تھے ۔10 جولائی کو ہمیں اصفہان جانا تھا ۔ یہ سفر ہم بس  کے ذریعے کرسکتے تھے ،وہاں کی سڑکیں بہت عمدہ اور بسیں نہایت آرام دہ ہوتی ہیں ۔ لیکن مندانا خانم اپنی گاڑی سے ہمیں اصفہان  لے کر گئیں ۔ ان کے ہمراہ ان کے بھائی  تھے وہ ایک یونیورسٹی میں کمپوٹر ٹکنالوجی کے استاد ہیں ۔ صبح کو ہم چار وں اصفہان کے لیے روانہ ہوئے  ساڑھے تین سو کیلو میٹر  کا سفر باتیں کرتے  گزر گیا۔ اصفہاں جاتے وقت نائن شہر کو دیکھا ۔ وہاں سے مندانا خانم نے کچھ کھانے پینے کی چیزیں خریدیں باقی چائے اور کافی تو گاڑی میں موجود تھی اس طرح کھاتے پیتے  ہم لوگ دوپہر تک اصفہان پہنچ گئے ۔ یزد سے اصفہان تک پورا راستے تقریباً خشک اور بنجر زمین ہے درمیان میں کچھ سر سبز علاقے نظر آئے جیسے نائن  شہر اور کچھ باغات ۔  باقی تمام زمین ریگ اور چھوٹے چھوٹے کانٹوں  سے بھری تھی ۔ لیکن اصفہان   کے نزدیک آتے ہی موسم بدل گیا اور نظارہ بھی  بدل گیا ، اب ہر طرف  ہریالی  نظر آرہی تھی اور آب و ہوا میں نمایاں تبدیلی محسوس ہوئی۔

اصفہان کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ ‘‘ اصفہان نصف جہان ’’ زمانہ  قدیم  سے یہ ضرب المثل  مشہور ہے  لیکن کس زمانے  میں یہ کہا گیا  یہ حتمی طور پر معلوم نہیں ۔ لیکن اصفہان کا نصف جہان اس لیے کہا جاتا تھا کہ تمدنی ترقی کے دور میٕں بھی اصفہان میں تمام سہولیات موجود تھیں اور اصفہان اس وقت بھی قدرتی حسن سے سرفراز تھا ۔ آج بھی اصفہان کو کافی اہمیت حاصل ہے اور واقعی اصفہان آج بھی بہت خوبصورت ہے ، ہرے بھرے باغات اور سڑکوں کے درمیان خوبصورت راہداریاں  شہر  کے حسن میں کافی اضافہ کرتی ہیں ۔ہم لوگ  سب سے پہلے میدان شاہ  جو اب میدان امام کے نام سے جانا جاتا ہے ، گئے ۔ یہ درا صل چاروں طرف  اونچی دیواروں اور عمارتوں سے گھری  ہوئی ہے اور درمیان  ایک  کشادہ میدان ہے۔اسی میں علی قاپو  ، مسجد لطف اللہ اور مسجد شاہ موجود ہےط ۔ علی قاپو در اصل اس عمارت کو کہتے ہیں جہاں قاچار بادشاہ اپنی رعایا سے ملنے یا ان کی فریاد سننے کے لیے مسند افروز ہوتے تھے ۔ دلی کے لعل قلعہ  میں دیوان عام کی طرح  ہے ۔ مسجدلطف اللہ / مسجد شاہ  بہت  ہی عالی شان  عمارت ہے ، دور سے ہی اس مسجد کو دیکھ  کر شان و شکوہ   کا اندازہ ہوتا ہے ۔ دیوار سے لے کر گنبد تک ہر جگہ کاشی کاری کا عمدہ نمونہ ہے ۔ اس مسجد کی کاشی کاری اپنی  تعمیر اور رنگ و روپ میں منفرد حیثیت  رکھتی ہے۔ اس وقت کے آرٹ اور آرکیٹیکچر  کا سب سے بڑا نمونہ یہ مسجد ہے ۔ اس مسجد میں درمیان کے گند کے ٹھیک نیچے  سے ایک نشان بنا ہوا ہے اس  جگہ سے اگر آپ اذان دیں  یا کوئی آواز بلند کریں تو پوری مسجد  اور اس کے احاطے میں اس کی آواز سنی جا سکتی ہے ، بالکل ایسی آواز جو ایک پاور فل مائک اور ایکو کی آواز ہوتی ہے۔ اس کے اردگرد قدیم طرز کے بازار ہیں جو وہاں کے قدیم  فن اور صنعت و حرفت  کو پیش کرتے ہیں۔

اس کے بعد ہم لوگ جلفا کے علاقے  خیابان  حکیم تکای میں کلیسا دیکھنے گئے ۔ یہ شاہ عباس کے دور کی بات ہے کہ انھوں نے ارمن عیسائی  تاجروں کو  تجارت کے لیے بلایا  گیا تھا بعد میں انھیں  یہ علاقہ دیا گیا تاکہ وہ اپنی عبادت  کے لیے کلیساتعمیر کرسکیں ، بادشاہ وقت نے  ان کی کلیسا کی تعمیر کے لیے کافی امداد بھی دی اور ایک بڑا علاقہ ا ن کو دیا جہاں آج بھی عیسائیوں کی آبادی ہے۔ ا س گرجا کی طرز تعمیر اسلامی طرز تعمیر سے بھی ملتی جلتی ہے ۔ اس کلیسے کے اندر ہال میں گنبد اور در دیوار پر مصوری کے ذریعے  مسیحیت کی پوری تاریخ کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ یروشلم میں واقع  بیت اللحم کے طرز پر اس کی مصوری کی گئی ہے اور میوزیم میں  ارمنی زبان میں  مسیحیت  اور تہذیب و تمدن کی  کتابیں اور اشیا  موجود ہیں ، پادریوں کے لباس اور ان کی ٹوپیاں  جو زیادہ تر ہندستان سے بن کر گئیں تھیں وہ بھی موجود ہیں اس کے علاو ہ انجیل کے نادر نسخے ارمنی زبان اور فارسی زبان میں یہاں موجود  ہیں ۔ قرآن کے بھی کئی  نسخے  ہیں ۔ اس میوزیم میں ترکی کا ایک بڑ انقشہ بھی لگا یا گیا ہے جس میں ترکی شہروں کے علاوہ  وہاں کی مساجد خاص کر  آیا صوفیہ اور  توپ کاپی وغیرہ ۔ در اصل ارمینیوں کا ماننا ہے کہ ترکی  نے ان کی نسل کشی کی ہے اس لیے اس نقشے کے بازو میں ہی ایک بڑے  سے برتن میں  لوگوں کی ہڈیاں جمع کی گئی ہیں جو در اصل ترکی سے مسیحیت کے ختم ہونے کی کہانی کو بیان کرتی ہیں ۔

اس کے علاوہ اصفہان میں زائیدہ رود  اور اس کے کنارے بڑے  بڑے باغات دیکھنے لائق ہیں ، اگرچہ زائیدہ رود خشک ہو چکا ہے مگر اس کے کنارے آباد شہر کی رونق بر قرار ہے ۔ اسی کے کنارے باغ مشتاق بھی ہے ۔ اسی باغ میں استم پوپ کا مقبرہ ہے ۔ استھم یہ  امریکی اسکالر ہے جو ایران آیا اور اس نے فارسی زبان سیکھنے کے بعد پرشین آرٹ پر  سب سے مستند کتاب لکھی جو کئی جلدوں میں موجود ہے ۔ اسی کی کوششوں سے اور اسی  تحریر  فارسی آرٹ اور کلچر دنیا میںٕ  متعارف ہوا۔  یہ ایران میں ہی بس گیا تھا ۔ اس کی خواہش تھی کی کہ ایران میں ہی مرے اور مرنے کے بعد اسی زائیدہ رود   کے کنارے دفن ہو۔ سوا س کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے اس وقت کی حکومت نے  ا س کی موت کے بعد باغ مشتاق میں دفن کر دیا تھا ، اس  کی بیوی کی قبر بھی اسی مقبرے میں ہے ۔  لیکن حیرت کی بات یہ ہ ہے کہ  اس کے متعلق وہاں کے لوگوں کو معلوم نہیں ہےیہاں تک کہ اسی کی پاس کھڑی ہوئی ٹورسٹ پولیس کو بھی اس مقبرے کے بارے میں معلومات نہیں ہے ۔

اب شام ہونے لگی تھی اور چھ بجے اصفہان  یو نیورسٹی جانا تھا جہاں  کئی پروفیسران سے ملاقات طے تھی ۔ ان میں سے شعبہ زبان خارجی  میں عربی کی پروفیسر ڈاکٹر نرگس گنجی اور پروفیسر مہدی نوریان جو فارسی زبان کے استاد ہیں اور سبک ہندی کے لیے معروف ہیں ۔ان کے علاوہ سوشل سائینس کے کئی اساتذہ سے ملاقات ہوئی اور تبادلہ خیالات ہوا۔ ہند وایران کے درمیان  تعلیمی لین دین کے حوالے سے دیر تک گفتگو ہوتی رہی ۔اس یونیورسٹی کی  تاریخ یہ ہے کہ یہ اصفہان میں خربوزے کی کاشت کی زمین تھی اور یہاں کا خربوزہ   پورے ایران  میں سب سے زیادہ  لذیز  ہوتا تھا ۔ آج جس مقام پر یونیورسٹی واقع ہے یہاں کبھی ہر طرف کبوتر خانے ہوا کرتے تھے ۔کاشت کار کبوتر وں کی بیٹ کا استعمال  کھاد کے طور پر کرتے تھے ۔یہاں کے خربوزے کی مٹھاس اور لذت کا یہی راز تھا۔ انھیں کسانوں  کے بچے  جب پڑھ لکھ گئےا ور تعلیم کی اہمیت کا اندازہ ہوا تو انھو ں نے اس زمین کو یونیورسٹی کے لیے  وقف کر دی۔اب آج یہاں  ایران کی مشہور یونیورسٹی اور  سب سے خوبصورت  یونیورسٹی  کیمپس ہے ۔

10 جولائی 2011 کی رات کو  ہی ہمیں اصفہان سے تہران کے لیے نکلنا تھا۔ اس لیے ہم لوگ  اصفہان یونیورسٹی سے سیدھے  ریلوے اسٹیشن  پہنچے۔ اب تک رات کے نو بج چکے  تھے ۔ مندانا خانم او ر ان کے بھائی اب تک ہمارے ساتھ تھے ، ان کی ضد تھی کہ  ہمارے ساتھ وہ اسوقت تک رہیں جب تک  ٹرین  روانہ نہ ہواجائے مگر ڈاکٹر اختر حسین  نے با اصرار تمام انھیں منع کیا اور وہ ہم سے رخصت ہوئے ۔ تقریباً دس بجے ہم ٹرین پر سوار ہوئے اور علی الصباح  تہران پہنچ گئے ۔ خیابان سعد ی  میں ہم لوگوں نے پہلے ہی ہوٹل بک کرا لیا تھا ۔ وہا ں ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد شیوا اور طحیٰ سے مسجد شاہ میں ملنا طے پایا ۔ یہ قاچاری دور کی مسجد ہے اسی کے ارد گرد ایران کا بازار بزرگ  ہے جہان ہر طرح کی چیز مناسب قیمت پر مل جاتی ہے  یہ بازارقدیم ایارانی بازار کا جیتا جاگتا نمونہ ہے ۔یہ بازار  ترکی کی بازار سے بڑی مماثلت رکھتا ہے ۔ اسی علاقے میں قاچار بادشاہوں کے محل ہواکرتے تھے ۔ کاخ گلستاں، شمس العمارہ اور دارالفنون کی شکل میں یہ آج بھی موجود ہیں ۔ تہران کا یہ پوار علاقہ پائین شہر کا علاقہ ہے۔ یہاں آج بھی قدیم طرز کی عمارتیں ہر جگہ موجود ہیں ، شہر کا بالائی حصہ ذرا اس سے مختلف ہے ۔ یہاں جدید طرز کی عمارتیں بھی موجود ہیں ۔ تہران کوہ دماوند  کے نشیب میں آباد ہے ۔ کوہ دماوند کے سائے میں آبادبالائی حصہ اعلیٰ طبقے کی نمائندگی کرتا ہےیہاں کے بازار کا نام تجریس ہے  جہاں  نئے طرز کی دوکانیں   موجود ہیں جو جدید طرز زندگی کے تقاضے کو پورا کرتی ہیںٕ ۔یہاں پر مشہور مرکز لغت نامہ جو  فارسی مطالعات کا مرکز ہے ، واقع ہے ۔ یہ غیر ملکی لوگوں  کے لیے  فارسی  کی تعلیم کے لیے ہے ۔ تہران کا یہ بالائی حصہ باقی  تہران سے بالکل الگ لگتا ہے ۔ شہر کو اتنی خوبصورتی سے بسایا گیا ہے کہ کوہ دماوند سے  بر ف پگھل کر شہر کی طرف پانی کی شکل میں آتا ہے اس پانی کو سڑک کی دونوں جانب کیاریوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔

دوردور تک چنا ر کے درخت کو سیراب کرتا ہوا پائین شہر تک یہ پانی پہنچتا ہے ۔ بہت سلیقے کیاریاں بنائی گئی ہیں اور چنار  کے درخت اس کو مزید  حسن عطا کرتے ہیں ۔اس سے ذرا نیچے اتر نے پر ایک مشہور ریستوراں ہے جس کا نام شاطر عباس ہے جو ایک قاچاری دور کے امی شاعر شاطر عباس صبوحی امی ، قمی کے نام پر ہے۔ یہاں ہم لوگوں نے انتہا ئی لذیز کھانے کا لطف اٹھایا ،   یہاں کی ایک خاص روٹی جسے تافتون کہتے ہیں جو میز پر گرم گرم رکھ دی جاتی ہے ۔ کھانے میں بڑی لذیز ہوتی ہے ۔ یہ رسیتوراں ونک کے علاقے میں واقع ہے  ۔ اس سے نیچے اترنے پر ہندستان کا سفارتخانہ   میر داما د کے عالقے میں ہے ۔ یہاں ہمارے دوست عبد السمیع  فارسی آفیسر ہیں ۔ ان علاقوں کی سیر کے بعد ہم ان سے ملنے سفارتخانہ پہنچے ۔ ان سے ملاقات ہوئی اور دیر تک ہندستان اور ایران کے حوالےسے باتیں ہوتی رہیں ۔ طے یہ تھا کہ شام کی چائے کے بعد ہم رخصت ہوجائیں گے لیکن سمیع صاحب ہمیں رات کے کھانے کے لیے اپنے گھر لے گئے ۔ دیر رات تک گفگتو ہوتی رہی ، ان سے گفتگو کے دروان میں نے یہ محسوس کیا کہ آپ غیر ملک کتنے ہی بڑے عہدے پر کیوں نہ فائز ہوں ، وطن کی یاد خوب آتی ہے ۔سمیع صاحب سے مل کر کئی موضوعات پر باتیں ہوئیں  اور کئی اہم انکشافات بھی ہوئے ، جیسے پورے ایران میں کوئی سنی مسجد  نہیں ، شاید سیستان اور بلوچیستان کے علاقے میں جہاں سنیوں کی کچھ تعداد ہے ، وہیں سنیوں کی مسجدیں ہیں اس کئ علاوہ اور کہیں نہیں ہیں ۔ دیر رات گئے  ان سے رخصت ہوکر ہوٹل آئے ، اور صبح سویرے تہران ائیر پورٹ سے دبئی کے لیے روانہ ہوگئے ۔

چونکہ دبئی راستے میں تھا اس لیے ہم لوگوں نے سوچا کہ کیوں نہ دو دن کے لیے دبئی بھی قیام کیا جائے ۔ اس لیے ہم نے پہلے ہی ویزا لے لیا تھا ، ہمارا ہوٹل بھی بک تھا ، تقریباً دو بجے ہم دبئی پہنچے ، ہوٹل سے ہمارے لیے گاڑی آگئی تھی ۔ بر دبئی کے علاقے میں یہ ایڈمرل پلازہ ہوٹل تھا ۔دبئی کا بڑ انام سنا تھا دیکھا تو حیرت ہوئی اور افسوس کہ یہ پورا ملک تو سوائے بازار کے اور کچھ نہیں ، ہر طرف بازار ، بڑے بڑے مال اور تجارتی ادارے ۔ایک عرب ملک کو تجا رتی نقطہ نظر سے اتنا لبرل دیکھ کر خوشی ہوئی لیکن اس خوشی سے زیادہ افسوس اور صدمہ ہوا کہ اس سے عرب کلچر تو تباہ ہوگیا اور اس اکنومی کا فائدہ مسلمانوں کے علاوہ ہر کوئی اٹھا رہا ہے ۔ مسلمان بس خدمت گار اور نیچے درجے کے ملازم ہیں ۔ کچھ مسلمان بڑے تاجر ہیں لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے ۔ آپ پورے دبئی میں کہیں بھی جائیں اردو میں بات کریں کہیں پریشانی نہیں ہوگی ۔ اردو یہاں کی دوسری رابطے کی زبان ہے ۔دبئی میں موسم بہت گرم تھا لیکن ہر جگہ اے سی کی سہولت تھی بس ، ٹرین اور بس اسٹینڈ بھی اے سی تھا۔ اس کے علاوہ بڑے بڑے مال جیسے دبئی مال ، ابن بطوطہ مال ، امارات مال ۔ ہر جگہ جسیے دولت بکھری پڑی ہو۔ یہاں ہر طرف دولت کا ہی سماں دیکھنے کو ملا۔ برج خلیفہ اور بر ج عرب یہ سب دولت کے تماشے نظر آئے ۔ صرف ایک چیز قابل ذ کر ہے کہ ابن بطوطہ مال میں عربی تہذیب کی کچھ جھلک نظر آتی ہے درو دیوار پر مصر ی تہذیب کی نقاشی، اور قدیم عربی طرز کی زندگی کے کچھ نمونے جابجا دیکھانے کی کوشش کی گئی ہے وگرنہ آپ پورے دبئی میں گھوم جائیں عرب سے زیادہ یوروپی کلچر حاوی ہے۔اس کے علاوہ جو سب سے اچھی بات اس مال کی لگی وہ یہ ہے کہ یہاں عرب لڑکیاں کام کرتی ہیں ، ان کی اپنی دوکانیں ہیں ، وہ بڑے اعتماد سے پردے کے اہتمام کے ساتھ اپنا بزنس کر رہی ہیں ۔ ہم نے کئی ایسی دوکانوں میں ایسی لڑکیوں اور عورتوں کو دیکھا ، ان میں بعض سے ہم لوگوں نے سوال بھی کیے کہ ایک عرب لڑکی کو اس کی اجازت ہے ؟ کیا وہ اسے وہ باعث عار نہیں سمجھتیں ۔ اس کے جوا ب میں ایک لڑکی نے کہا کہ میں شادی شدہ ہوں اور میرے شوہر کو اس سے کوئی پریشانی نہیں ، دوسرے نے کہا کہ میں شادی شدہ نہیں لیکن میرے گھر کے لوگوں کو اس سے کواعتراض نہیں اور مجموعی دونوں خواتین نے کہا کہ اب زمانہ بدل گیا ہے اور عرب عورتیں بھی دنیا کو دیکھ رہی ہیں ۔ہم نے حیرت سے ان سے پوچھا کہ کیا یہ پورے عرب کی حالت ہے تو انھوں نے بتایا کہ یہ یونائٹیڈ عرب ا مارات کی بات ہے ۔یہاں تبدیلیاں آرہی ہیں اورلوگ نئے زمانے کے تقاضے کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ یہ لڑکیاں مکمل حجاب میں تھیں اور انگلش میں ہم سے باتیں کر رہی تھیں۔

دبئی میں دو دن کے قیام کے بعد 14 جولائی کو ہم ہندستان آگئے اور یہاں آکر محسوس ہوا کہ واقعی ہم بڑے اچھے ملک کے شہری ہیں

***

About admin

Check Also

Tltle 2

مشاہدات

میرے سفرناموں کا مجموعہ “مشاہدات” جلد منظر عام پر آئے گا Share on: WhatsApp

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *