Home / Literary Articles / الیکٹرونک میڈیا اور اردو ۱۹۸۰کے بعد

الیکٹرونک میڈیا اور اردو ۱۹۸۰کے بعد

پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین

گذشتہ د ودہائیوں میں زمانے کی ترقی کی رفتار کودیکھیں اور اِس رفتار کی سُرعت کو دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ اِس کی رفتار نے صدیوں کی رفتار کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔گذشتہ زمانوں نے صدیوں کی محنت و ریاضت سے جو کچھ حاصل نہیں کیا وہ اِن دو دہائیوں میں دیکھنے کو مل رہی ہیں ۔ علا الدین کے چراغ جیسے عجوبے ہماری آج کی ترقی کا معجزہ ہیں۔عمرو عیار کی زنبیل جیسی صلاحیت ہمارے کمپیوٹر، موبائل،سی ڈی، ڈی وی ڈی اور پین ڈرائیو میں موجود ہیں ۔ابھی کچھ ہی دنوں کی بات ہے کہ ہم ۹￿ کی دہائی کو معلومات کے انقلاب کی دہائی کہتے تھے ، زیادہ دن نہیں گذرے کہ اس ترقی نے دنیاکے حجم کو سمیٹ لیا اور ہم نے اسے گلوبل ویلج کہنا شروع کیا ۔ اور اِس عہد کو الیکٹرونک عہد سے موسوم کرنے لگے ، پھر جلد ہی اسے ڈیجٹل عہد کہا جانے لگا اور اب اسے سائبر ایج سے بھی موسوم کرنے لگے ہیں ۔ ترقی کی اس رفتار کو کس نام سے موسوم کریں یہ بھی اب شاید نئے لفظ کا متلاشی ہے کیونکہ آج کی ٹکنا لوجی نے روشنی اور ہوا کی رفتار کو بھی پیچھے چھوڑنے کا عزم کر لیا ہے۔ آج کے عہد کی ترقی کا یہ عالم ہے ہردن ایک نئے تجربے اورایجاد کادن ہوتا ہے۔
عہد حاضر میں سائنس اور ٹکنا لوجی کی ترقیا ت نے میڈیا کو بھی نئی پہنائیوں سے روشناس کرایا اور روایتی میڈیا کو الیکٹرونک میڈیا کے زرق برق لباس سے مزین کیا۔ابھی بہت عرصہ نہیں گزرا کہ ہم ہندستان میں ٹی وی کوایڈیٹ باکس کہا کرتے تھے اور اب یہ عالم ہے کہ ٹی وی پر دنیا جہان کی اتنی چیزیں موجود ہیں کہ آپ دیکھ بھی نہیں سکتے ۔بلکہ اپنی ترجیحات بھی طے کر لیں تب بھی معلومات کا اتنا بڑا ذخیرہ صرف اِس میڈیم میں موجود ہے کہ آپ سب تک پہنچ بھی نہیں سکتے۔اردو کے حوالے سے اس میڈیم میں اگرچہ بہت کام نہیں ہورہے ہیں ۔دوردرشن کا ڈی ڈی اردو اب بھی ای ٹی وی اردو سے پیچھے ہے ۔ سہار اکا عالمی اردو چینل لانچ تو ضرور ہو گیا ہے مگر ابھی تک کسی سروس پروائڈر نے اپنے یہاں جگہ نہیں دی ہے۔ ذی نیٹ ورک کا ذی سلام اردو چینل کے نام سے ضرور ہے مگر اس کے پروگرام اردو کے ناظرین کو اپنی طرف متوجہ نہیں کر پارہے ہیں۔
اسی طرح الیکڑونک میڈیامیں ریڈیو بھی ایک اہم میڈیم ہے جہاں پہلے سے زیادہ اور بہتر فری کوئینسز موجود ہیں ،جو بیک وقت تفریح کے ساتھ ساتھ معلومات کی ترسیل کی خدمات بھی انجام دے رہی ہیں۔ حالانکہ ٹی وی کی ترقی کے بعد یہ کہا جانے لگا تھا کہ ریڈیو کا دور ختم ہونے کو ہے۔ لیکن یہ غلط ثابت ہوا اور ریڈیو نے زمانے کے رجحانات کے مد نظر نئی تبدیلیوں کو راہ دی اور کمیونٹی ریڈیو سے لے کر اسپیس ریڈیو تک کا سفر اس کی نئی ترقیات کا اشاریہ ہے۔
الیکٹرانک میڈیا میں ایک بڑا میڈیم کمپیوٹراور انٹرنیٹ ہے ۔ یہ ایسا میڈیم ہے جو گلوبل ویلج کے تصور کوبھی بدلنے کے در پے ہے ۔ کیونکہ گاؤں پھر بھی ایک وسعت اور عرضیت رکھتا ہے لیکن انٹرنیٹ تو ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے پوری دنیا سمٹ کر ایک چھوٹی اسکرین پر ہماری نظروں کے سامنے آجاتی ہے۔گویا ویلج بھی اب ایک اسکرین میں تبدیل ہوگیا ہے۔اور کمپیوٹر کے اس اسکرین کا حال یہ ہے کہ اس میں استعمال ہونے والی اضافی چیزیں بھی بہت چھوٹی چھوٹی ہیں۔ ایک چھوٹے سے پین ڈرائیو یا ہارڈ ڈسک میں آپ چاہیں تو ہزاروں کتابیں رکھ لیں اور چاہیں تو تفریحی فلمیں محفوظ کر لیں ۔ یہ آپ کے ذوق پر منحصر کرتا ہے کہ کس طرح کے ڈیجٹل مواد کورکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن اتنی بات تو آپ بھی مانتے ہیں کہ ترقی کی یہ صورت اور یہ ایجاد عجوبۂ روزگار ہے۔
آج کے سمینار میں ‘‘الیکٹرانک میڈیا اور اردو ادب ’’کے حوالے سے مجھے کچھ لکھنے کاحکم دیا گیا ہے۔ لیکن یہ کافی وسیع موضوع ہے کیونکہ الیکٹرانک میڈیا میں ریڈیو ، ٹی وی،کمپیوٹر اور انٹرنیٹ وغیرہ سبھی آتے ہیں ۔ یہ سب کے سب اپنی نوعیت کے اعتبار سے بحر ذخار ہیں ۔ جن کی گہرائی، وسعت اور ہمہ گیری کو ایک مقالے میں سمیٹنا مشکل ہے ۔کیونکہ ان دو دہائیوں میں ان ذرائع ترسیل و ابلاغ نے ترقی کے آسمانوں کو چھو لیا ہے۔ اردو کے کئی چینل آچکے ہیں ،کئی انٹر نیٹ ٹی وی بھی اردو کے دامن کو وسیع کر رہے ہیں ۔آکاشوانی کے علاوہ ریڈیو کی کئی فری کوئنسیز اردو کے پروگرام پیش کر رہی ہیں ۔اس کے علاوہ ایف ایم ریڈیوز کی زبان اردو سے قریب ہورہی ہے۔ ان سب کا احاطہ مختصر وقت میں ممکن نہیں ۔ اسی لیے میں‘ الیکٹرانک میڈیا اور اردو ’کے حوالے سے اپنی بات کو محدود دائرے میں رکھتے ہوئے صرف کمپیوٹر اور انٹر نیٹ کے حوالے سے بات کروں گا۔
انٹرنیٹ آج کے دور کی ایک عظیم ، حیرت انگیز ، مفید اور کار آمدایجاد ہے، جس نے اگر ایک طرف فاصلے سمیٹ دئیے ہیں تو دوسری طرف معلومات کے انبار لگا دیئے ہیں۔گھر بیٹھے جس آسانی سے دنیا بھر کی من چاہی معلومات آپ کو حاصل کرنی ہے وہ سب ممکن ہے ۔ایسی معلومات بھی جس کے حصول کے لیے کئی خِطوں اور ملکوں کا سفر کرنا پڑتا تھا ،لیکن آج کا انسان اس معنی میں خوش نصیب ہے کہ اسے یہ سب چیزیں آسانی سے مل جا رہی ہیں۔اس لیے اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ انٹر نیٹ نے صدیوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرنا شرع کر دیا ہے ، دنیا بھر کی ڈیجٹل لائبریریز ، انسائیکلوپیڈیا ، اخبارات و رسائل ، ویب سائٹس ، بلاگز اورکتب سب کچھ یہاں موجود ہیں ۔ بلکہ اس سے بھی آسان تر صورت یہ نکل کر سامنے آئی ہے کہ بہت سی چیزیں آن لائن موجود ہیں ۔ آن لائن لرنگ سائٹس، آن لائن سیاحتی امداد،آن لائن بزنس گائیڈز کے علاوہ صحت و تندرستی کی رہنمائی سے مزین ویب سائٹ اور آن لائن شاپنگ مال ، لاتعداد مارکیٹنگ رابطے ، طلبا و طالبات کو کسی بھی امتحان کا رزلٹ معلوم کرنا ہو ، کسی بھی قسم کا داخلہ فارم چاہیے یا پھر بیرون ممالک تعلیم و داخلہ ، یا پھر دنیا میں موجود مفت تعلیم کیلئے آن لائن روابط، آن لائن شادی ،اور تو اور آن لائن قربانی بھی آپ کی سہولیات کے لیے موجود ہیں۔بہت سے ایسے فری سائٹس بھی موجود ہیں جن کے ذریعے رو برو باتیں کر سکتے ہیں۔گویا انٹر نیٹ کی مدد سے کمپیوٹر کی اسکرین آج کے دور کا جیتا جاگتا جادو ہے یا یہ کہیں کہ ایک ایسا روشن کمرہ ہے جہاں سے آپ ہر طرح کاعلم وفن کی روشنی حاصل کر سکتے ہیں ۔
انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کی ہمہ جہت افادیت کے پیش نظر اگر اردو ، انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کی طرف دیکھتے ہیں تو انٹرنیٹ اپنی تمام وسعتوں کے باوجود اردو دنیا کے لئے آج بھی یہ ایک تنگ وتاریک گوشے کی مانند ہے۔انٹرنیٹ پر جہاں دنیا کے تمام علوم سے متعلق موادبڑی مقدار اور اعلی ٰ معیار میں موجود ہیں وہاں اردو زبان و ادب کے حوالے سے ویب سائٹس کی تعداد اور معیاربہت حوصلہ افزا نہیں ہیں ۔یہ لمحہ ٔ فکریہ ہے ! کیونکہ تیزر رفتار ترقی کے اس عہد میں اگر ہم نے اپنے ادب اور اپنی زبان کو اس نئی ٹکنالوجی سے ہم آہنگ نہیں کیا تو ترقی کے اس دور میں ہماری زبان ، ادب اور تہذیب سب پیچھے رہ جائیں گی۔کیونکہ عہد حاضر میں ترقی اورتنزلی اسی سے منسوب ہے ۔
جدید تکنالوجی بالخصوص کمپیوٹر اور انڑنیٹ کی ترقي نے ابتدا میں یہ تاثر دیا کہ اس سے زبان وادب کے قارئین کم ہوں گے۔ اس سے عالمی رابطے اور کمپیوٹر کی زبان کے علاوہ دیگر زبانیں اپنے دائرے میں سمٹتی چلی جائیں گی۔مگر شکر ہے کہ ایسا نہ ہوابلکہ سائبر اسپیس نے زبان وادب کی ترقی کے نئے امکانات کو روشن کیا اور تیز رفتار ترقی کی راہیں ہموار کیں ۔آج کمپیوٹر کی زبان نہ صرف انگلش ہے بلکہ دنیا کی ترقی یافتہ زبانوں کے پاس بھی یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ کمپیوٹر اور سائبر کی زبان بن سکتی ہے۔جن ممالک نے انگریزی کے بجائے اپنی زبان کو کمپیوٹر سے ہم آہنگ کیا ہے ، وہ زبانین تمام تر خدشات کو غلط ٹھہراتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں اور جو زبانیں اب تک اس سے ہم آہنگ نہیں ہوسکیں وہ مقابلتا￿ پیچھے ہیں۔اس لیے ضرورت ہے کہ اپنی تہذیب و ثقافت کی بقا کے لیے جدید تکنالوجی سے زبان کو ہم آہنگ کیاجائے۔
یہ خوشی کی بات ہے کہ ہماری اردوزبان بھی اس لائق ہوچکی ہے کہ وہ جدید تکنالوجی سے ہم آہنگ ہوسکے۔اس نے بھی خود کو کمپیوٹر کی زبان بنا لیا ہے ۔ اب آپ کو انٹر نیٹ اور کمپیوٹر کے استعما ل کے لیے کسی اور زبان کے سہارے کی ضرورت نہیں ہے ۔ آپ اپنے پورے کمپیوٹر کو اردو میں منتقل کر سکتے ہیں ، ای میل ، چیٹنگ، براؤزنگ سب اردو زبان میں کر سکتے ہیں ۔ اردو یونی کوڈ کی ایجاد نے یہ ممکن کر دیکھایا ہے ۔اب آپ گوگل یا کسی بھی سرچ انجن میں جاکر اردو میں ٹائپ کریں اور اردو میں جوابات حاصل کریں۔
جی ہاں ! اب یہ سب ممکن ہے لیکن مجھے اندازہ ہے کہ ابھی بھی بہت سے لوگ ہیں جو اس کی واقفیت نہیں رکھتے ۔اسی لیے ارود میں ابھی اس کا رواج بہت کم ہے حالانکہ تمامتر سہولیات موجود ہیں ۔عدم واقفیت کے سبب ہم اپنی زبان میں انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کا استعمال نہیں کر پارہے ہیں ۔حالانکہ اس کے لیے کسی اضافی سوفٹ وئیر کی بھی ضرورت نہیں تمام چیزیں انٹر نیٹ پر مفت میں دستیاب ہیں۔صرف چند گھنٹوں میں کمپیوٹر پر اردو کا استعمال سیکھ سکتے ہیں ۔اس لیے میرا خیال ہے کہ اردو کے ادارے اس سمت میں بیداری مہم چلائیں تو سائبر اسپیس میں ‘اردو’ معیاری جگہ بنا لے گی۔
جہاں تک اردو اور انٹرنیٹ کا سوال ہے تو اس حوالے سے میرا تفصیلی مضمون ‘‘ اردو تدریس اور سائبر اسپیس’’ہے جودنیاکے کئی اہم رسالوں میں شائع ہوچکا ہے اور میرے ویب سائٹ www.khwajaekramonlione.com پر بھی موجود ہے ۔جس میں اردو کے اہم سائٹس کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ‘‘ اردو تحقیق اور سائبر اسپیس’’ ‘‘ کمپیوٹر میں اردو کا استعمال ’’‘‘ اکیسویں صدی میں الیکٹرانک میڈیا کے تقاضے اور اردو زبان’’ وغیرہ مضامین ہیں ، جن میں ان پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔یہاں میں ان سے الگ کچھ دیگر علمی اور ادبی ویب سائٹس کا ذکر کرنا چاہتا ہوں ( حالانکہ ایسے موضوعات کی پیشکش کے لیے بہتر طریقہ یہ ہے کہ پاؤرپوائنٹ اور پروجیکٹر کے سہارے پیش کیا جائے تو ترسیل آسان ہوجاتی ہے ۔امید ہے کہ آئندہ ہم اس کا اہتمام کریں گے اور جدید ٹکنا لوجی کا استعمال اپنے سنایشورں میں بھی عام کریں گے۔)
انٹرنیٹ پر اردو میں ڈیجٹل لائبریری اور کئی اہم ادبی ، تہذیبی ، ثقافتی اور تعلیمی سائٹس موجود ہیں ۔ اس کے علاوہ آج کی اردو صحافت کو انٹرنیٹ کے استعمال نے کافی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔اردو کے بیشتر اخبارات انٹر نیٹ پر موجود ہیں ۔ کئی اخبارات تو ابھی بھی امیج فائل کی شکل میں انٹر نیٹ پر شائع ہو رہے ہیں ۔ مگر زیادہ تر اخبارات یونی کوڈ میں شائع ہورہے ہیں ۔ ان کے مواد بھی طبع شدہ ( کاغذی اخبار سے الگ ہوتے ہیں ۔ ایسے اخبار زیادہ اَپ ڈیٹ ہوتے ہیں کیونکہ کسی واقعے یا حادثے یا اطلاع کو وہ فوراٍ￿ شائع کرسکتے ہیں۔ اسی لیے انٹرنیٹ پر موجود اخبارات کو لوگ زیادہ پڑھتے ہیں کیونکہ یہاں تازہ ترین حالات معلوم ہوتے رہتے ہیں۔
کمپیوٹر اورانٹرنیٹ فاصلاتی تعلیم و تدریس کے سلسلے میں بھی کافی معاون ثابت ہو رہا ہے ۔ اسباق کی تیاری ، طلبہ تک اس کی رسائی اور طلبہ سے اس کے رد عمل کو اس تکنالوجی کی مدد سے جانا جاسکتاہے اوراُن کی ضرورت اور تقاضے کے مد نظر تدریسی مواد تیار کیا جاسکتا ہے ۔ اسی تکنالوجی کے سبب یہ بھی ممکن ہو سکا ہے کہ دور بیٹھے طلبہ سے براہ راست مخاطب ہو سکتے ہیں اور ان کے سوالات اور تاثرات کو بھی جان سکتے ہیں۔مجموعی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ جدید تکنالوجی نے جہاں زندگی کے تمام شعبوں میں آسانیاں پیدا کی ہیں وہیں اس نے زبان و ثقافت کے حوالے سے بھی نئے امکانات کو روشن کیا ہے اور خوشی کی بات یہ ہے کہ اردو بھی جدید تکنالوجی سے پورے طور پر ہم آہنگ ہے۔
زبان کی ترویج وترقی کے لیے سائبر اسپیس کے استعمال کی جہاں تک بات ہے تو یہاں وسائل بے شمار ہیں اور طریقے بھی ہزار ہیں ۔آڈیو ، ویڈیو اور ڈیجیٹل تکنیک کی مدد سے ہم ان مسائل پر بھی قابو پاسکتے۔ اس وسیلے کو اردو ادب اور زبان دونوں حوالوں سے استعمال کرنے کی بہت زیادہ گنجائشیں موجود ہیں ۔ادب کے حوالے سے جو کام اب تک کیے گئے ہیں یا جو کچھ سائبر اسپیس میں موجود ہیں وہ تشفی بخش ضرور ہیں مگر یہ ناکافی ہیں اس میں مزید وسعت کی ضرورت ہے۔اردو ادب کی Digital library ، سیاسی ،ادبی و تہذیبی رسالے، اخبارات اور کتابوں کے مختلف سائٹس موجود ہیں ۔مگر ان میں موضوعاتی سائٹس کی بے انتہا کمی ہے ۔
ویکی پیڈیا جو معلومات کا اہم ذریعہ ہے یہ بھی اردو میں دستیاب ہے۔اِ س ویکی پیڈیا کی شروعات ￿￿￿￿ میں ہوئی ۔ لیکن اردو والوں کی بے توجہی کی وجہ سے اب تک اس میں بہت سی چیزیں موجود نہیں ہیں ۔کیونکہ اس کی تخلیق اشتراک سے ہوئی ہے اور یہ ہماری توجہ کی طلبگار ہے ۔اس ویکی پیڈیا کی وضاحت اور اس کے تعارف کے لیے خود اس کے صفحہ اول میں جو لکھا ہے ملاحظہ فرمائیں:
‘‘اردو وکیپیڈیا کو رضاکار چلاتے ہیں۔ تمام مصنفین اور مدیر دنیا بھر میں پھیلے ہوئے رضاکار ہیں۔ ویکی پیڈیا ایک ایسی مخزن العلوم ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے اشتراک سے لکھی گئ ہے۔ یہ سائٹ ایک ویکی ویکی ہے، یعنی کوئی بھی کسی بھی مضمون میں ‘صفحے کو ترمیم کریں’ کا لنک کلک کر کہ صفحے میں ترمیم کر سکتا ہے۔ویکی پیڈیا میں ہر قسم کے مختلف مضامین پر معلومات موجود ہیں۔ یہ دیکھنے کے لیے صفحہ اول پر جائیے، اپنی پسند کا مضمون تلاش کیجیے اور تحقیق شروع کر دیجیے۔ ہر صفحے کے اوپر والے حصے میں تلاش کرنے کا خانہ بھی موجود ہے۔اگر آپ کو کوئی مضمون پسند آئے تو آپ اس کے گفتگو والے صفحے پر اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ پہلے ‘صفحے پر گفتگو کریں’ والی لنک کو کلک کریں اور وہاں ‘صفحے کو ترمیم کریں’ والی لنک پر کلک کریں۔ ہمیں آپ کے تاثرات پڑھ کر ہمیشہ خوشی ہوتی ہے۔ اگر آپ کو کچھ مل نہیں رہا تو ہم سے امدادی صفحے پر رابطہ کریں۔ اگر آپ کو کوئی نیا مضمون دیکھنا ہے جو ابھی ہمارے پاس نہیں ہے تو درخواست شدہ مضامین کے صفحے پر موجود فہرست میں اضافہ کر دیں۔’’
اور ترتیب و ترمیم کے حوالے سے لکھا ہے کہ:
ویکی پیڈیا میں کوئی بھی کسی بھی مضمون میں ترمیم کر سکتا ہے۔ بس ‘صفحے کو ترمیم کریں’ والی لنک پر کلک کریں اور صفحے میں ترمیم کریں۔ اس کے لیے آپ کو لاگ ان ہونے کی بھی ضرورت نہیں۔ہماری مدد کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ ویکی پیڈیا کو کسی بھی دوسری مخزن العلوم کی طرح پڑھیں۔ جہاں آپ کو کوئی چیز صحیح نہ لگے تو ‘صفحے کو ترمیم کریں’ کلک کریں اور غلطی کو صحیح کر دیں۔ غلطی کرنے سے گھبرائیے مت، کیونکہ یہ غلطی بھی صحیح ہو سکتی ہے۔ ویکیپیڈیا میں ابھی 15,504 مضامین ہیں اور اس تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ آپ نیا مضمون بھی شروع کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو مضمون بگاڑنے سے ڈر لگ رہا ہے تو ریت خانے میں جائیں اور دل بھر کر ترتیب و ترمیم کریں اس صفحے میں کچھ بھی کرنے سے مضمون خراب نہيں ہو سکتا۔آپ پہلے ہماری ہدایات اور حکمت عملی پڑھ لیجئے۔ خاص کر ہماری غیر جانب داری کی حکمت عملی۔ یعنی کہ مضامین میں غیر جانب داری اور غیر طرف داری کا خیال رکھیں۔’’
شامل ہونا چاہیں گے؟
ترمیم تو کوئی بھی کر سکتا ہے۔ لیکن اکاؤنٹ بنانے کے فوائد ہیں۔اگر آپ چاہیں تو اکاؤنٹ بنایں اور پھر تعارفی صفحے کے ذریعے سے اپنے آپ کو متعارف کرائیں۔کسی صارف سے رابطہ کے لیے صارف کے “تبادلۂ خیال” کے صفحہ پر پیغام لکھا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ صارف کو برقی خط بھی بھیجا جا سکتا ہے۔
اسی طرح کا ایک مفید سائٹ www.wikibooks ہے
وکی کتب ایک آزاد بین اللسانی کتب خانہ ہے۔ وکی کتب کی شروعات جنوری ￿￿￿￿ میں ہوئی جبکہ اردو وِکی پیڈیا کی شروعات جنوری ￿￿￿￿ میں ہوئی ۔ اردو زبان کے اس روئے خط کتب خانہ کے بنانے میں آپ بھی بہت آسانی سے ہمارے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں۔
قواعد
اگر آپ کسی موضوع پر مضمون لکھنا چاہتے ہو، تو اردو وکیپیڈیا پر لکيں۔
ایسی کتاب جو چھپ چکی ہو اور اب اس کے جملہ حقوق فوت ہو چکے ہوں، اس کو اردو ماخذ پر شائع کیا جا سکتا ہے۔
یہاں (وکی کتب) پر درسی کتب لکھنا مقصود ہے، جو ایک یا زیادہ مصنف (یعنی آپ) کی کاوش سے مرتب ہو۔ کتب کے متن میں کوئی بھی صحیح تبدیلی کر سکتا ہے۔ یہاں ایسی درسی کتب بھی رکھی جا سکتی ہیں، جن کے مصنف GFDL اجازہ کے تحت ان کتب کو عطیہ کرنے پر راضی ہوں۔
اسی طرح اردو سائبر یا ڈیجٹل لائبریرز ہیں جو انٹر نیٹ پر اردو زبان کی موجودگی درج کرارہی ہیں۔ایسے ڈیجٹل لائبریرزمیں
ڈیجیٹل لائبریری آف انڈیا http://dli.iiit.ac.in/
ڈیجیٹل لائبریری آف انڈیا حکومت ہند کےMillion Book Project کا حصّہ ہے ہے جس کا ہدف 10 لاکھ کتابوں کو ڈیجیٹل شکل دینا تھا جو 2007میں پورا کیا جا چکا ہے۔ یہ ایک انقلابی پروجیکٹ ہے جس پر ابھی کام چل رہا ہے۔ اس پروجیکٹ کا مشن یہ ہے :
’’The mission is to create a portal for the Digital Library of India which will foster creativity and free access to all human knowledge. As a first step in realizing this mission, it is proposed to create the Digital Library with a free-to-read, searchable collection of one million books, predominantly in Indian languages, available to everyone over the Internet. This portal will also become an aggregator of all the knowledge and digital contents created by other digital library initiatives in India. Very soon we expect that this portal would provide a gateway to Indian Digital Libraries in science, arts, culture, music, movies, traditional medicine, palm leaves and many more. The result will be a unique resource accessible to anyone in the world 24×7, without regard to socioeconomic background or nationality.
Typical large high-school libraries house fewer than 30,000 volumes. Most libraries in the world have less than a million volumes. The total number of different titles indexed in OCLC’s World Cat is about 48 million. One million books, therefore, is more than the holdings of most high-schools, and is equivalent to the libraries at many universities and represents a useful fraction of all available books.
One of the goals of the Digital Library of India is to provide support for full text indexing and searching based on OCR (optical character recognition) technologies where available. The availability of online search allows users to locate relevant information quickly and reliably thus enhancing student’s success in their research endeavors. This 24×7 resource would also provide an excellent test bed for language processing research in areas such as machine translation, optical character recognition, summarization, speech and hand writing recognition, intelligent indexing, and information retrieval in Indian languages.
It is our expectation that the Digital Library of India will be mirrored at several locations worldwide so as to protect the integrity and availability of the data. The DLI will also partner with other country specific Digital Libraries initiatives as part of the Universal Library Project (www.ulib.org) spearheaded by Prof. Raj Reddy and Carnegie Mellon University.‘‘
اس میں اردو کی بھی کتابیں بڑی تعدا د میں موجود ہیں۔
علامہ اقبال سائبر لائبریری :ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں مختلف موضوعات میں اردو کی کتابیں موجود ہیں ، جن کو آئن لائن پڑھ بھی سکتے ہیں اور ڈاؤن لوڈ بھی کرسکتے ہیں۔
مارکسسٹ ڈاٹ آرگ : پر بھی اردو کی کلاسیکی کتابوں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔اس کے علاوہ اردو کے اہم سائٹس ہیں جہاں اردو کی کتابیں موجود ہیں۔
اردو پبلک لائبریری: پاکستان کی سائٹ ہے جس میں مئی کتابیں یونی کوڈ میں موجود ہیں۔
جہاں تک اردو ادب سے متعلق سائٹس کی بات ہے تو سب سے پہلے ان کا نام آتا ہے جو بنیادی طور اخبارات ہیں ۔ لیکن ان میں ادب کا بھی گوشہ ہے جیسے ‘‘ جنگ ’’ اردو پوائنٹ ’’ وغیرہ یہ اردو کے وہ سائٹ ہیں جن کا شمار ارود کے ابتدائی سائٹس میں ہوتا ہے۔اس کے علاوہ جب آپ گوگل پر سرچ کریں گے تو آپ کو اردو سائٹس کی لا تعداد فہرست نظر آئے گی لیکن جب ان کو وزٹ کرناچاہیں تو کم ہی سائٹ ملیں گے جن کو دیکھ کر خوشی ہوگی۔کیونکہ بہت سے لوگوں نے ویب سائٹ تو بنالیے یا بالگز بنا لیے لیکن ان کو مستقل آگے نہیں بڑھا سکے ۔
کچھ اہم سائٹ کی فہرست:
اردو نیٹ جاپان
عالمی اردو اخبار
نیوز اردو ڈاٹ نیٹ
القمر آئن لائن انفو
اردو اسکائی
اردو پوائنٹ
اردو خبریں، شاعری، بچوں کی دنیا،
Keywords : urdupoint, urdu news, poetry, kids 1
www.urdupoint.com
________________________________________
ہماری ویب
تیزی سے ابھر کر آنے والی اردو اور انگریزی میں ایک خوبصورت ویب سائٹ ۔
Keywords : hamariweb, urdu, news, sms, dictionaries 2
www.hamariweb.com
________________________________________
لائیو اردو ڈاٹ کام
یہ اردو کی ایک مکمل معلوماتی ویب ساہٹ ہے، مزاحیہ شاعری، اسلام، ٹی وی، ریڈیو،فری ایس ایم ایس اور بہت کچھ۔۔۔
Keywords : Urdu Funny Poetry, Funny SMS, live TV channels, Live Radio, Daily News updates, live urdu 3
www.liveurdu.com
________________________________________
اردو دوست
اردو ادب،ماہنامہ کائنات،ماہنامہ اردو ورڈ،اردو کارڈ،رشتے اردو وال پیپر اور بہت کچھ۔
Keywords : urdudost quran,news papers,pakistan news papers 4
www.urdudost.com
________________________________________
اردو فن
اسلام نعتیں ،مزاحیہ اردو شاعری ، بیوٹی ٹپس
Keywords : beauty tips in urdu, mazahiya shahiry, naats 5
www.urdufun.com
________________________________________
وزٹ اردو
اسلام،نعت،حمد،کلمے،اور شاعری اور دیگر موضوعات اردو زبان میں۔
Keywords : Islam,Naat,poetry,urdu sms,jokes,islami Books,Hamid 6
www.visiturdu.com
________________________________________
اردو ڈکشنری
ان لائن انگلش ٹو اردو ڈکشنری
Keywords : urduword processing,pakistani and indian urdu newspapers 7
www.urduword.com
________________________________________
آج
انٹرنیٹ پر اردو میگزین اور اردو ادب کے لئے ایک بہترین سائیٹ
Keywords : pakdata,pakdata management, 8
www.pakdata.com/aaj
________________________________________
ان کے علاوہ درج ذیل فہرست میں نے گوگل سرچ سے لیا ہے جو من وعن درج ہے:
http://www.urdustan.com – Urdu Portal
http://www.urduclassic.com – Urdu Portal
http://www.pehchaan.com – Urdu portal featuring forums and a web directory
http://www.urdupoint.com – Portal site in Urdu
http://www.shairy.com – Urdu Poetry
http://www.urdughar.com – Urdu Portal
http://www.urdunet.com/ – Urdu Portal
http://www.123urdu.tk – Urdu Portal
http://www.urdudost.com – Urdu Portal
http://www.urdumanzil.com – Urdu Poetry
1. 100 Great Books of Urdu
2. A Sher A Day
3. Aaina-e-ghazal
4. Aazim’s Urdu Poetry
5. Abhay Ka Aashiyana
6. Ahmad Sohail’s Website
7. Allama Iqbal
8. Alqamar Online
9. ALUP archive
10. Arshi’s Urdu page
11. Amir Khusro Website
12. Anjuman-e-Urdu Adab
13. Ausaf Sayeed’s website
14. Awaz Sayeed’s website
15. Bazm-e-Urdu
16. Bilal Ahmad Mazhar
17. Buzam-Urdu Poetry Page
18. Deewan-e-Ghalib
19. Dr Mughni Tabassum’s Web
20. Essay on Urdu literature
21. Faisal Mahboob Chughtai’s
22. webpage
23. Faiz Ahmad Faiz
24. Fauzia Malika’s collection
25. of ashaar
26. Ghazal-e-tashna: by Jai Hind
27. History of ghazal
28. History of Nazm 29. History of Urdu poetry
30. Ibn-e-Safi Official Website
31. Iqbal poetry
32. Javed Akhtar’s Website
33. John Elia’s Website
34. Kashif Noorani
35. Kuchh Ghazlein, Chand Nazmein
36. Makateeb-e-Habeeb
37. Mazameen
38. Mehfil-e-Sher-o-Shayari
39. Moraqqa-e-shuara-e-Urdu
40. Mowj-Dar-Mowj
41. Obaidullah Aleem
42. Rauf Khalish’s Website
43. Shayari in Urdu: by Ahmad Safi
44. Short stories by M. Mubin
45. Tarz-e-Kalaam
46. The Beauty That Is Urdu
47. Understanding the ghazals
48. Urdu Adab
49. Urdu and its contribution
50. to secular values
51. Urdu Ghazals
52. Urdu Ghazals from Canada
53. Urdu HomePage of Bader Sarmast
54. Urdu Humour
55. Urdu Shairy
56. Urdu stories by Riffat Murataza

ان تمام تفصیلات کے بعد آخر میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ اردو میں ابھی اس حوالے سے بہت کام کرنے باقی ہیں ۔ اس سمینار میں اس طرح کے موضوعات کا انتخاب بھی اس سمت میں آگے کا ایک قدم ہے ۔امید ہے عصری تقاضے کا یہ گوشہ بھی بہت جلد وقت سے ہم آہنگ ہوگا۔
*****

About admin

Check Also

Tltle 2

مشاہدات

میرے سفرناموں کا مجموعہ “مشاہدات” جلد منظر عام پر آئے گا Share on: WhatsApp

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *