Home / Litrature / اردو زبان کی تعلیم:مسائل،طریقِ کار اور تجاویز

اردو زبان کی تعلیم:مسائل،طریقِ کار اور تجاویز

ہندستان کثیر اللسان ملک ہے جہاں مختلف علاقوں اور تہذیبوں کی الگ الگ زبانیں ہیں۔ اِن زبانوں کی بڑی تعداد ایسی ہے جن کی حیثیت علاقائی ہے اور جن کا دائرئہ اثر محدود ہے ۔اردو ہندستان کی چند اہم زبانوں میں سے ایک اہم زبان ہے ۔ یہ ہندستان کی سب سے کم عمر زبان ہے جو آزادی سے قبل ایک طویل مدت تک ہندستان کی سرکاری زبان رہی اور اسے Lingua franka (رابطے کی زبان )کی حیثیت حاصل رہی اور آج بھی ہندستان کے بیشتر علاقوں میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ اردو زبان کے دائرئہ اثر کے سلسلے میں ایک دلچسپ اور حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ ہند آریائی خاندان سے تعلق رکھنے والی زبانوں اور ان علاقوں میں یہ زبان تو آج بھی بولی اور سمجھی جاتی ہے مگر دراوڑی خاندانِ السنہ کے علاقے میں ہندستان کی شاید ہی کوئی زبا ن بولی اور سمجھی جاتی ہو مگر دیکھیے کہ اردو زبان نے اپنے ادبی سفر کا آغاز اسی علاقے سے کیا اور ایک عرصے تک جنوبی ہندستان (یعنی دکن) اردو کا مرکز رہا جہاں کنڑ،تامل ،ملیالم اور تیلگو زبانیں رائج ہیں اور آج بھی ان علاقوں میں اردو اسکول، مدرسے اور دیگر مراکز موجود ہیں لہٰذا اگر یہ کہا جائے کہ اردو صرف کشمیر سے کنیا کُماری تک نہیں بلکہ شمال سے جنوب تک اور مشرق سے مغرب تک بیشترعلاقوں میں بولی اورسمجھی جاتی ہے تو شاید مبالغہ نہ ہو اور اگر آپ غور کریں تو معلوم ہو گا کہ لسانی عصبیت کے اس ماحول میں بھی اردو اپنی سحر آفرینی اور کشش کے سبب عوام کی زبان پر چڑھی ہوئی ہے۔ریڈیو اور ٹی .وی. نشریات کا اگر آپ جائزہ لیں اورلفظیات ، لب ولہجہ کے اعتبار سے ان کا تجزیہ کریں تو معلوم ہو گا کہ اردو زبان ذرائع ابلاغ و ترسیل کی پسندیدہ زبان ہے ۔تفریحی پروگرام ہو ں یا سیریل ،فلم ہویا اشتہار ، ہر جگہ اردو کے الفاظ کثرت سے اور بلا تکلف استعمال ہوتے ہیں ۔

ہندستان کی مختلف زبانوں کے حوالے سے آپ کا ذہن ایک اور دلچسپ پہلو کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہو ں کہ ہندستانی زبانوں میں اردو کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ یہ ہندستان سے باہر بھی ایشیائی، یوروپی، امریکی اور خلیجی ممالک میں کثرت سے بولی اور سمجھی جاتی ہے ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہندستان کی تمام زبانوں میں ارود ہی صرف ایسی زبان ہے جس کا دائرئہ اثر سب سے زیادہ وسیع ہے ۔ اوریہی وجہ ہے کہ اردو آج ضرورت کی زبان بنتی جا رہی ہے اور آج ایسے لوگوں کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے جو دوسری اور تیسری زبان کی حیثیت سے اردو سیکھ رہے ہیں اور سیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ پہلو بھی اردو کے روشن امکانات کی واضح دلیل ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ ہمارے لیے ایک چیلنج بھی ہے کہ ایسے طا لب علموں کو ہم اردو زبان اور رسم الخط کن طریقوں سے بخوبی سکھا سکتے ہیں ۔

میرا خیال ہے اس چیلینج کواردوکے مختلف اداروں اور یونیورسٹیوں نے اسے ایک خوشگوار فرض سمجھ کر قبول کیا ہے اس کے ذریعے چلائے جانے والے مختلف مراکز میں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ موجود ہیں ۔ لیکن آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کے نصاب اور طریق کار کو وقت اور تقاضے سے ہم آہنگ کیا جائے اور ان مسائل پر غور و خوض کیا جائے جو زبان کی تدریس میں درپیش ہیں ۔زبان کی تعلیم و تدریس کی بھی مختلف نوعیتیں ہیں۔ انھیں میں سے ایک ابتدائی سطح پر بالغوں کی اردوتعلیم کی ہے ۔اس مضمون میں اسی حوالے سے بحث کی گئی ہے۔

یہاں میں بالغوں کے لیے ابتدائی سطح پر اردو زبان سیکھنے کے مسائل اور نصاب کے سلسلے میں چند باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں ۔ میرے پیش نظر ایسے طالب علم ہیں جو اردو رسم الخط نہیں جانتے مگر اردو سمجھتے ہیں اور وہ اردو کو دوسری اور تیسری زبان کی حیثیت سے سیکھنا چاہتے ہیں ۔ یہ ایسے طالب علم ہیں جن کا ذہنی معیار بلند ہوتا ہے اور جن کے اندر قوتِ اخذ زیادہ ہوتی ہے لہٰذا ان کی الگ درجہ بندی کرنی ہوگی اور نصاب مرتب کرتے وقت ان تمام امور کو ذہن میں رکھنا ہو گا ۔ایسے طا لب علموں کے بنیادی مسائل کو دو بڑے خانوں میں رکھ سکتے ہیں۔

۱۔ تلفظ کا مسئلہ

۲۔ رسم خط کا مسئلہ

یوں تو ہر نئے سیکھنے والے کے لیے رسم خط ایک مسئلہ ہوتا ہے مگر اردو رسم خط کے جو مسائل ہیں ان کی نوعیت جداگانہ ہے ۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہر زبان کی اپنی مخصوص آوازیں ہوتی ہیں اور یہی آوازیں لفظ بن کر مخصوص تہذیب کی نمائندگی کرتی ہیں۔جن طالب علموں کو ذہن میں رکھ کر تلفظ کے مسئلے کا ذکر کر رہا ہوں وہ بہت حد تک اس مخصوص تہذیب اور اس زبان کی آوازوں سے واقف ہوتے ہیں البتہ چند آوازیں ایسی ہیں جن میں تمیز کرنا ان کے لیے بہت مشکل ہے ۔جن کی کئی وجہیں ہوسکتی ہیں ۔

ایسے طالب علم عام طور پر ج اور ز کی آوازوں کو تو ضرو ر جانتے ہیں یہ اور بات ہے کہ ان کی ادائیگی وہ صحیح طور پر نہیں کر پاتے یا ان میں تمیز نہیں کر سکتے ۔لیکن یہ دشواری تمام طالب علموں کے ساتھ نہیں کیونکہ ان میں سے تقریباًسبھی ایسے ہوتے ہیں جو انگریزی جانتے ہیں ۔اس لیے J اور Z کے فرق کو محسوس تو کرتے ہیں مگر اسے اپنی گفتگو میں کس قدر برتتے ہیں یہ الگ مسئلہ ہے۔ اردو رسم خط میں Z کی آواز کے لیے بالترتیب ذ ۔ ز۔ ض۔ظ چار حروف ہیں ۔ یہ آوازیں ان کے لیے کیوں کر پریشان کن ہوتی ہیں اس پہلو پر غور فرمائیں ۔ ان چاروں آوازوں (ذ ۔ ز۔ ض۔ظ) کے فرق کو ہم اور آپ بخوبی اپنی تحریروں میں ملحوظ رکھتے ہیں مگر کیا بول چال کی زبان میں خود اردو والے (جن کی مادری زبان اردو ہے) ان آوازں کے فرق نمایاں کر پاتے ہیں ؟۔میں قطعی طور پرنفی یا اثبات میں کچھ نہیں کہتا مگر آپ کسی ایسے جملے کو لیں جس میں یہ مختلف آوازیں شامل ہوں مثلاً

استادا گر اپنی ذمہ داریوں اور اپنے فرائض کو سمجھیں تو مجال ہے کہ کوئی نظر بھی اُٹھا سکے یا باز پرسی کی ہمت کرے۔“ آپ خود اس جملے کو دُہرائیں ۔اس جملے میں پانچ آوازیں موجود ہیں مگر بیشتر حضرات کے تلفظ سے سوائے ج اور ز کے کوئی فرق نمایاں نہیں ہوگا۔ اسی طرح ع کی آواز کو دیکھیں جب ہم جمعہ ، وعدہ ،طبیعت ، جمع وغیرہ بولتے ہیں تو کیا ع کی آواز کو پورے طور پر واضح کر پاتے ہیں یا خطاب ، خطا ، خط ، اور تماشہ ،تمام ، تاریک وغیرہ میں تلفظ کے لحاظ سے ط اور ت میں کیا فرق کرتے ہیں ؟ نئے سیکھنے والوں کے لیے یہی پریشانی کا سبب ہوتا ہے کیونکہ جو چیزیں Practice میں ہوتی ہیں ان کا سیکھنا اور سکھانا آسان ہے لیکن جو Practice میں نہیں ہیں ان کا سیکھنا سکھانا دونوں مشکل ہے۔ اسی لیے نو خواندہ اور نو آموز طلبہ اکثر پوچھتے ہیں کہ ایک ہی حرف کے لیے اتنے حروف کی کیا ضرورت ہے ؟انھیں مطمئن کرنا ایک بڑا مسئلہ ہے ۔جب تک اُن کو اِن آوازوں کے طریقِ ادائیگی اور مخارج کی باریکیوں سے آپ بخوبی واقف نہ کرائیں گے وہ مطمئن نہیں ہوں گے اور یہی باریکیاں اردو کی نزاکتیں بھی ہیں اور حُسن بھی لہٰذا یہ مسئلہ خصوصی توجہ کا متقاضی ہے ۔

سوال یہ ہے کہ جس زبا ن سے ہم نے اِن آوازوں کو لیا ہے وہا ں تو باقاعدہ فنِ تجوید موجود ہے ، جہاں تمام تر نزاکتوں کو بخوبی برتنے کی تعلیم دی جاتی ہے ۔مگر ہم ہندستانی مزاج کے مطابق تلفظ کرتے ہیں لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ ہمارے اساتذہ یا اہل زبان اِن باریکیوں کو نہیں سمجھتے ہیں یا نہیں برتتے ہیں مگر کلا س روم میں جہاں طلبہ کی اچھی خاصی تعداد موجود ہوتی ہے وہاں ان کی افہام و تفہیم اور مشق کے لیے کون سا طریقہ اپنایا جائے جو مفید ہو اس پر بھی غور کرناچاہیے۔

طریقِ کار:

۱۔ اوٌل تو یہ کہ استاد اِن آوازوں کو خود ادا کریں اور طلبہ اس کو دُہرائیں پھر لفظوں کے ذریعے ان آوازوں کے طریقِ استعمال اور طریقہٴ ادائیگی کو سمجھایا جائے۔ساتھ ہی بلیک بورڈ پر نقشے کے ذریعے ان کے مخارج کی نشاندہی کی جائے ۔اب تک زبان کی تعلیم و تدریس کے سلسلے میں انہی طریقوں کو بروئے کار لایا جا رہاہے لیکن اگر ہم اس کے لیے جدید سمعی اور بصر ی امدا د کا بھی استعمال کریں تو کم سے کم وقت میں خفیف سے خفیف فرق کو بخوبی سمجھا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں جدید Language Lab اور Audio ,Video کیسٹ وغیرہ کے استعمال کا اہتمام کرنا چاہیے اور نصاب میں ایسے اسباق شامل کیے جانے چاہیئے جن میں ان حروف مثلاً ص، ض ، ط ، ظ، ع ، غ ، ذ ، ز ، ژ وغیرہ کے لیے الگ الگ اسباق مختص ہوں اور کثیر الاستعمال الفاظ کو ان اسباق میں شامل کیا جانا چاہیئے اور معلم کی یہ کوشش رہے کہ طلبہ ان آوازوں کے مخارج کو بھی سمجھیں اور ان کی ہجے بھی یاد کریں تاکہ جب ان سے املا (Dictation ) لکھوائی جائے تو آوازوں کے مخارج سے حروف کو پہچان سکیں اور املا میں غلطی نہ کریں ۔الفاظ کی ہجے یاد کرانے میں اس بات پر زور دیا جائے کہ طلبہ الفاظ کو پورے Figure کے ساتھ ذہن نشیں کر نے کی کوشش کریں ۔

۲۔ دوسرا مسئلہ رسمِ خط کا ہے ۔ اردو رسمِ خط کے سلسلے میں بھی اسی طرح کی پریشانیا ں سامنے آتی ہیں ۔مثلاً زبا ن کی تدریس میں بولنے ، سننے اور پڑھنے کے علاوہ لکھنے کا عمل بھی نہایت اہم ہے جس پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیئے ۔اردو چونکہ مختلف طریقوں سے لکھی جاتی ہے مثلاً خط ِ نسخ ، خط ِ شکستہ اور نستعلیق وغیرہ ساتھ ہی کتاب کی تحریر اور ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر میں بھی کافی فرق ہوتا ہے جو طلبہ کے لیے پریشانی کا سبب ہوتا ہے ۔کیونکہ ان دونوں طرح کی تحریروں سے طلبہ کو بیک وقت سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ استاد کے ذریعے بلیک بورڈ پر لکھے ہوئے حروف اور الفاظ ،کتاب کے حروف اور الفاظ سے بہت حد تک مختلف ہوتے ہیں ۔لہٰذا اس سلسلے میں بھی غور وفکر کی ضرورت ہے کہ پڑھاتے وقت اور بلیک بورڈ پر لکھتے وقت استاد کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ رواں تحریر نہ لکھے بلکہ اگر کتابت کے اصول و ضوابط سے واقف ہو تو زیادہ مناسب ہے ۔یا کیا نئے سیکھنے والوں کے لیے رواں تحریر میں لکھی ہوئی کتاب تیار کی جانی چاہیے یہ بھی قابل ِغور ہے۔

۳۔ اس کے علاوہ ایک بڑا مسئلہ الفاظ کی شناخت کا بھی ہے کیونکہ وہ جس رسم ِ خط کو جانتے ہیں میری مراد ہندی اور انگریزی سے ہے ، یہاں الفاظ جداگانہ طور پر بآسانی پڑھے جا سکتے ہیں کیونکہ ہندی میں ایک لفظ کے مختلف حروف کے اوپر ایک لکیر کھینچ دی جاتی ہے۔ اس طرح ایک لفظ دوسرے لفظ سے واضح طور پر الگ ہو جاتا ہے اور انگریزی میں ایک لفظ اور دوسرے لفظ کے درمیان مناسب فاصلہ ہوتا ہے اور ایک لفظ کے تمام حروف باہم مربوط ہوتے ہیں۔اردو میں بھی اگرچہ اس طرح کا اہتمام ہے مگر بہت واضح نہیں بالخصوص مرکب الفاظ میں اور بعض اوقات ہم شکل حروف و الفاظ میں قرأت کی پریشانی تو بہر حال ہوتی ہے مثلاً ” یہ منزل دورودرازاور بہت کٹھن ہے ۔“ اس جملے میں ”دورودرازاور “ کو پڑھنے میں نئے طالب علموں کو کئی طرح کی پریشانی ہوتی ہے ۔ اوٌل تو یہ کہ کون سے حروف ایک دوسرے سے مل کر پڑھے جائیں گے اور کون سے حروف مصوتے کے طور پر استعمال ہوئے ہیں ۔ اس طرح کی بہت سی مثالیں دی جاسکتی ہیں مگر اصل مقصد تو اس طرح کے مسائل کا حل پیش کرنا ہے ۔ اس سلسلے میں اگر مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھا جائے تواس طرح کے مسائل کے حل میں مدد مل سکتی ہے۔

تجاویز:

۱۔ ابتدائی سطح کے نصاب کی کتابوں کی کتابت اور طباعت کا خاص اہتمام ہو جس میں ایک لفظ سے دوسرے لفظ کے درمیان مناسب فاصلہ رکھاجائے ۔

۲۔ اعراب یعنی مختلف آوازوں کے لیے جو علامتیں مخصوص ہیں ان کا خصوصی طور پر اہتمام کیا جائے ۔ اور ابتدائی سطح کی کم ازکم دو تین کتابیں جو یکے بعد دیگرے ان کو پڑھا ئی جانے والی ہیں ان سبھوں میں اگر اعراب کا استعمال ہو تو اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ ان کے پاس الفاظ کا اچھا خاصا ذخیرہ جمع ہو جائے گااور وہ الفاظ ان کو ازبر بھی ہو جائیں گے اس کے بعد اگر ان کے سامنے ایسی کتاب آئے گی جن میں اعراب کا استعمال کم سے کم بھی ہو تو اسے پڑھنے میں نو آموز طلبہ کو اتنی پریشانی نہیں ہو گی ۔

۳۔ اردو کی ایسی آوازیں جو ان کے لیے بالکل نئی ہیں اور جن کی ادائیگی میں بھی خفیف فرق موجود ہے اسے سکھانے کا مناسب طریقہ یہ ہے کہ طلبہ سے اس طرح کی آوازوں پر مشتمل الفاظ کی زیادہ سے زیادہ مشق کرائی جائے کہ ان کی ہجے یاد کر لیں اور اس طرح کے الفاظ کی شکلیں ان کے ذہن نشیں ہو جائیں۔

۴۔ اس مقصد کے حصول کے لیے صوتی عمل گاہوں کا استعمال اور سمعی اور بصری امداد کا بھی سہارا لیا جائے اور تلفظ ، قواعد ، لفظ و معنی اور اسلوب کو ذہن میں رکھ کر ایسی مشقیں تیار کی جائیں جن کی مدد سے طالب علم زبان کی نزاکتوں ، لطافتوں کو اپنے تلفظ اور لب ولہجے کے ذریعے اپنا سکیں ۔

۵۔ ایسے طا لب علموں کو اردو سکھانے کے لیے اگر ہم سنوانے ،بُلوانے، پڑھوانے بعد ازاں لکھوانے کے اصول کو سامنے رکھیں تو زیادہ کامیاب ہو سکتے ہیں ۔

۶۔ اردو رسمِ خط کی خوبی اور آسانی سے لکھی جانے کی ادا کو زیادہ واضح طور پر بتانا چاہیئے کہ اگر آپ چند بنیادی علامتوں کو سیکھ لیں تو اردو کے تمام حروف کو سیکھ لینا کوئی مشکل نہیں ( علامت سے مراد آواز کو تحریر میں لانے کے لیے جن حروف کو استعمال کیا جاتا ہے ) مثلاً ایک بنیادی علامت ” ب “ ہے پہلے اسے لکھنے کی مشق کرائی جائے اور Connected Formمیں اس کی جو مختلف شکلیں ( ) ہیں ، ان کی مشق کرائی جائے پھر نقطے کے فرق سے ایک ہی Figure کے ذریعے پانچ مختلف آوازوں کو سکھائیں اس طرح ج۔ چ ۔ح۔ خ۔ چار مختلف آوازوں کے لیے ایک بنیادی علامت اور اس کی مختلف شکلیں سکھائی جاسکتی ہیں۔ اس طرح اردو کے ہم شکل حروف کی درجہ بندی کر کے اسباق تیار کرائے جائیں تو سیکھنے کے عمل میں تیزی آسکتی ہے ۔

۷۔ ابتدائی سطح کے نصاب کی کتاب میں ایسے اسباق شامل کیے جائیں جن میں اردو مصوتوں کے صوتی نظام کو زیادہ وضاحت سے سمجھا جائے چونکہ اردو کا مصوتی نظام قدرے پیچیدہ ہے ۔اسی لیے معمولی لفظ کو بھی پڑھنے اور لکھنے میں نو آموز طلبہ کافی پریشان ہوتے ہیں مثلاً پ ، و ، ن سے ایک لفظ بنتا ہے جسے آپ کیا پڑھیں گے ذرا غور فرمائیں اِسے پُون ، پَون ، پوَن ،پون بھی پڑھ سکتے ہیں ۔ ہم اور آپ سیاق و سباق سے صحیح لفظ کا تعین توکر سکتے ہیں مگر کیا نو آموز سے بھی آپ توقع کر سکتے ہیں ؟ بہر کیف یہ ایسا مسئلہ بھی نہیں جسے حل نہ کیا جاسکے۔ مصوتوں کے لیے ہمارے رسمِ خط میں ی ، ے ،ا ،اور و چار حروف شامل ہیں اس کے لیے کچھ علامتیں ہیں جو زیر ،زبر ، پیش اور ہمزہ کی شکل میں ہیں اِ ن کی مدد سے حسبِ ذیل مصوتے بنتے ہیں ۔

ِِِاِ اِرادہ ، اِنصاف

ی ایمان ، ایران

ے ایک ، نیک

ٰاَ اَیسا ، جَیسا ، کَیسا

او‘ او‘ن ، خو‘ن

اَو اَولاد ، فَولاد

و زور ، شور

اُ اُردو ، اُلفت

آ آپ ، آج

اَ اَب ، جَب

ئے آئے ، جائے

ئی آئی ، جائی

وٴ آوٴ ، جاوٴ

۸۔ ان کے علاوہ انفی مصوتے اور نیم مصوتے وغیرہ ہیں ۔ ان مصوتوں کو اسباق میں اس طرح شامل کیے جائیں کہ طلبہ ان کے خفیف فرق کو آسانی سے سمجھ لیں یہ اُسی وقت ممکن ہے جب اس طرح کے الفاظ کی زیادہ سے زیادہ مشق کرائی جائے اور ابتدائی دنوں میں تو استاد لازمی طور پر اپنی تحریروں میں اِن اعراب کا استعمال کریں اور کتاب میں بھی صحیح جگہ پر اعراب لگے ہوئے ہوں ۔ گویا اس کی کتاب کی طباعت میں خاص اہتمام کی ضرورت ہے اور طباعت سے قبل ماہر زبان سے اس کی پروف ریڈینگ بھی کرائی جائے ۔

۹۔ اردو میں بالغوں کے لیے جو بھی کتابیں دستیاب ہیں ان میں ایسے اسباق ہیں جو ان کے ذہنی معیار سے کافی کمتر ہیں ۔انھیں ہم آج بھی ”ک“ سے کاجل اور” ل“ سے لوٹا کے علاوہ جو ٹیکسٹ پڑھاتے ہیں وہ لالا آیا لوٹا لایا ۔ آ لالا آلالا وغیرہ پڑھاتے ہیں جبکہ بالغ طالب علموں کو اس طرح کا ٹیکسٹ پڑھتے وقت بوریت ہوتی ہے۔ہم بچوں اور بڑوں کو پڑھانے کے لیے آج بھی ایک ہی طرح کی کتابیں پڑھاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بچوں کے لیے الگ اور بڑوں کے لیے الگ الگ طرح کی کتابیں تیار کرائی جائیں ۔

میرا خیال ہے کہ اگر ان بنیادی باتوں کا خیال رکھا جائے تو نوآموز بالغ طالب علموں کا اردو سیکھنا اور سکھاناآسان ہو جائے گا ۔اور آج کے زمانے میں نئی نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے زبان سکھانا اور بھی آسان ہو گیا ہے ۔کمپیوٹر کی مدد بھی اردو سکھانے میں لی جانی چاہیئے۔ سرکاری اور دیگر اداروں کو اس طرف خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ وہ نئے نئے سافٹ ویئر تیار کرائیں اور اردو زبان کو نئے زمانے سے ہم آہنگ کرنے کی نِت نئی ترکیبیں اختیار کریں۔

###

About admin

Check Also

received_10213728752067933

یوروپی ممالک کی جامعات میں اردو کی تدریس

پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین یوروپی ممالک کی جامعات میں اردو کی تدریس یوروپی ممالک میں اردو …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *