Home / Literary Articles / Literature / آئن لائن میڈیاکا تصوراور اردو
online

آئن لائن میڈیاکا تصوراور اردو

پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین

گذشتہ د ودہائیوں میں زمانے کی ترقی کی رفتار کودیکھیں اور اِس رفتار کی سُرعت کو دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ اِس کی رفتار نے صدیوں کی رفتار کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔عرصۂ دراز سے انکشافات اور ایجادات کا سلسلہ جاری ہے لیکن ماضی کی دودہائیوں میں آ ج کے انسان نے جو کرشمے کر دیکھائے ہیں وہ حیرت واستعجاب کا باعث ہیں ۔سلیمان کی انگوٹھی اورعلا ء الدین کے چراغ جیسے حیرت انگیز کرشمے آ ج کے کمپیوٹر میں موجود ہیں ۔ذخائر کو چھوٹی سی جگہ میں سمیٹ لینے والی عمرو عیار کی زنبیل جیسی صلاحیت کمپیوٹر کے ہارڈ ڈسک ، سی ڈی، ڈی وی ڈی اور پین ڈرائیومیں موجود ہیں۔ابھی کچھ ہی دنوں کی بات ہے کہ ہم 90 کی دہائی کو معلومات کے انقلاب کی دہائی کہتے تھے ، زیادہ دن نہیں گذرے کہ اس ترقی نے دنیاکے حجم کو سمیٹ لیا اور ہم نے اسے گلوبل ویلج کہنا شروع کیا اور اِس عہد کو الیکٹرونک عہد سے موسوم کرنے لگے ، پھر جلد ہی اسے ڈیجٹل عہد کہا جانے لگا اور اب اسے سائبر ایج سے بھی موسوم کرنے لگے ہیں ۔ ترقی کی اس رفتارکو کس نام سے موسوم کریں یہ بھی اب شاید نئے لفظ کا متلاشی ہے کیونکہ آج کی ٹکنا لوجی نے روشنی اور ہوا کی رفتار کو بھی پیچھے چھوڑنے کا عزم کر لیا ہے۔ آج کے عہد کی ترقی کا یہ عالم ہے ہردن ایک نئے تجربے اورایجاد کادن ہوتا ہے۔
الیکٹرانک میڈیا میں ایک بڑا میڈیم کمپیوٹراور انٹرنیٹ ہے ۔ یہ ایسا میڈیم ہے جو گلوبل ویلج کے تصور کوبدل کر اسکرین کی شکل میں پیش کر رہا ہے ۔ اسی طرح موبائل بالخصوص آئی فون اور اینرائیڈ کی سروسز دنیا کو گاؤں سے ہتھیلوں میں سمیٹنے لگی ہے۔اسی طرح کمپیوٹر میں استعمال ہونے والی اضافی چیزیں بھی بہت چھوٹی چھوٹی ہیں۔ ایک چھوٹے سے پین ڈرائیو یا ہارڈ ڈسک میں آپ چاہیں تو ہزاروں کتابیں رکھ لیں اور چاہیں تو تفریحی فلمیں محفوظ کر لیں ۔ یہ آپ کے ذوق پر منحصرہے کہ کس طرح کے ڈیجٹل مواد کومحفوظ کرنا چاہتے ہیں، ترقی کی یہ صورت اور یہ ایجاد عجوبۂ روزگار سے کم نہیں ہے۔
انٹرنیٹ آج کے دور کی ایک عظیم ، حیرت انگیز ، مفید اور کار آمدایجاد ہے، جس نے اگر ایک طرف فاصلوں کو کم کردیا ہے تو دوسری طرف معلومات کا انبار لگا دیا ہے۔گھر بیٹھے آسانی سے دنیا بھر کی جو من چاہی معلومات آپ کو حاصل کرنی ہے وہ سب یہاں ممکن ہے ۔ایسی معلومات بھی جس کے حصول کے لیے کئی خِطوں اور ملکوں کا سفر کرنا پڑتا تھا ،لیکن آج کا انسان اس معنی میں خوش نصیب ہے کہ اسے یہ سب چیزیں آسانی سے مل جا رہی ہیں۔ دنیا بھر کی ڈیجٹل لائبریریز ، انسائیکلوپیڈیا ، اخبارات و رسائل ، ویب سائٹس ، بلاگز اورکتب سب کچھ یہاں موجود ہیں ۔ بلکہ اس سے بھی آسان تر صورت یہ نکل کر سامنے آئی ہے کہ بہت سی چیزیں آن لائن موجود ہیں ۔ آن لائن لرنگ سائٹس، آن لائن سیاحتی امداد، آن لائن شاپنگ ،آن لائن بزنس گائیڈ کے علاوہ صحت و تندرستی کی رہنمائی سے مزین ویب سائٹ ، امتحانات کے نتائج، تعلیمی ا دادروں کے داخلہ فارم ، حکومتی اداروں سے امداد کے لیے آئن لائن فارم بھرنے کی سہولت، دنیا میں موجود تعلیمی،اقتصادی ، تہذیبی و ثقافتی روابط اور دیگر تمام ممکنہ معلومات آج آن لائن موجود ہیں ۔بہت سے ایسے فری سائٹس بھی موجود ہیں جن کے ذریعے رو برو باتیں کر سکتے ہیں۔گویا انٹر نیٹ کی مدد سے کمپیوٹر کی اسکرین آج کے دور کا جیتا جاگتا جادو ہے یا یہ کہیں کہ یہ ایک ایسا ذریعہ ہے جہاں سے آپ ہر طرح کاعلم وفن اور تفریح و تفنن کے اسباب و مواد حاصل کر سکتے ہیں ۔
انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کی ہمہ جہت افادیت کے پیش نظر اگر اردو کے حوالے سے انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کی طرف دیکھتے ہیں تو انٹرنیٹ اپنی تمام تروسعتوں کے باوجود اردو دنیا کے لئے آج بھی اس کی وسعت پہنائیوں سے محروم ہے۔انٹرنیٹ پر جہاں دنیا کے تمام علوم و فنون سے متعلق موادبڑی مقداراور اعلی ٰ معیار میں موجود ہیں وہاں اردو زبان و ادب کے حوالے سے ویب سائٹس کی تعداداور معیاربہت حوصلہ افزا نہیں ہیں ۔یہ لمحۂ فکریہ ہے کیونکہ تیزر رفتار ترقی کے اس عہد میں اگر ہم نے اپنے ادب اور اپنی زبان کو اس نئی ٹکنالوجی سے ہم آہنگ نہیں کیا تو ترقی کے اس دور میں ہماری زبان ، ادب اور تہذیب سب پیچھے رہ جائیں گی۔کیونکہ عہد حاضر میں ترقی اورتنزلی اسی سے منسوب ہے ۔
جدیدٹکنالوجی بالخصوص کمپیوٹر اور انڑنیٹ کی ترقی نے ابتدا میں یہ تاثر دیا تھاکہ اس سے زبان وادب کے قارئین کم ہوں گے۔ اس سے عالمی رابطے اور کمپیوٹر کی زبان کے علاوہ دیگر زبانیں اپنے دائرے میں سمٹتی چلی جائیں گی۔مگر شکر ہے کہ ایسا نہ ہوابلکہ سائبر اسپیس نے زبان وادب کی ترقی کے نئے امکانات کو روشن کیا اور تیزرفتار ترقی کی راہیں ہموار کیں ۔آج کمپیوٹر کی زبان نہ صرف انگلش ہے بلکہ دنیا کی ترقی یافتہ زبانوں کے پاس بھی یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ کمپیوٹر اور سائبر کی زبان بن سکتی ہیں۔جن ممالک نے انگریزی کے بجائے اپنی زبان کو کمپیوٹر سے ہم آہنگ کیا ہے ، وہ زبانیں تمام تر خدشات کو غلط ٹھہراتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں اور جو زبانیں اب تک اس سے ہم آہنگ نہیں ہوسکیں وہ مقابلتاً پیچھے ہیں۔اس لیے ضرورت ہے کہ اپنی تہذیب و ثقافت کی بقا کے لیے جدید ٹکنالوجی سے زبان کو ہم آہنگ کیاجائے۔
خوشی کی بات یہ ہے کہ ہماری اردوزبان بھی اس لائق ہوچکی ہے کہ وہ جدیدٹکنالوجی سے ہم آہنگ ہوسکے۔اس نے بھی خود کو کمپیوٹر کی زبان بنا لیا ہے ۔ اب آپ کو انٹر نیٹ اور کمپیوٹر کے استعما ل کے لیے کسی اور زبان کے سہارے کی ضرورت نہیں ہے ۔ آپ اپنے پورے کمپیوٹر کو اردو میں منتقل کر سکتے ہیں ، ای میل ، چیٹنگ، براؤزنگ سب اردو زبان میں کر سکتے ہیں ۔ اردو یونی کوڈ کی ایجاد نے یہ ممکن کر دیکھایا ہے ۔اب آپ گوگل یا کسی بھی سرچ انجن میں جاکر اردو میں ٹائپ کریں اور اردو میں جوابات حاصل کریں۔ یہ سب ممکن ہے لیکن مجھے اندازہ ہے کہ ابھی بھی بہت سے لوگ ہیں جو اس کی واقفیت نہیں رکھتے ۔اسی لیے ارود میں ابھی اس کا رواج بہت کم ہے حالانکہ تمامتر سہولیات موجود ہیں ۔عدم واقفیت کے سبب ہم اپنی زبان میں انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کا استعمال نہیں کر پارہے ہیں ۔حالانکہ اس کے لیے کسی اضافی سوفٹ وئیر کی بھی ضرورت نہیں تمام چیزیں انٹر نیٹ پر مفت میں دستیاب ہیں۔صرف چند گھنٹوں میں کمپیوٹر پر اردو کا استعمال سیکھ سکتے ہیں ۔اس لیے میرا خیال ہے کہ اردو کے ادارے اس سمت میں بیداری مہم چلائیں تو سائبر اسپیس میں ‘اردو’ معیاری جگہ بنا لے گی۔
انٹرنیٹ پر اردو میں ڈیجٹل لائبریری اور کئی اہم ادبی ، تہذیبی ، ثقافتی اور تعلیمی سائٹس موجود ہیں ۔ اس کے علاوہ آج کی اردو صحافت کو انٹرنیٹ کے استعمال نے کافی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔اردو کے بیشتر
اخبارات انٹر نیٹ پر موجود ہیں ۔ کئی اخبارات تو ابھی بھی امیج فائل کی شکل میں انٹر نیٹ پر شائع ہو رہے ہیں ۔ مگر زیادہ تر اخبارات یونی کوڈ میں شائع ہورہے ہیں ۔ ان کے مواد بھی طبع شدہ ( کاغذی اخبار سے الگ ہوتے ہیں)۔ ایسے اخبار زیادہ اَپ ڈیٹیڈ ہوتے ہیں کیونکہ کسی واقعے یا حادثے یا اطلاع کو وہ فوراًشائع کرسکتے ہیں۔ اسی لیے انٹرنیٹ پر موجود اخبارات کو لوگ زیادہ پڑھتے ہیں کیونکہ یہاں تازہ ترین حالات معلوم ہوتے رہتے ہیں۔
کمپیوٹر اورانٹرنیٹ فاصلاتی تعلیم و تدریس کے سلسلے میں بھی کافی معاون ثابت ہو رہا ہے ۔ اسباق کی تیاری ، طلبہ تک اس کی رسائی اور طلبہ سے اس کے رد عمل کو اس ٹکنالوجی کی مدد سے جانا جاسکتاہے اوراُن کی ضرورت اور تقاضے کے مد نظر تدریسی مواد تیار کیا جاسکتا ہے ۔ اسی ٹکنالوجی کے سبب یہ بھی ممکن ہو سکا ہے کہ دور بیٹھے طلبہ سے براہ راست مخاطب ہو سکتے ہیں اور ان کے سوالات اور تاثرات کو بھی جان سکتے ہیں۔مجموعی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ جدیدٹکنالوجی نے جہاں زندگی کے تمام شعبوں میں آسانیاں پیدا کی ہیں وہیں اس نے زبان و ثقافت کے حوالے سے بھی نئے امکانات کو روشن کیا ہے اور خوشی کی بات یہ ہے کہ اردو بھی جدیدٹکنالوجی سے پورے طور پر ہم آہنگ ہے۔
زبان کی ترویج وترقی کے لیے سائبر اسپیس کے استعمال کی جہاں تک بات ہے تو یہاں وسائل بے شمار ہیں اور طریقے بھی ہزار ہیں ۔آڈیو ، ویڈیو اور ڈیجیٹل تکنیک کی مدد سے ہم ان مسائل پر بھی قابو پاسکتے۔ اس وسیلے کو اردو ادب اور زبان دونوں حوالوں سے استعمال کرنے کی بہت زیادہ گنجائشیں موجود ہیں ۔ادب کے حوالے سے جو کام اب تک کیے گئے ہیں یا جو کچھ سائبر اسپیس میں موجود ہیں وہ تشفی بخش ضرور ہیں مگر یہ ناکافی ہیں اس میں مزید وسعت کی ضرورت ہے۔اردو ادب کی ڈیجٹل لائبریری ، سیاسی ،ادبی و تہذیبی رسالے، اخبارات اور کتابوں کے مختلف سائٹس موجود ہیں ۔مگر ان میں موضوعاتی سائٹس کی بے انتہا کمی ہے ۔
ویکی پیڈیا جو معلومات کا اہم ذریعہ ہے یہ بھی اردو میں دستیاب ہے۔اِ س ویکی پیڈیا کی شروعات ۲۰۰۵میں ہوئی ۔ لیکن اردو والوں کی بے توجہی کی وجہ سے اب تک اس میں بہت سی چیزیں موجود نہیں ہیں
کیونکہ اس کی تخلیق اشتراک سے ہوئی ہے اور یہ ہماری توجہ کی طلبگار ہے ۔اس ویکی پیڈیا کی وضاحت اور اس کے تعارف کے لیے خود اس کے صفحہ اول میں جو لکھا ہے ملاحظہ فرمائیں:
’’اردو وکیپیڈیا کو رضاکار چلاتے ہیں۔ تمام مصنفین اور مدیر دنیا بھر میں پھیلے ہوئے رضاکار ہیں۔ ویکی پیڈیا ایک ایسی مخزن العلوم ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے اشتراک سے لکھی گئ ہے۔ یہ سائٹ ایک ویکی ویکی ہے، یعنی کوئی بھی کسی بھی مضمون میں ‘صفحے کو ترمیم کریں’ کا لنک کلک کر کہ صفحے میں ترمیم کر سکتا ہے۔ویکی پیڈیا میں ہر قسم کے مختلف مضامین پر معلومات موجود ہیں۔ یہ دیکھنے کے لیے صفحہ اول پر جائیے، اپنی پسند کا مضمون تلاش کیجیے اور تحقیق شروع کر دیجیے۔ ہر صفحے کے اوپر والے حصے میں تلاش کرنے کا خانہ بھی موجود ہے۔اگر آپ کو کوئی مضمون پسند آئے تو آپ اس کے گفتگو والے صفحے پر اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ پہلے ‘صفحے پر گفتگو کریں’ والی لنک کو کلک کریں اور وہاں ‘صفحے کو ترمیم کریں’ والی لنک پر کلک کریں۔ ہمیں آپ کے تاثرات پڑھ کر ہمیشہ خوشی ہوتی ہے۔ اگر آپ کو کچھ مل نہیں رہا تو ہم سے امدادی صفحے پر رابطہ کریں۔ اگر آپ کو کوئی نیا مضمون دیکھنا ہے جو ابھی ہمارے پاس نہیں ہے تو درخواست شدہ مضامین کے صفحے پر موجود فہرست میںاضافہ کر دیں۔‘‘
حوالہ
http://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D9%86%D8%B5%D9%88%D8%A8%DB%81:%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81_%D9%88%DA%A9%DB%8C%D9%BE%DB%8C%DA%88%DB%8C%D8%A7
اور ترتیب و ترمیم کے حوالے سے لکھا ہے کہ:
’’ویکی پیڈیا میں کوئی بھی کسی بھی مضمون میں ترمیم کر سکتا ہے۔ بس ‘صفحے کو ترمیم کریں’ والی لنک پر کلک کریں اور صفحے میں ترمیم کریں۔ اس کے لیے آپ کو لاگ ان ہونے کی بھی ضرورت نہیں۔ہماری مدد کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ ویکی پیڈیا کو کسی بھی دوسری مخزن العلوم کی طرح پڑھیں۔ جہاں آپ کو کوئی چیز صحیح نہ لگے تو ‘صفحے کو ترمیم کریں’ کلک کریں اور غلطی کو صحیح کر دیں۔ غلطی
کرنے سے گھبرائیے مت، کیونکہ یہ غلطی بھی صحیح ہو سکتی ہے۔ ویکیپیڈیا میں ابھی 15,504 مضامین ہیں اور اس تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ آپ نیا مضمون بھی شروع کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو مضمون بگاڑنے سے ڈر لگ رہا ہے تو ریت خانے میں جائیں اور دل بھر کر ترتیب و ترمیم کریں اس صفحے میں کچھ بھی کرنے سے مضمون خراب نہيں ہو سکتا۔آپ پہلے ہماری ہدایات اور حکمت عملی پڑھ لیجئے۔ خاص کر ہماری غیر جانب داری کی حکمت عملی۔ یعنی کہ مضامین میں غیر جانب داری اور غیر طرف داری کا خیال رکھیں۔‘‘
http://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D9%86%D8%B5%D9%88%D8%A8%DB%81:%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81_%D9%88%DA%A9%DB%8C%D9%BE%DB%8C%DA%88%DB%8C%D8%A7
شامل ہونا چاہیں گے؟
ترمیم تو کوئی بھی کر سکتا ہے۔ لیکن اکاؤنٹ بنانے کے فوائد ہیں۔اگر آپ چاہیں تو اکاؤنٹ بنایں اور پھر تعارفی صفحے کے ذریعے سے اپنے آپ کو متعارف کرائیں۔کسی صارف سے رابطہ کے لیے صارف کے “تبادلۂ خیال” کے صفحہ پر پیغام لکھا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ صارف کو برقی خط بھی بھیجا جا سکتا ہے۔
اردو میں دائرۃ المعارف کی جانب سے ارود ویکی پیڈیا لانچ تو ضرور ہوا مگر یہ استناد کے درجے کو نہیں پہنچا ہے اور نہ ہی اس میں وافر معلومات کا ذخیرہ ہے۔کیونکہ اب تک منصوبہ بند طریقے سے اس پر کام نہیں ہوا ہے اسی لیے اردو میں منصوبہ بند طریقے سے قومی کونسل اردو ویکی پیڈیا لانچ کرنے جارہی ہے جس میں خاطر خواہ اور مستند مواد موجود ہوگا لیکن اس کی ترقی قارئین /صارفین کے تعاون سے ممکن ہو سکے گا۔انشا اللہ ماہ اکتوبر تک قومی کونسل اس منصوبے کو مکمل کر لے گی۔
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے آئن لائن اردو لرنگ کے سلسلے میں پیش رفت کی ہے ۔کونسل کا یہ آئن لائن لرنگ سائٹ اردو زبان سیکھنے کے لیے سیلف لرنگ کے اصولوں پر مبنی ہے جس میں ملٹی میڈیا کے سہارے اردوسیکھنے، لکھنے اوربولنے کا طریقہ دستیاب ہے ۔ کوئی بھی شخص کونسل کے اس آئن لائن سائٹ پر اردو لکھنا ، پڑھنا اور بولنا سیکھ سیکھتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ سائٹ تمام تر ضرورتوں کی تکمیل کرتی ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ پیش رفت کا یہ سلسلہ آگے بڑھے گااور صارفین کے فیڈ بیک سے اسے اور بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ قومی کونسل نے کمپیوٹر سیکھنے کے لیے اردو زبان میں آئن
لائن کمپیوٹر لرنگ کی ابتدا مائکروسوفٹ کے ساتھ کی ہے امید ہے یہ اردو جاننے والوں کے لیے ایک اہم تحفہ ثابت ہوگا ۔
اسی طرح قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے اہم کتابوں کو آن لائن کرنے کا بھی سلسلہ شروع کیا ہے جو مستقل بنیادوں پر اپ ڈیٹ ہوتا رہے گا اور عنقریب اردو ویکی پیڈیا لانچ کرنے کا ارداہ ہے جس میں اہم معلومات دستیاب ہوں گی۔ان تمام تفصیلات کے بعد آخر میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ اردو میں ابھی اس حوالے سے بہت کام کرنے باقی ہیں ۔ امید ہے عصری تقاضے کا یہ گوشہ بھی بہت جلد وقت سے ہم آہنگ ہوگا۔
*****

About admin

Check Also

Social Media and Urdu

سوشل میڈیا اور اردو زبان و ادب

پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین سوشل میڈیا اور اردو زبان و ادب زبان کی ترویج …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *