Home / Literary Activities / برطانیہ میں اردو کی تدریس
trinity

برطانیہ میں اردو کی تدریس

پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین 

برطانیہ میں اردو کی تدریس

برطانیہ میں ارود کے فروغ کی  کہانی عام طور پر  بر صغیر پر برطانوی تسلط سے شروع ہوتی ہے ۔ لیکن برطانیہ  میں اردو تدریس اور تحقیق  کی تاریخ اس سے  پہلے کی ہے  حالانکہ برطانیہ میں اردو درس و تدریس کا سلسلہ یورپ کے کئی ممالک  کے بعد  شروع ہوتا ہے مگر برطانیہ نے اردو زبان  و ادب اور تدریس میں جو خدمات انجام دی ہیں وہ   قابل قدر ہیں ۔خود ہندستان میں فورٹ ولیم کالج  بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جو برطانوی کوششوں کا نتیجہ تھا لیکن خود برطانیہ کے مختلف شہروں میں کئی جامعات اور کالجز ہیں جو اردو کی درس و تدریس میں آج بھی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔برطانیہ میں  ان کی تعداد  بہت ہے لیکن یہاں ہم چند اہم جامعات کا ذکر کرتے ہیں ۔

برطانیہ کی  مختلف کی یونیورسٹیز میں اردو کی اعلیٰ تعلیم کا نظم ہے ویسے ابتدائی سطح پر اردو کی تدریس  بیشتر یونیورسٹیز  اور کالجز میں موجود ہے ۔اس کی وجہ یہ ہےکہ برطانیہ میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں اردو چوتھے نمبر پر ۔ برطانیہ کے کئی شہروں میں  تو مقامی لوگوں سے بھی زیادہ تعداد مہاجرین کی ہے اس لیے اردو تدریس کا نظام کسی نہ کسی طور پر وہاں موجودہے ۔ لندن کے علاوہ  مانچیسٹر ، شیفلڈ ، برمنگھم اور کئی   جگہ اردو پڑھائی جاتی ہے ۔ اس سلسلے میں لندن یونیورسٹی کا اسکول آف اورینٹل  اینڈ افریقن اسٹڈیز(SOAS) کانام بہت اہم کیونکہ اس وابستہ کئی مستشرقوں نے اردو تحقیق و تصنیف  کے سمت میں ناقابل فراموش  خدمات انجام دی ہیں  ،   آکسفورڈ یونیورسٹی میں  1859 سے اردو کی تعلیم کا آغاز ہوا ، کیمبرج یونیورسٹی میں 1832 سے اردو کی تعلیم کا سلسلہ جاری ہے  ،رائل ملٹری اکیڈمی  میں 1861 سے اردو کی تدریس ہورہی ہے ۔ ان کے علاوہ   کنگز کالج  لندن ، چیلٹھنم کالج برطانیہ، ٹرنٹی کالج  ڈبلن، رائل ملٹری اکیڈمی  ولوچ، ایٹن کالج ، ایڈن برگ یونیورسٹی  اسکاٹ لینڈ،یونیورسٹی آف ڈرہم ، برمنگھم یونیورسٹی وغیرہ میں بھی اردوکی تدریس ہورہی ہے ۔

مانچسٹر یونیورسٹی میں اردو کی استاد اور فعال شخصیت جناب  علی شیراز صاحب گذشتہ د و دہائیوں سے اردو کی تدریس  کی خدمات انجام دے رہے ہیں اس کے علاوہ وہ اردو کی ترویج و ترقی کے لیے کوشاں بھی رہتے ہیں ۔ انھوں نے اپنے ویب سائٹ  علی شیراز ڈاٹ کوم پر اس سلسلے میں ایک مضمون “بر طانیہ میں اردو تدریس ” لکھاہے ۔ اس مضمو ن کا  ایک اقتباس  دیکھیں جس اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح وہاں اردو تدریس فروغ پارہی ہے :”مانچسٹر یونیورسٹی  میں اُردو کی تدریس 2007سے جاری ہے اور اُردو زبان اور کلچر کا کورس میں پچھلے چار سالوں سے وہاں پڑھا رہا ہوں۔اُردو برطانیہ کے سکولوں میں  طویل عر صےسے ایک جدید زبان کے طور پر پڑھائی جارہی ہے۔ ہر سال اوسطاً پانچ ہزار کے قریب طالب علم جی۔سی۔ایس۔ای  اُردو  کا امتحان پاس کرتے ہیں اور پانچ سو کے قریب اُردو  اے لیول کا امتحان دیتے   ہیں۔  جن میں سے  ایک  کثیر تعداد لڑکیوں کی ہے۔ دو بڑے ایگزم بورڈ جی سی ایس ای اور اے لیول اُردو کے امتحانات آفر کرتے ہیں۔ اے لیول اُردو  کے بعد یونیورسٹی میں ڈگری کورسسز کے ساتھ اُردو  پڑھنے کی کمی بڑی محسوس کی جاتی تھی جو ابمانچسٹر میٹروپولیٹن یونیورسٹی نے پوری کر دی ہے۔ مانچسٹر میٹروپولیٹن یونیورسٹی  برطانیہ کی پہلی یونیورسٹی ہے جو اُردو میں ڈگری لیول کے  کورسسز  کے ساتھ اُردو پڑھنے کا مواقع فراہم کررہی ہے ۔یہ  طالب علموں کو یہ موقع مہیا کرے گی کہ وہ ایک ایسی زبان    میں تعلیمی مہارت حا صل کریں جو دُنیا بھر میں تقریباً ایک سو ملین لوگ بولتے ہیں۔” ا س مضمون میں انھوں نے اپنی یونیورسٹی میں کورسیز کی تفصیلات بھی لکھی ہیں جن میں دیگر کورسیز  ساتھ ساتھ اردو پڑھائی جاتی ہے۔

برطانیہ میں  اور بھی  بہت سے ادارے اور کالج   یقیناً  ہوں  گے جن تک ہماری رسائی  نہیں ہوسکی اس لیے ان کا ذکر اس میں نہیں کر سکا ۔ ممکن اس کالم کو پڑھنے کے بعد احباب کی نشاندہی کے بعد  اس  میں اضافہ ہو۔ لیکن یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ  برصغیر ہند وپاک کے بعد اگر اردو زبان و ادب کے سب سے زیادہ ادیب و شاعر کہیں ہیں  تو وہ ملک برطانیہ ہی ہے ۔ برطانیہ  کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یہاں اردو کی  بہت تنظیمیں ہیں جو اردو زبان و تہذیب کے فروغ میں بہت اہم کام کر رہی ہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ یہاں  کے ادیبوں اور شاعروں  کی تخلیقات  جو اردو کو مہجری زبان کے طور پر ثروت مند بنارہی ہیں ، ان تک ہماری رسائی  نہیں ہے یا ہماری کم رسائی ہے کہ ہم  ا ن  کی خدمات ک ااعتراف نہیں کر پا رہے ہیں ۔لیکن یہ وقت کی ضرورت ہے کہ برطانیہ  جیسے ملک کا اردو کے فروغ کے لحاظ سے  مطالعہ کیا  جائے ۔برطانیہ اور دیگر مہجری اردو ممالک   کے  اردو اساتذہ  اور ادیبوں کی خدمات کو اردو کی تاریخ کا حصہ بنا یا جائے ۔ 

About admin

Check Also

سمرقند

سمر قند شہر اولیا و صوفیا

سمر قند  شہر اولیا و صوفیا  تاشقند کے بعد میری خواہش تھی کہ بلکہ ہندستان …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *